| 88316 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا نام سیف اللہ نثار ولد نثار علی ہے۔ اپنی بیوی کی بدتمیزی کو میں گزشتہ چھ سال سے صبر کے ساتھ برداشت کرتا آ رہا ہوں۔ وہ میرے سامنے میرے والدین کے ساتھ بدتمیزی کرتی رہی ہے، لیکن میں نے بچوں کی خاطر ہمیشہ برداشت کیا۔ کئی بار اُس نے مجھ پر ہاتھ بھی اُٹھایا اور گالیاں بھی دیں۔آخرکار، بہت زیادہ تنگ آکر میں نے عدالت کے ذریعے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ میری بیوی کے گھر والے بہت خطرناک ہیں، اُس کا بھائی قتل کے الزام میں جیل بھی کاٹ چکا ہے۔ اس خوف کی وجہ سے طلاق کے بعد میں کراچی سے باہر چلا گیا۔ عدت پوری ہو چکی تھی۔بعد میں میری بیوی کے ماموں سے فون پر بات ہوئی، جہاں میں نے اپنی دو بیٹیوں کے بارے میں پوچھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ بچیاں بیمار ہیں اور مجھے ملنے کے لیے بلایا۔ انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر تم نہ آیا تو بیوی بچیوں کو زہر دے دے گی۔ مجبوراً میں کراچی واپس آیا، جہاں ماموں نے ملاقات کا انتظام کیا۔اس ملاقات میں میری بیوی بھی موجود تھی لیکن میں اس سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ پھر اُس کے ماموں اور والدہ نے کہا کہ کوئی حل نکالتے ہیں۔ میں نے والد صاحب سے بات کی کہ دوبارہ نکاح کر لوں تو انہوں نے کہا کہ تم تین طلاق دے چکے ہو، دوبارہ نکاح کرنا گناہ ہے۔بعد میں میں بیوی کے ماموں اور والدہ کی باتوں میں آ گیا اور میرے والدین مجھ سے ناراض ہوگئے۔
اس کے بعد بیوی کے ماموں نے حلالہ کے لیے ایک آدمی بلایا اور فوراً نکاح پڑھایا۔ اُس آدمی کو تقریباً چالیس منٹ کے لیے بیوی کے ساتھ کمرے میں چھوڑا گیا۔ بعد میں اُس نے طلاق دی اور چلا گیا۔جب میں نے بیوی سے پوچھا کہ اُس آدمی نے کیا کیا تو اُس نے بتایا کہ اُس نے پاخانہ کے راستے سے ہمبستری کی۔ میں نے یہ بات کسی اور سے ذکر نہیں کی۔تقریباً دو ماہ بعد ماموں اور اس کی والدہ مجھے عدالت لے گئے اور وہاں دوبارہ میرا نکاح بیوی سے کروا دیا۔ میں بار بار کہتا رہا کہ میرے والدین سے بات کرلو، مگر انہوں نے میری بات نہ مانی۔
کورٹ کے نکاح میں انہوں نے زبردستی میرے انکار کے باوجود شرائط لکھوائیں کہ اگر میں بیوی کو چھوڑ کر جاؤں تو پچیس لاکھ روپے جرمانہ اور 120 گز مکان دینا ہوگا۔ اس دوران نہ میرا کوئی وکیل تھا اور نہ میرے والدین موجود تھے، صرف وہ لوگ تھے۔بعد میں میں نے امام مسجد سے تمام تفصیل بتائی اور دیگر لوگوں سے بھی پوچھا تو سب نے کہا کہ یہ نکاح اور حلالہ کا عمل ناجائز اور زنا کے مترادف ہے۔ اب میں صرف بچوں کی خاطر اس کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ والدین آج تک مجھ سے ناراض ہیں۔ ہمارا تعلق دیوبند علماء سے ہے جبکہ سسرال بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے۔براہِ کرم مجھے اس مسئلے کا شرعی حل بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد بیوی شوہر پر بالکل حرام ہو جاتی ہے اور اس حالت میں رجوع یا دوبارہ نکاح جائز نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں بیوی سے رابطہ رکھنا ،دوبارہ نکاح کا انتظام کرنا یا نکاح کرکے اس کو اپنے ساتھ رکھنا حرام ہے اور اگر ازدواجی تعلق قائم کیا جائے تو وہ زنا کے حکم میں آتا ہے۔ لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ فوراً توبہ و استغفار کریں اور الگ ہو جائیں۔
