| 88112 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
عموما رہائشی ہوٹلز میں ایڈوانس بکنگ کا نظام رائج ہوتاہے ، جس کے تحت گیسٹ سے کچھ یاپوری رقم پیشگی وصول کی جاتی ہے ۔اگر گیسٹ طے شدہ دن سے پہلے کسی وجہ سے اپنی بکنگ منسوخ کرانا چاہے تو ہوٹل انتظامیہ ایڈوانس رقم میں سے کچھ کٹوتی کر لیتی ہے ۔ بعض اوقات ہوٹل والے یہ موقف اختیار کرتےہیں کہ انہوں نے گیسٹ کیلئے کچھ انتظامات یا اخراجات پہلے ہی کیے تھے، جیسے صفائی، اشیاء کی تیاری اور ریزرویشن کا بندوبست وغیرہ تو کیا شرعا ہوٹل کے لئے ایڈوانس رقم کا کچھ حصہ کاٹ لینا جائز ہے ؟مزید یہ کہ بعض ہوٹلزشروع ہی سے یہ شرط رکھتے ہیں کہ ایڈوانس رقم واپس نہیں کی جائےگی ۔کیا اس حوالے سے رہائشی ہوٹلز اور کھانے کے ہوٹلز میں فرق ہوگا ؟ شادی ہال وغیرہ کی بھی وضاحت کردیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رہائشی ہوٹل اور مکان کی ایڈوانس بکنگ کی فقہی حیثیت اس ہوٹل یا مکان کے کرایہ پر دینے کے وعدہ کی ہے اور اس ایڈوانس رقم کی حیثیت بیعانہ کی ہے۔ بیعانہ ضبط کرنا شرعاً ناجائز ہے ،کیونکہ اس کی شرعی حیثیت امانت کی ہے، لیکن چونکہ رقم جمع کروانے والے کی طرف سے عموما اس رقم کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے، اس لے یہ بالآخر قرض کے حکم میں ہے۔
مذکورہ صورت میں اگر گیسٹ کسی ہوٹل میں ایڈوانس رقم جمع کرکےپھر طے شدہ وقت سے پہلے اپنی مرضی سے بکنگ منسوخ کردے توشرعی طور پر یہ جائز ہے کہ ہوٹل انتظامیہ کچھ رقم کی کٹوتی کرے، بشرطیکہ یہ کٹوتی حقیقی اخراجات کی تلافی کے طور پر ہو (مثلاً صفائی، ریزرویشن اور تیاری وغیرہ)،کیونکہ شریعت میں اگر کسی فریق کے وعدہ کی وجہ سے دوسرے کو مالی نقصان پہنچےتو وہ نقصان اس سے پورا کروانا شرعاً جائز ہے۔اگر ہوٹل انتظانیہ بغیر کسی خرچ کے محض شرط کی بنیاد پر پوری ایڈوانس رقم ضبط کرلے تو یہ جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ تعزیرِ مالی ہےجوکہ راجح قول کے مطابق ناجائز ہے اوردوسروں کا مال باطل اور ناحق طریقے سے کھانے میں داخل ہے۔
لہٰذا درست طریقہ یہ ہے کہ اگر کچھ خرچ ہوا ہوتو اس کے مطابق رقم منہا کی جائے،اوراگر ابتداء یہ شرط لگالے کہ کہ ایڈوانس رقم ناقابل واپسی ہوگی ،چاہے گیسٹ آئے یا نہ آئےتو یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ مالی تعزیر اور جرمانے کی صورت ہے جو کہ شرعا ناجائز ہے۔ اور یہی صورت حال شادی ہال وغیرہ کی بھی ہے کہ جہاں اگر کچھ خرچ ہوا ہو تو اس کے مطابق رقم منہا کی جائےاور یہ کٹوتی حقیقی اخراجات کی تلافی کے طور پر ان کے اخرجات کے برابر ہو،اس سے زائد رقم کی کٹوتی جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (7/ 5218):
المراد ببيع العربون: بيع السلعة مع دفع المشتري مبلغا من المال إلى البائع على أنه إن أخذ السلعة احتسب المبلغ من الثمن وإن تركها فالمبلغ للبائع.ويجري مجرى البيع الإجارة، لأنها بيع المنافع.
«الموسوعة الفقهية الكويتية» (9/ 95):
«وإن لم يشتر السلعة، لم يستحق البائع الدرهم، لأنه يأخذه بغير عوض، ولصاحبه الرجوع فيه.
ولا يصح جعله عوضا عن انتظاره، وتأخر بيعه من أجله، لأنه لو كان عوضا عن ذلك، لما جاز جعله من الثمن في حال الشراء، ولأن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه، ولو جازت لوجب أن يكون معلوم المقدار، كما في الإجارة»
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 61):
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
16/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


