| 88532 | زکوة کابیان | صدقہ فطر کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
رحمت بیانی نامی کتاب میں جلد اوّل صفحہ 318پر صدقہ فطرکے بارے میں کچھ مسائل کا بیان کئے گئے ہیں، ان کے بارے میں کچھ پوچھناہے۔
* مسئلہ 1: صدقہ فطر واجب ہے ہر مسلمان پر، اگرچہ نابالغ یا مجنون ہو۔ لیکن غنی ہونا کل میں شرط ہے۔
* مسئلہ 2: اگر نابالغ لڑکی جو خدمت کے قابل ہو شادی کرا دی گئی اور شوہر کے حوالے کی گئی، پس اگر وہ لڑکی مسکین ہو تو صدقہ فطر اس پر بالکل واجب نہیں ہے، نہ اس کے باپ پر اور نہ شوہر پر۔
* مسئلہ 3: اگر وہ لڑکی خدمت کے قابل نہ ہو اور نہ اس کی شادی ہوئی ہو، پھر اگر یہ لڑکی مسکین ہو تو اس کا صدقہ فطر باپ پر ہے۔ اگر غنی ہو تو خود ادا کرے۔
میراسوال یہ ہے کہ مسئلہ 1 اور مسئلہ 3 میں تضاد ہے۔پہلے میں کہاگیاہےکہ غنی شرط ہے، لیکن یہاں لڑکی مسکین ہے، پھر باپ پر اس لڑکی کا صدقہ فطر کیوں واجب ہے؟
* مسئلہ 4: اگر باپ فقیر یا مجنون ہو تو اس کا صدقہ فطر بیٹے پر دینا واجب ہے۔
میراسوال یہ ہےکہ یہاں باپ مسکین ہے، حالانکہ غنی کل میں شرط ہےجیسےکہ پہلے مسئلہ میں بتایاگیاہےتو پھر بیٹے پر مسکین باپ کا صدقہ فطرکیوں واجب ہے؟
* مسئلہ 5: مقدارِ نصاب: اگر کسی کے پاس 52.5 تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونا یا 56000 کالدار حاجتِ ضروریہ سے خالی ہو تو اس پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے۔
سوال یہ ہےکہ یہاں (56000) کالدار سے کیا مراد ہے؟ کالدارکیاسونے کے ہوتے ہیں یا چاندی کے؟ اور پاکستانی کتنے روپے بنتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دونوں مسئلوں(پہلے اورتیسرے) میں کوئی تضاد نہیں ہے پہلےوالے مسئلے میں خود بچے اورمجنون پر وجوب کی بات کی گئی ہے اورکہاگیاہے کہ اس کے لیے غنی شرط ہے،باپ پر وجوب کے حوالے سےسرے سے کوئی بات ہی نہیں کی گئی،جبکہ تیسرے مسئلےمیں مسکین بچی کاصدقہ فطروالد پر واجب ہونے کے حوالے سے بات کی گئی ہے اورمطلب یہ ہےکہ لڑکی مسکینہ ہو تو خود اس پر نہیں مگرچونکہ اس کےجملہ خرچے والد پرہوتےہیں،لہذا اس کا صدقہ فطربھی والدپرواجب ہوگا، بشرطیکہ وہ صاحب نصاب ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس پرصدقہ فطر واجب ہوگا اس میں غنی شرط ہےاوروہ غنی ہونے کی صورت میں خود بچہ ہے اورفقیرہونےکی صورت میں اس کا والد،بشرطیکہ وہ صاحب نصاب ہو۔
والدفقیر یا مجنون ہو تو اس کا صدقہ فطربیٹے پر واجب نہیں ہوتا،ہاں اگرتبرعاً دیدے تو درست ہوتاہے،مگرلازم نہیں ہے۔لہذا چوتھے مسئلے میں جویہ کہاگیاہے کہ باپ اگرفقیریامجنون ہوتواس کا صدقہ فطربیٹےپر دینا واجب ہے ،درست نہیں ہے،کیونکہ وجوب کی اصل علت اوروجہ ولایت ہے اور والد پر بیٹے کو ولایت حاصل نہیں ہے،لہذا مسکین باپ کا صدقہ فطربیٹے پر واجب نہیں ہے،ہاں بیٹا اپنی طرف سے تبرعاً دیدے تو گنجائش ہوگی۔
پانچویں مسئلہ میں جو "56ہزارکالدار" کہاگیاہےاس کا مطلب 56ہزارپاکستانی روپے ہیں،کالدار افغانستان میں پاکستانی روپے کو کہاجاتاہے،لہذایہ کاغذی نوٹ ہیں ،سونا چاندی کے نہیں ہیں۔
واضح رہےکہ یہ جو 56ہزارکالدارکی بات کی گئی ہے،یہ اس لیے کی گئی ہوگی کہ اُس وقت اتنے پاکستانی روپے 52.5 تولہ چاندی کےبرابرہونگے،لیکن آج کل ایسانہیں ہے،آج یکم اگست 2025کو 217500پاکستانی روپے ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابرہے،کسی اورتاریخ میں یہ قیمت بھی تبدیل ہوسکتی ہے،لہذازکاة کی تاریخ میں جو612.36 گرام چاندی کی قیمت ہوگی وہی معتبرہوگی۔
حوالہ جات
وفی الشامیة:
"(على كل) حر (مسلم) ولو صغيراً مجنوناً، حتى لو لم يخرجها وليهما وجب الأداء بعد البلوغ (ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم) كما مر.
(قوله: ولو صغيراً مجنوناً) في بعض النسخ: أو مجنونا بالعطف بأو وفي بعضها بالواو، وهذا لو كان لهما مال، قال في البدائع.
وأما العقل والبلوغ فليسا من شرائط الوجوب في قول أبي حنيفة وأبي يوسف، حتى تجب على الصبي والمجنون إذا كان لهما مال ويخرجها الولي من مالهما، وقال محمد وزفر: لاتجب فيضمنها الأب والوصي لو أدياها من مالهما اهـ وكما تجب فطرتهما تجب فطرة رقيقهما من مالهما، كما في الهندية والبحر عن الظهيرية. (قوله: حتى لو لم يخرجها وليهما) أي من مالهما. ففي البدائع أن الصبي الغني إذا لم يخرج وليه عنه فعلى أصل أبي حنيفة وأبي يوسف أنه يلزمه الأداء؛ لأنه يقدر عليه بعد البلوغ. اهـ.قلت: فلو كانا فقيرين لم تجب عليهما بل على من يمونهما كما يأتي. والظاهر أنه لو لم يؤدها عنهما من ماله لا يلزمهما الأداء بعد البلوغ والإفاقة لعدم الوجوب عليهما". (کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر ج نمبر ۲ ص نمبر ۳۵۹،ایچ ایم سعید)
صحيح البخاري ـ حسب ترقيم فتح الباري - (4 / 6):
"وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : لاَ صَدَقَةَ إِلاَّ عَنْ ظَهْرِ غِنًى".
مسند أحمد بن حنبل - (2 / 230):
"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا صدقة الا عن ظهر غني واليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول".
وفی العالمگیریة:
وتجب عن نفسه وطفله الفقير كذا في الكافي والمعتوه والمجنون بمنزلة الصغير سواء كان الجنون أصليا أو عارضيا ، وهو الظاهر من المذهب كذا في المحيط۔ ثم إذا كان للولد الصغير أو المجنون مال فإن الأب أو وصيه أو جدهما أو وصيه يخرج صدقة فطر أنفسهما ورقيقهما من مالهما عند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى ۔۔۔۔ولا يؤدي عن زوجته ، ولا عن أولاده الكبار ، وإن كانوا في عياله ، ولو أدى عنهم أو عن زوجته بغير أمرهم أجزأهم استحسانا كذا في الهداية۔ وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان ۔ ۔۔۔۔ ولا يؤدي عن أجداده وجداته ونوافله كذا في التبيين . ولا يلزم الرجل الفطرة عن أبيه وأمه ، وإن كانا في عياله ؛ لأنه لا ولاية له عليهما كالأولاد الكبار كذا في الجوهرة النيرة۔ ولا يجب أن يؤدي عن أخواته الصغار ، ولا عن قرابته ، وإن كانوا في عياله كذا في فتاوى قاضي خان.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


