| 88304 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
نکاح سے متعلق ایک سوال یہ ہے کہ اگر لڑکی انگلش میں دستخط کرتے ہوئے املا کی غلطی کرتی ہے جیسے لڑکی کا صحیح نام’’ Umme Kulsum‘‘ ہے لیکن اس نے’’ Umme Qulsum ‘‘لکھا جو غلط ہے۔ لیکن مولانا نے نام کی تفصیلات کے کالم میں اردو میں صحیح نام ’’ام کلثوم ‘‘لکھا اور لڑکے کانکاح ہو گیا۔کیا اس سے ہونے والےنکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ بعد میں جب لڑکی سے پوچھا گیا کہ اس نے اپنا نام’’ Umme Qulsum‘‘ کیوں لکھا جب کہ صحیح نام ’’Umme Kulsum ‘‘ہے۔ اس نے کہا کہ ٹیچر نے اسکول میں غلطی سے لکھ دیا تھا، اس لئے مجھے ہر جگہ ایسےہی لکھنا پڑتا ہے۔اور اس کی وجہ سے شوہر کے پاسپورٹ پریکسانیت کے لئے وہی غلط نام لکھنا پڑا۔ کیا ایسا کرنے میں کوئی مضایقہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں نکاح بلا شبہ درست ہے۔دستاویز کی ضرورت کی وجہ سے مذکورہ حروف کے ساتھ ہی نام لکھنے میں کوئی مضایقہ نہیں ۔
حوالہ جات
(رد المحتار: 3/ 26)
(إلا إذا كانت حاضرةً الخ ) راجع إلى المسألتين :أي فإنها لو كانت مشارًا إليها و غلط في اسم أبيها أو اسمها لايضرّ؛ لأنّ تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية ؛لما في التسمية من الاشتراك لعارض،فتلغو التسمية عندها، كما لو قال: اقتديت بزيد هذا، فإذا هو عمرو؛ فإنه يصحّ ...، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط .
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
05 /صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


