| 88298 | روزے کا بیان | رمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان |
سوال
اختلاف مطالع کے عدم اعتبارکےفتاویٰ جب ظاہر الروایہ سے ماخوذ ہیں، تو ظاہر الروایہ کو ترک کرنے کی کیا وجہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید یہ بات واضح رہے کہ اس مسئلے میں تین اقوال ہیں :
1۔کسی بھی صورت میں مطالع کے مختلف ہونے کا اعتبار نہ کیا جائے یعنی کسی بھی ایک مقام کی رؤیت کو سب کیلئے حجت مانا جائے۔
2۔ بہر صورت مطالع کے مختلف ہونے کا اعتبار کیا جائے۔
3۔ باہم قریب علاقوں میں مطالع کے مختلف ہونے کا اعتبار نہ کیا جائے اور دور دراز کے علاقوں میں اعتبار کیا جائے۔
احناف کی ظاہر الروایۃ اگرچہ مطلقا عدم اعتبار کی ہے لیکن فتوی ہمیشہ ظاہر الروایۃ پر ہونا ضروری نہیں۔کبھی عرف کی تبدیلی سے اور کبھی ضرورت کے پیش نظر فتاوی بدل جاتے ہیں۔مذکورہ مسئلے میں بھی مشائخ متاخرینؒ جیسے علامہ زیلعیؒ ، علامہ کاسانی ؒ، صاحب تجرید اور علامہ جرجانی رحمہم اللہ نے ظاہر الروایۃ کو اختیار کرنے کے بجائےتیسرے قول کی تایید کی ہے۔
مذکورہ مسئلے کے علاوہ بھی دیگر کئی اور مسائل ہیں جہاں ظاہر الروایۃ کو ترک کر کے دیگر روایات پر فتوی دیا جاتا ہے، مثلا اجرت علی التعلیم و الامامۃ کے مسئلے میں ظاہر الروایۃ تو اجرت کے جائز ہونے کی نہیں ہے،لیکن چونکہ جب لوگوں نے سستی کا مظاہرہ کیا اور ان فرائض کی بلا معاوضہ ادائیگی سے انکار کردیا تو اس ضرورت کی پیش نظر حضرات شافعیہ ؒکے قول کو اختیار کرنا پڑا اور اجرت کے جواز کا فتوی دیا گیا۔اسی طرح مذکورہ مسئلے میں بھی حضرات فقہارء کرام ؒنے ظاہر الروایۃ کو درج ذیل وجوہ کی بنیاد پر اختیار نہیں فرمایا۔
1۔بعض اوقات کچھ علاقوں میں دو روز کا بھی فرق آجاتا ہے ۔اگر اایسے میں بھی اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کیا جائے تو عیدالفطر ستائیسویں روز بن سکتی ہے اور اسی طرح دیگر مقامات کیلئے ان کا مہینہ اکتیس اور بتیس روزتک ممتد ہوسکتا ہے۔
2۔متقدمین فقہاء ؒنے عدم اعتبار مطلقا کا جو قول اختیار فرمایا تھا،ان کے سامنے یہ بات تو ضرور ہوگی کہ مشرق اور مغرب میں مطالع مختلف ہوتے ہیں لیکن اُس زمانے میں ایسے وسائل موجود نہ تھے جن کے ذریعےایسی صورت پیش آسکے کہ کوئی آدمی ایک جگہ پر چاند دیکھے اور ایک ماہ کے اندر اندر اتنا فاصلہ طے کر کے کسی ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں مطلع مختلف ہوجائے ۔اس بناء پر ان حضرات نے مذکورہ رائے(مطلقا عدم اعتبار) اختیار فرمائی تھی ۔لیکن بعد میں آنے والوں نے ان کے قول کومذکورہ توجیہ کے ساتھ خاص کئے بغیر اس کا حکم عام خیال کیا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ حضرات متقدمینؒ کا مذہب اجمالی تھا اور اس کی تخصیص کی ضرورت تھی جو حضرات متاخرین ؒنے فرمادی۔
3۔علاوہ ازیں بُعد کی مراد متعین کرنے میں بھی متاخرین حضرات فقہاءؒ کرام کے ما بین اختلاف واقع ہواہے۔علامہ شامیؒ نے ’الجواہر‘ کے حوالے سے ایک ماہ کے سفر کی مدت یا اس سے اکثر ،جبکہ علامہ رملی ؒکے حوالے سے24فرسخ کے اقوال منقول ہیں ۔علامہ بنوری ؒ نے ۵۰۰ شرعی میل کا قول اختیار فرمایاہے۔لیکن قولِ راجح یہی ہے کہ بُعد اور قرب کا ایک لگا بندھا فیصلہ کرنا ممکن نہیں ۔شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی یہی قول اختیار فرمایا ہے اور اپنے مقالہ(رؤیة الهلال)میں اس بات کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے کہ چاند ہر ماہ ایک الگ قوس بناتا ہے ،جو علاقے اس قوس میں آتے ہیں ان کا مطلع ایک ہوتا ہے اور جو اس قوس سے باہر ہوں ،چاہے نہایت کم ہی فاصلہ کیوں نہ ہو تو ان کا مطلع مختلف ہوتاہے۔
معارف السنن :ص:337تا352 میں علامہ بنوری ؒ لکھتے ہیں:
ففى عامة كتبنا اللزوم ولو كان بين البلدتين بعد المشرقين ، ويلقبون هذه المسألة بقولهم : لا عبرة باختلاف المطالع ، وذكروا أن في المواقيت ووقت الفطر لاختلافها عبرة كما في "رد المحتار“ . وقيل : يعتبر اختلاف المطالع فى البلاد البعيدة . قال الزيلعي شارح "الكنز" : وهو الأشبه ، وهو الذي اختاره القدورى في " التجريد “ ، وبه قال الجرجاني . قال الشيخ : وهذا هو الصواب ، ولا بد من تسليم قول الزيلعي وإلا لزم وقوع العيد يوم السابع والعشرين والثامن والعشرين أو الحادي والثلاثين والثاني والثلاثين إذا كان بين البلدتين مسافة بعيدة كالهند والقسطنطينية ، فربما يتقدم طلوع الهلال في بلاد القسطنطينية يومين ، فإذا رؤی الهلال في بلاد الهند بعد رؤية الهلال هناك بليلتين ثم بلغتنا رؤيتهم فإن لزمتنا رؤيتهم لزم تقدم العيد وإن رأى رجل الهلال في القسطنطينية ثم جاءنا قبل العيد فهل يعمل برؤيته أو برؤية أهل بلدنا ؟ لم أجد هذه الصورة في كتبنا ، والظاهر أنه يتبع أهل بلدنا نظيره ما يقوله الشافعية فيمن صلى الظهر فى بلد ثم وصل من فوره إلى بلد لم يدخل وقت أنه يصلى معهم والله أعلم .
قال الشيخ : وكنت قطعت القول بما قاله الزيلعي ثم رأيت في " قواعد ابن رشد “ نقل الإجماع على اعتبار الاختلاف في البلاد البعيدة أيضاً ، وحد البعد مفوض إلى رأى المبتلى به وليس له حد معين ، وذكر الشافعية في تحديده شيئاً.
قال الراقم : والذي يظهر أن الأئمة لم ينقل عنهم إلا قول عدم العبرة للإختلاف مطلقاً من غير فرق بين قرب وبعد ومن غير تفصيل ، وإنما المنقول عنهم قول إجمالى ، ومنشأ ذلك أن طى مسافة بعيدة يختلف في مثلها مطلع الهلال ما كان يمكن في شهر واحد ، نظراً إلى نظام المواصلات في ذلك العهد ، ونظراً إلى النظام المعهود في قطع المسافة عند ذلك ، فما كان يمكن أن يرى رجل الهلال ثم يصل قبل تمام الشهر إلى بلد يختلف مطلعه فكان الحكم هو اللزوم بالوجه الشرعي وعدم العبرة للإختلاف ، فجاء قول عدم العبرة من هذه الجهة، وظاهر أن نفس اختلاف المطالع الشرقية والغربية لم يكن ليخفى على مثل الأئمة حكماء الأمة ، ثم إذا جاء من بعدهم فوسعوا دائرة قولهم إلى مالم يريدوه ، وأخذوا قولهم بأوسع معنى الكلمة عاماً في كل مطلع . وأرى أن هذا غير ملائم ، ولا بد أن يراعى تلك الظروف المحيطة والأحوال المحاطة والأغراض الدائرة في الباب، وليس الجمود على الظاهر من باب التفقه فى مثل هذا أصلاً ...، لكن حكى ابن عبد البر الإجماع على خلافه وقال : أجمعوا على أنه لا تراعى الرؤية فيما بعد من البلاد كخراسان والأندلس اهـ . والمتبادر من نقل الإجماع هو إجماع العلماء من أهل المذاهب دون المالكية خاصة كما يتوهم ، فعلم إذن أن قول الأئمة المجمل مخصوص بالبلاد القريبة التى لا يختلف أفقها اختلافاً فاحشاً.
قال ناقلا عن الفتح:ثم فى ضبط البعد أوجه:أحدها : اختلاف المطالع ، قطع به العراقيون والصيدلاني ، وصححه النووى في " الروضة " و " شرح المهذب" . ثانيها: مسافة القصر ، قطع به الإمام والبغوى، وصححه الرافعي في "الصغير" ، والنووى في شرح مسلم " . ثالثها : اختلاف الأقاليم ، وذكر وجهين آخرين ، وذكر ابن عابدين قدر البعد الذي يختلف فيه المطالع مسيرة شهر فأكثر نقلاً عن الجواهر " ، وحكى عن "شرح المنهاج" للرملي : أنه لا يمكن في أقل من أربعة وعشرين فرسخاً آه . قال الراقم : يعسر التحديد للاختلاف في الآفاق المائلة والمستوية واختلاف العروض وتفاوت سطوح البلاد ارتفاعاً وانخفاضاً ، فالمؤثر في اختلاف المطالع عدة أمور يشكل هناك قانون كلى لضبطها والله أعلم .
وربما يكون قول بعض مشائخنا في الاعتبار لاختلاف مطالع البلاد تفصيل لقول الأئمة وبيان لمحمل قولهم المجمل دون أن يكون هو قولاً جديداً على خلاف المذهب ، ومن ظن قول الأئمة مطلقاً عاماً ظن قول بعض المشائخ شيئاً جديداً في المذهب، وإلا فيمكن أن يكون قول الأئمة خاصاً في الحقيقة، وهؤلاء المشائخ أبدوا خصوصه للناس ، ويؤيد ذلك أن صاحب ” البدائع “ يعتبر اختلاف المطالع في البلاد المتباعدة من غير تنبيه على خلاف في المذهب ، فيقول في ” البدائع“ ( ۲ – ۸۳ ) : فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر ، لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف ، فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر . قال : وحكى عن أبي عبد الله بن أبي موسى الضرير استفى فى أهل اسكندرية، أن الشمس تغرب بها ومن على منارتها يرى الشمس بعد ذلك بزمان كثير ؟ فقال: يحل لأهل البلد الفطر، ولا يحل لمن على رأس المنارة إذا كان يرى غروب الشمس ، لأن مغرب الشمس يختلف كما يختلف مطلعها ، فيعتبر في أهل كل موضع مغربه.
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:
]فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ[ (البقرة: 105)
الصحیح لمسلم 🙁762/2)
عن أبي ھریرة رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ، فإن غمي علیکم فأکملوا العدد." متفق علیہ واللفظ لمسلم.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 321):
والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار.
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
04 /صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