صورتِ مسؤلہ میں جیسا کہ آپ نے ذکر کیا یہ نکاح شرعاً درست نہیں ہے۔کیونکہ تین طلاق کے بعد نکاح اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ عورت کسی اور شخص سے نکاح کر لےاور اس سے صحیح اور فطری طریقے سے ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اتفاقا اسے طلاق ہوجائے یا وہ شوہر فوت ہوجائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے باہمی رضا مندی سے نکاح کریں ،اس سے ہٹ کر طلاق ثلاثہ کے بعد حلالہ کو معمول کا عمل سمجھ کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا جیساکہ صورتِ مسئولہ میں کیا گیا ہے،تو ایسا کرنا حرام ہے۔
نیز صورت مسئولہ میں حلالہ اس وجہ سے بھی درست نہیں ہوا کہ اس میں صحیح اور فطری طریقے سے ہمبستری نہیں کی گئی ۔لہٰذا آپ کا موجودہ نکاح باطل ہے اور آپ پر لازم ہے کہ فوراً توبہ و استغفار کرکے اس عورت سے علیحدگی اختیار کریں ،نیز کورٹ کے نکاح میں انہوں نے زبردستی جو شرائط لکھوائیں کہ اگر آپ بیوی کو چھوڑ کر جائیں گے تو پچیس لاکھ روپے جرمانہ اور 120 گز مکان دینا ہوگا،اس کا بھی شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
حوالہ جات
«شرح الزيادات - قاضي خان» (2/ 414):
«ولو تزوج امرأةً نكاحا فاسدا، فأتاها في دبرها، لا يجب الحد، ولا العُقر، ولا العِدّة، ولو كان النكاح جائزا لا تحلّ للزوج الأول، وهذا يؤيّد مذهبه.وهما يقولان: تقويم البضع في النكاح الجائز، والوطء عن شبهة، أمرٌ عُرِف شرعًا بخلاف القياس، لكونه محلًا للتوالد، وهذا المعنى معدوم هنا، فلا يَلحق به.ووجوب العدّة في الوطء عن شبهة لصيانة الماء عن الخَلط، وأنه لا يُتصوّر هنا، وإنما لا يجب الحد، لأن العقد الفاسد يفيد صورةً الإضافة بالزوجية، فيورِث شبهةً،كحقيقة الإضافة في النكاح الجائز.
وإنما لا تحِلّ للزوج الأول بهذا الفعل في النكاح الجائز إذا كان طلقها ثلاثا، لأن حِل النكاح للزوج الأول معلّق بالوطء في القبل؛ لقوله عليه السلام: "لا، حتى تذوتي عُسَيلته ويذوق عُسَيلتك".
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 28):
«[تتمة] للواطة أحكام أخر: لا يجب بها المهر والعدة ولا يحصل بها التحليل للزوج الأول،.
ولا تثبت بها الرجعة ولا حرمة المصاهرة عند الأكثر، ولا الكفارة في رمضان في رواية.»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 18):
«وللواطة أحكام أخر لا يجب بها العقر أي المهر ولا العدة في النكاح الفاسد ولا في المأتي بها لشبهة ولا تحل للزوج الأول في النكاح الصحيح ولا تثبت بها الرجعة ولا حرمة المصاهرة عند الأكثر ولا الكفارة في رمضان في رواية ولو قذف بها لا يحد خلافا لهما وكذا لو قذف امرأته بها لم يلاعن خلافا لهما وعن الصفار يكفر مستحلها عند الجمهور كذا في المجتبى وقدمنا أنه يجب الغسل بها على الفاعل، والمفعول به.»
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
10/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


