03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حیض بند کروانے کے لئے آپریشن کروانے کا حکم
88317پاکی کے مسائلحیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان

سوال

میری بیٹی کو پیدا ہوتے ہی برین ہیمرج (دماغ کا ایک حصہ ڈیمیج) ہوا تھا، جس کی وجہ سے اُس کا دایاں حصہ فالج کا شکار ہو گیا ، جو اب تک ویسا ہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُسے مرگی کے دورے بھی پڑنے لگے تھے جو ابھی تک پڑتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں وہ خود کو بالکل نہیں سنبھال سکتی اور واش روم استعمال کرنے میں بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب میری بیٹی 12 سال کی ہو گئی ہے اور اُس کی حیض (پیریڈز) شروع ہونے کی عمر ہے۔ لیکن اُس کی ذہنی اور جسمانی صحت ایسی نہیں ہے کہ وہ اس صورتحال کو سنبھال سکے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اُس کا آپریشن کروا کے پیریڈز کا سلسلہ بند کروا دیں۔

آپ  شریعت کی  روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا اُس کی دماغی اور جسمانی حالت کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا درست ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے جس طرح مردوں کے لیے خصی ہونا جائز نہیں،  اسی طرح عورتوں کے لئے ایسا آپریشن کرواناجس سے ہمیشہ کےلئےقوت تولید ختم ہوجائے اوربچہ پیدا کرنےکی صلاحیت ہی باقی نہ رہے،جیسے:بچہ دانی جسم سےنکلوادی جائے یا نص بندی کی جائے،شرعاً جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ساخت میں مستقل تبدیلی (تغییرخلق اللہ) اور ایک عضو کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، جو کہ شرعاً  ممنوع ہے۔ تاہم اگر شدید مجبوری اور ناگزیر شرعی عذر موجود ہو،جس میں انسان کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا عضو کا سڑ جانا یا  کوئی مؤذی مرض ( جیسے کینسروغیرہ ) کے لاحق ہوجانے کا خطرہ ہو ،تو ایسی صورت میں ’’اَہْوَن الْبلیتَیْن‘‘ (یعنی دو برائیوں میں سے کم تر کو اختیار کرنا) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے رحم نکالنے کی گنجائش دی جا سکتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں آپکی بیٹی کو اگرچہ مذکورہ امراض لاحق ہیں، لیکن   حیض بند کروانے کیلئے ایسا کوئی عذر موجود نہیں جس کی وجہ سے اس کی جان کو خطرہ ہو    یا اس کے کسی عضو  کے تلف ہونے یا دیگر کوئی مؤذی مرض لاحق ہونے کا خدشہ ہو۔لہٰذا حیض کو مستقل طور پر بند کروانے کے لئے بچہ دانی نکالنے یا دائمی نص بندی کا آپریشن کرانا جائز نہیں۔البتہ ایسی صورتِ حال میں   حیض رُکوانے کے لئے وقتاً فوقتاً   تدابیر(دوائیاں  یا ہارمونی علاج وغیرہ)  اختیار کرناجائز ہیں۔

حوالہ جات

۔القرآن الکریم(النساء:119)

قال اللہ تعالیٰ: ولاضللنهم ولأمنينهم ولآمرنهم فليبتكن آذان الانعام ولآمرنهم فليغيرن خلق اللہ۔

الكشاف (1/ 463) آ

وتغييرهم خلق الله : فقء عين الحامي وإعفاؤه عن الركوب . وقيل : الخصاء ، وهو في قول عامة العلماء مباح في البهائم . وأما في بني آدم فمحظور.

صحيح البخاري (5/ 1952)

حدثنا أحمد بن يونس حدثنا إبراهيم بن سعد أخبرنا ابن شهاب سمع سعيد بن المسيب يقول سمعت سعد بن أبي وقاص يقول رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا۔

صحيح البخاري (6/ 53)

 عن عبد الله رضي الله عنه، قال: " كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وليس معنا نساء، فقلنا: ألا نختصي؟ فنهانا عن ذلك.

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

07/صفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب