03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
88278میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محمد صدیق اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا،ترکہ میں ساڑھے اٹھارہ ایکڑ زمین چھوڑی ،مرحوم کی زوجہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے،ورثاء  میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، اس کے علاوہ مرحوم کے چار بھائی اور ایک بہن بھی ہے، برائے مہربانی ترکہ کو ورثاء کے درمیان تقسیم کریں۔

(تنقیح:  زوجہ کا انتقال مرحوم کے انتقال سے  پہلے ہو چکا تھا۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سب سے پہلے میت کے ترکہ میں سے کفن دفن کے مناسب اخراجات ادا کیے جائیں گے ، (بشرطیکہ کسی نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو۔)  اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض کی ادائیگی کی جائے گی  ،اوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (3/1)  حصے تک اس پر عمل کیا جائے گا،اس کے بعد جو مال بچے گا، وہ ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ میں جائیداد کے کل نو(9) حصے بنائے جائیں  گے ،ہر بیٹے کو دو حصے ملیں گے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا،چونکہ  میت کی  نرینہ اولا د  موجود ہے، لہذا میت کے بہن بھائی میراث کے حقدار نہیں ہیں۔

نقشہ برائے تقسیم میراث

ورثاء

کل حصے

فیصدی حصہ

پہلا بیٹا

2

22.2222 %

دوسرابیٹا

2

22.2222%                                                                        

تیسرا بیٹا

2

22.2222 %

چوتھا  بیٹا

2

22.2222 %

بیٹی

1

1

 

 

 

 

 

 

یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب  تمام جائیداد کی قیمت مساوی ہے۔

 اگر جائیداد کے مختلف قطعوں کی   قیمتیں مختلف ہوں، تو زمین کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہےکہ یا تو  یکساں مالیت والے قطعوں    کو الگ الگ تقسیم کیا جائے،  یا  زمین قیمت کے اعتبار سے تقسیم کی جائے ۔

حوالہ جات

(النساء : ١٢)

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ .....

الفتاوى الهندية (6/ 448):

وإذا ‌اختلط ‌البنون ‌والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

رد المحتار ط الحلبي (6/ 774):

‌ثم ‌العصبات ‌بأنفسهم ‌أربعة ‌أصناف ‌جزء ‌الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل).

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

05/صفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب