| 88325 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ایک رفاہی ادارے کو کسی عطیہ کنندہ نے زکوة کی مد میں ایک کنٹینر سامان سمیت دیا ہے،سامان میں سولر پلیٹیں،ایئرکنڈیشنز،کرسیاں اور میز وغیرہ شامل ہے،عطیہ کرنے والے نے اس سامان کی قیمت زبانی طور پر بتائی ہے،تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری دستاویز یا رسید وغیرہ موجود نہیں ہے۔
مذکورہ ادارہ اس کنٹینر کو مستحقین کے وکیل کی حیثیت سے کسی رفاہی کام ،مثلا مستحقین کے لئے کلینک وغیرہ میں استعمال کے لئے چیریٹی فنڈ میں منتقل کرنا چاہتا ہے،اس مقصد کے لئے اس کنٹینر کی مارکیٹ ویلیو کا درست تعین ضروری ہے اور مارکیٹ ویلیو معلوم کرنے کی دو طریقے ہیں:
1۔ادارہ خود مارکیٹ کا سروے کرکے قیمت معلوم کرے۔
2۔کسی ماہر فرد یا ادارے سے قیمت کا تخمینہ لگوایا جائے،جس کے لئے ممکنہ طور پر ادارے کو فیس بھی دینی پڑسکتی ہے۔
اس حوالے سے درج ذیل امور میں شرعی راہنمائی مطلوب ہے:
1۔زکوة کی مد میں موصول ہونے والی اس قسم کی غیر نقد اشیاء کو افادہ عام کے لئے مستحقین کے وکیل کی حیثیت سے چیریٹی فنڈ میں منتقل کیا جاسکتا ہے؟
2۔ غیر نقد قیمتی اشیاء کی قیمت کے متعلق عطیہ کنندہ کی زبانی وضاحت کافی ہے یا نہیں؟
3۔عطیہ کنندہ کی زبانی وضاحت ناکافی ہونے کی صورت میں ادارے خود مارکیٹ ریسرچ کی بنیاد پر ویلیوں معلوم کرے یا کسی اور سے کروائے؟
تنقیح:سائل نے وضاحت کی ہے ان کے ادارے میں جب بھی کوئی مستحق تعاون کے سلسلے میں آتا ہے تو وہ اس سے وکالت نامہ فارم پر دستخط لیتے ہیں جس کے مطابق وہ ادارے کے صدر یا جس کو وہ اجازت دے اس بات کا وکیل بناتا ہے کہ وہ زکوة وصول کرکے ادارے کے اصول وضوابط کے مطابق غرباء اور مساکین کی فلاح وبہبود میں خرچ کرےیا ادارے کے عمومی فنڈ (چیریٹی فنڈ) کی ملکیت میں دے دے۔
واضح رہے کہ اس کے ساتھ تعاون اس فارم پر دستخط سے مشروط نہیں ہوتا،بلکہ وہ اس حوالے سےخود مختار ہوتا ہے،چاہے تو دستخط کرے اور چاہے تو نہ کرے ۔
نیز کسی بھی مستحق کی وکالت کو چھ ماہ بعد معدوم سمجھاجاتا ہے،اس خدشے سے کہ کہیں وہ شخص صاحب نصاب بن گیا ہو،اگرچہ پاکستان کے معاشی حالات کے لحاظ سے اس کا امکان کم ہی ہے،لیکن ادارہ احتیاط کے پہلو کو مدنظر رکھتا ہے اور زکوة کو چیریٹی فنڈ میں منتقل کرتے ہوئے بھی رجسٹرڈ مستحقین کی تعداد کے لحاظ سے رقم کی جو مقدار بنتی ہے اس سے تیس فیصد کم اشیاء وکیل کی حیثیت سے چیریٹی فنڈ میں منتقل کرتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ مذکورہ صورت میں مستحقین کی جانب سے وکالت کے فارم پر دستخط لینے کی وجہ سے ادارے کی انتظامیہ فقراء کی جانب زکوة اور صدقات واجبہ وصول کرکے اسے ادارے کی ضروریات کے مطابق خرچ کرنے کی مجاز ہے،اس لئے زکوة کی مد میں ملنے والی غیر نقد اشیاء کو مستحقین کے وکیل کی حیثیت سے چیریٹی فنڈ میں منتقل کیاجاسکتا ہے اور ان اشیاء کی قیمت کے تعین کے حوالےسے دینے والے کی زبانی وضاحت بھی کافی ہے،لیکن اگر سوال میں ذکر کئے گئے طریقوں میں سے کسی سے اس کی تصدیق بھی کرلی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (6/ 392):
"إذا أراد أن يكفن ميتا عن زكاة ماله لا يجوز (والحيلة فيه أن يتصدق بها على فقير من أهل الميت)، ثم هو يكفن به الميت فيكون له ثواب الصدقة ولأهل الميت ثواب التكفين، وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات ،لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه".
(والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة".
"الدر المختار " (2/ 269):
" ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئا ملكوه وصار خالطا مالهم بعضه ببعض ووقع زكاة عن الدافع، لكن بشرط أن لا يبلغ المال الذي بيد الوكيل نصابا. فلو بلغه وعلم به الدافع لم يجزه إذا كان الآخذ وكيلا عن الفقير كما في البحر عن الظهيرية.
قلت: وهذا إذا كان الفقير واحدا، فلو كانوا متعددين لا بد أن يبلغ لكل واحد نصابا؛ لأن ما في يد الوكيل مشترك بينهم، فإذا كانوا ثلاثة، وما في يد الوكيل بلغ نصابين لم يصيروا أغنياء فتجزي الزكاة عن الدافع بعده إلى أن يبلغ ثلاثة أنصباء إلا إذا كان وكيلا عن كل واحد بانفراده، فحينئذ يعتبر لكل واحد نصابه على حدة، وليس له الخلط بلا إذنهم،فلو خلط أجزأ عن الدافعين وضمن للموكلين. وأما إذا لم يكن الآخذ وكيلا عنهم فتجزي، وإن بلغ المقبوض نصبا كثيرة؛لأنهم لم يملكوا شيئا مما في يده".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
10/صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


