03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کےمطالبہ میں” ہاں ٹھیک ہے”کہا،بعدمیں تین طلاق کاطلاق نامہ بنوالیاتوکیاحکم ہے؟
88372طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

سوال: مجھے اپنا ایک مسئلہ پوچھناہے ، میری شادی 5 سال  پہلے ہوئی تھی ،جس کے بعد میری اہلیہ نے خلع کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا تھا اور عدالتی حکم پر ہم ساتھ نہیں رہ  رہےتھے،اس دوران میری بیٹی کی پیدائش ہوئی،ایک سال کےبعد ہم نےمفتی صاحب سےپوچھ کرتجدیدنکاح کرلیاتھا،لیکن اس کےبعدتقریبادوسال ہنسی خوشی رہتےرہے،ہمارےہاں دوسری بیٹی کی بھی پیدائش ہوئی ،روزکی لڑائی جھگڑےمیں کچھ بات بڑھ گئی اورگھرمیں حالات خراب ہونےلگے،کیونکہ ہم اپنےبھائیوں کےساتھ رہتےتھے،اس وجہ سےاکثربات بہت بڑھ جاتی تھی،ایک دودفعہ میری اہلیہ نےمجھ سےطلاق کامطالبہ کیا،جس پرمیں نےکہاکہ" ہاں ٹھیک ہے"،یا"دیکھیں گے"۔

اب مسئلہ یہ ہےکہ ایک سال پہلےمیں نےان کوطلاق کےالفاظ کہے،جس پرمفتیان کرام نےبھی کہاکہ ایک ہوگئی ہے،مسئلہ یہاں یہ آرہاہےکہ پھرمیں نےغصےمیں اس بات کااعتراض کیاکہ جومیری اہلیہ نےباربارطلاق کاپہلےمطالبہ کیاتھاوہ بھی تونہیں ہوگئی ؟اس سلسلےمیں جامعۃ الرشید سےتحریری فتوی بھی لیاتھا،جس کامتن یہ تھاکہ (اگرنیت طلاق کی تھی توہوگئی،اگر"ہاں ٹھیک ہے"کہاہو)لیکن اللہ گواہ ہے مجھےیادنہیں کہ کیاکہاتھااورغالبااسی مسئلہ میں میں نےغصےمیں غلط بیانی سےکام لیاکہ میں نے"ہاں ٹھیک ہے"کہاتھا،ابھی حالیہ ملاقات میں میری اہلیہ نےکہاکہ بچی کی قسم کھاکرکہوکہ اس وقت طلاق کی نیت تھی اوردی تھی ،جس پر میرےضمیر نےگوارانہیں کیا،اسی ضد میں ایک سال سےہم ساتھ بھی نہیں رہ رہےتھے،میں یہ سمجھتارہاکہ شاید ہوگئی ہے،اس سےوجہ سےہم ساتھ نہیں رہ رہےتھے،پھر گھروالوں کی ضدپروکیل بھی کیاکہ جس نےطلاق نامہ تیارکیاتھااورپھروہ دستخط بھی کروائےگئے، اصولایہ طلاق نامہ  میری اہلیہ کو بھی ملنا چاہیےتھاکہ یہ معاملہ ہے،پران کو عدالت میں بھی طلاق نامہ نہیں ملا،ہوسکتاہےکہ وکیل سےگم ہوگیاہو،جس پر مجھ سےیہ کہہ کر دستخط کروائےگئے کہ تم نے اس کی طرف سےطلاق مانگنےپر ہاں کہاتھا، لیکن ہاں کہنےکےمعاملہ میں  جس طرح غلط بیانی ہوئی،اس پرمجھے بھی ملامت ہے ،یہ میری غلطی تھی،جس پرمیری اہلیہ ابھی تک صدمےمیں ہیں کہ میں نےایساکب کہاہےاوراگرکہابھی تو اس کےبعد بھی ہم روزمرہ کی طرح میاں بیوی کےدرمیان معاملات کرتےرہے،اس مسئلہ میں میری مددکریں اوراگرکوئی بھی گنجائش ہوتوراہنمائی کی جائےکہ  میں رجوع کرکےاس کےساتھ اوراپنےچھوٹےبچوں کےساتھ رہ سکوں،میری دوچھوٹی بیٹیاں بھی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

داراالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی سے5مئی 2024 کی تاریخ کےساتھ جاری شدہ سابقہ فتوی   کےمطابق آپ کو رجوع یانکاح  کا اختیاردیاگیا تھا،لیکن چونکہ آپ نےاس کےبعد29مئی 2024کوطلاق نامہ بنوایاہے،اوراس پرآپ کےاپنےدستخط بھی موجود ہیں تو اس طلاق نامہ کی وجہ سےتین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں،بلکہ طلاق نامہ کی تحریر کےمطابق آپ نےاس سےپہلے12اپریل کوزبانی تین طلاقیں دیدی تھیں،اگریہ بات صحیح ہےتوآپ کی بیوی پر12 اپریل سےہی تین طلاق واقع ہوچکی تھیں،اس کےبعد آپ دونوں کاساتھ رہناشرعاجائزنہیں تھا،لہذاآپ دونوں جتناعرصہ ساتھ رہے،حرام کاری کا گناہ  کرتےرہے،آپ دونوں پر لازم ہےکہ  اس سنگین گناہ پر توبہ واستغفارکریں اورایک دوسرےسےفوراعلیحدگی اختیارکریں۔

واضح رہےکہ جب شوہرکی طرف سےطلا ق نامہ بنوایاگیاہوتواس میں طلاق واقع ہونےکےلیےشرعایہ ضروری نہیں کہ بیوی کووہ طلاق نامہ موصول بھی ہو،لہذااگرپہلےزبانی طلاقیں نہ دی ہوں تو شوہرنےجس تاریخ کوطلاق نامہ بنوایااوراپنےدستخط کردیے،شرعااسی تاریخ سےبیوی کوطلاق ہوچکی ہے،اگرچہ بیوی کو طلاق نامہ پہنچا  نہ ہو۔

اب موجودہ صورت میں بغیرحلالہ شرعیہ کےدوبارہ نکاح بھی شرعانہیں ہوسکتا، حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ مطلقہ عورت عدت گزارنے کے بعدکسی  اورمردسےباقاعدہ غیرمشروط  نکاح کرےاورپھرہمبستری کےبعدکسی وجہ سے دوسراشوہر طلاق دیدے یااس کاانتقال ہوجائے توپہلی صورت میں عدت طلاق اوردوسری صورت میں عدت وفات گزارنے کے بعدسابقہ شوہر سے نئے مہراورگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیاجاسکتاہے۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" 8 / 357: ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة ۔

"ھدایۃ " 2 /378:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمدبن عبدالرحیم 

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

06/صفر1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب