03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یکے بعد دیگرےمرنے والے والے چارمیتوں کے ورثا کےدرمیان تقسیم میراث
88407میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک تین سو گز کا مکمل  مکان جو زمینی اور پہلی منزل پر مشتمل ہے، ہمارے والد کو وراثت میں ملا تھا،پھر ان کی وفات کے بعد ورثا کی مشترکہ ملکیت میں آگیا،والد کے ورثا میں ایک بیوہ اور  کل 13 بچےتھے ،جن میں سے 5 بیٹے اور 8 بیٹیاں تھیں۔

  1989ء میں ان تمام بہن بھائیوں نے والدہ  کی رضا مندی کےساتھ قانونی طریقہ کار کے مطابق مکان کے کاغذات بڑے بیٹے محمد راشد خان غوری کے نام منتقل کردئیے ،جس کے نتیجے میں انہیں عدالت کی طرف سے مالک مکان ڈیکلیئیر کردیا گیا۔

  2003ء میں بیوہ خاتون کے ایک بیٹے ساجدخان کا انتقال ہوگیا، پھر 2016 ءمیں ان کے  بڑے بیٹے  محمدراشد غوری کا بھی انتقال ہوگیا،ان کے انتقال کے بعد بقیہ تمام بہن بھائی اور راشد خان غوری کی بیوہ اور قدیرن خاتون  کے نام مکان کی مشترکہ موٹیشن بنائی گئی  ،پھر 2021ء میں بیوہ خاتون( یعنی قدیرن) کا بھی انتقال ہوگیا،اب اس تمہید کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1۔والد کی وفات کے بعد ان کی میراث کیسے تقسیم ہوگی،یعنی کسے کتنا حصہ ملے گا؟

2۔ محمد راشدخان غوری(مرحوم) کی کوئی  اولاد نہیں ہے فقط اہلیہ ہیں۔

3۔ محمد ساجد خان غوری( مرحوم) کے تین بچے اور ایک بیوہ خاتون ہیں۔

4۔شریعت محمدیہ کی رو سے موجودہ مشترکہ جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟اور باقی موجود حصہ داروں کے مابین تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

5۔کیا دونوں مرحومین بھائیوں کی آل و اولاد کا حصہ بنتا ہے؟اگر بنتا ہے تو کتنا؟

تنقیح: مذکورہ مکان ہاؤس بلڈنگ فائنانس سے لون لینے کے لئے  انتظامی طور پربڑے بیٹے کے نام کیا گیا تھا،عملی طور پر پورے مکان کا قبضہ انہیں نہیں دیا گیا تھا ،علاوہ ازیں اس کے والد کا انتقال  تو بہت پہلے ہوچکا ہے،جبکہ 2003ء میں ساجد خان کا انتقال ہوا،پھر 2016 ء میں راشدخان کا انتقال ہوا،اس کے بعد 2021 ء میں ان کی والدہ قدیرن خاتون کا انتقال ہوا،ساجدخان کے ورثا میں ان کی والدہ ،دو بیٹے ،ایک بیٹی اور ایک بیوہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ لوگوں نے مذکورہ مکان کےصرف کاغذات انتظامی طور پر بڑے بیٹے راشد خان غوری کے نام منتقل کئے تھے،مکان انہیں ہبہ نہیں کیا تھا،یہی وجہ ہے کہ کاغذات کے ان کے نام متقلی کے بعد بھی عملی طور پر مکان تمام ورثا کے قبضے میں رہا،اس لئے یہ مکان بدستور شرعی حصوں کے مطابق تمام ورثا کی مشترکہ ملکیت رہا،لہذا  جو ورثا وفات پاگئے ہیں،ان کا حصہ ان کی وفات کے وقت موجود ورثا میں تقسیم ہوگا،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

والد حنیف خان کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ (وہ سونا،چاندی،جائیداد،یا ان کے علاوہ کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز مذکورہ مکان سمیت جو وفات کے وقت ان کی ملکیت میں تھی سب ان کا ترکہ ہے) حسب ذیل طریقے سے تقسیم ہوگا:

ٕنمبرشمار

ٕوارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

قدیرن خاتون

18/144

12.5%

2

راشدخان

14/144

9.7222%

3

شاہدخان

14/144

9.7222%

4

ساجدخان

14/144

9.7222%

5

ناصرخان

14/144

9.7222%

6

عدنان خان

14/144

9.7222%

7

سیماغوری

7/144

4.8611%

8

بشری غوری

7/144

4.8611%

9

فرحت غوری

7/144

4.8611%

10

طلعت غوری

7/144

4.8611%

11

نگہت غوری

7/144

4.8611%

12

نزہت غوری

7/144

4.8611%

13

رفعت غوری

7/144

4.8611%

14

ثروت غوری

7/144

4.8611%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یعنی والد کے ترکہ کو کل 144 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،جن میں 18 حصے(12.5%)ان کی بیوی یعنی آپ کی والدہ کو ملیں گے،اس کے بعد جو حصے بچ جائیں ان میں سے14 حصے(9.7222%)ہر ہربیٹے کو اور 7 حصے (4.8611%)ہر ہر بیٹی کو ملیں گے۔

ساجد خان مرحوم کو ان کے مرحوم والد کی جائیداد میں سے جو (9.7222%) ملا تھا ،اس میں ان کے ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

ٕنمبرشمار

ٕوارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

نعیمہ

15/120

1.2152%

2

قدیرن خاتون

20/120

1.6203%

3

محمداشمال خان

34/120

2.7546%

4

محمدطلحہ خان

34/120

2.7546%

4

عیشاء غوری

17/120

1.3773%

 

 

 

 

 

 

 

 

واضح رہے کہ اولاد کے ہوتے ہوئے بہن بھائیوں کو میراث میں حصہ نہیں ملتا،اس لئے مذکورہ صورت میں بھی ساجد خان کی اولاد کی وجہ سے اس کے بہن بھائیوں کا اس کی میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

3۔ راشدخان کو ان کے مرحوم والد کے ترکہ میں سے جو حصہ (9.7222%) ملا تھا،اس میں ان کے ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

ٕنمبرشمار

ٕوارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

درخشاں

6/24

2.4305%

2

قدیرن خاتون

4/24

1.6203%

3

شاہدخان

2/24

0.8102%

4

ناصرخان

2/24

0.8102%

5

عدنان خان

2/24

0.8102%

6

سیماغوری

1/24

0.4051%

7

بشری غوری

1/24

0.4051%

8

فرحت غوری

1/24

0.4051%

9

طلعت غوری

1/24

0.4051%

10

نگہت غوری

1/24

0.4051%

11

نزہت غوری

1/24

0.4051%

12

رفعت غوری

1/24

0.4051%

13

ثروت غوری

1/24

0.4051%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قدیرن خاتون کو ان کے شوہر اور ان سے پہلے وفات پانے والے دوبیٹوں کے ترکہ میں سے جو حصہ(15.7406%) ملا تھا،اس میں ان کے ورثا کے حصوں کی تفصیل حسب ذیل ہے:

ٕنمبرشمار

ٕوارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

شاہدخان

2/14

2.2486%

2

ناصرخان

2/14

2.2486%

3

عدنان خان

2/14

2.2486%

4

سیماغوری

1/14

1.1243%

5

بشری غوری

1/14

1.1243%

6

فرحت غوری

1/14

1.1243%

7

طلعت غوری

1/14

1.1243%

8

نگہت غوری

1/14

1.1243%

9

نزہت غوری

1/14

1.1243%

10

رفعت غوری

1/14

1.1243%

11

ثروت غوری

1/14

1.1243%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

واضح رہے کہ قدیرن خاتون کے ترکہ میں  سےصرف ان ورثا کو حصہ ملے گا جو ان کی وفات کے وقت زندہ تھے،جن دوبیٹوں(ساجدخان اور راشدخان) کا ان سے پہلے انتقال ہوچکا ہے،ان کا اوران کے ورثا کا ان کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق حنیف خان  مرحوم کے مکان میں زندہ ورثا کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

نمبرشمار

ورثا کے نام

فیصدی حصہ

1

شاہدخان

12.781%

2

ناصرخان

12.781%

3

عدنان خان

12.781%

4

سیماغوری

6.3905%

5

بشری غوری

6.3905%

6

فرحت غوری

6.3905%

7

طلعت غوری

6.3905%

8

نگہت غوری

6.3905%

10

نزہت غوری

6.3905%

11

رفعت غوری

6.3905%

12

ثروت غوری

6.3905%

13

نعیمہ

1.2152%

14

محمداشمال خان

2.7546%

15

محمدطلحہ خان

2.7546%

16

عیشاء غوری

1.3773%

17

درخشاں

2.4305%

حوالہ جات

"الدر المختار " (5/ 688):

"(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

21/صفر1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب