03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی ایک ملازم کی کوتاہی کی صورت میں تمام ملازمین پر ذمہ داری ڈالنے کا حکم
88331اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

ہماری ایک فرنیچر بنانے اور فروخت کرنے والی کمپنی ہے۔ ہمارے ہاں یہ ضابطہ طے ہے کہ اگر کوئی مال (فرنیچر یا دیگر اشیاء) کسی ملازم سے  جان بوجھ کر یا انجانے میں خراب ہو جائے اور قابل فروخت نہ رہے توماہ کے آخر میں کل نقصان کا حساب لگایا جاتا ہے۔اس نقصان کی تلافی مختلف عہدوں کے ملازمین پر تقسیم کی جاتی ہے، مثلاً 80% نقصان ایک مخصوص طبقہ (جیسے سپروائزر وغیرہ) اور 20% دوسرے طبقہ (جیسے لیبر اسٹاف وغیرہ) ادا کرتے ہیں۔ میں کمپنی میں ’’چیف اسلامک ریسرچ آفیسر‘‘ کی حیثیت سے کام کرتا  ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، کیونکہ ایسے  بے قصور ملازمین پر نقصان ڈالنا  لازم آتا ہے جوظلم ہے۔کسی پر مالی ذمہ داری صرف اسی صورت میں عائد ہو سکتی ہے جب اس کی کوتاہی یا غلطی ثابت ہو۔ لہٰذا، میں کمپنی کو ایک متبادل شرعی حل تجویز کرنا چاہتا ہوں، جس کے مطابق، اگر کسی ملازم کی غلطی ثابت ہو تو صرف وہی نقصان کا ذمہ دار ہو۔اگر غلطی کسی ایک کی ثابت نہ ہو تو کمپنی ایک ’’چیریٹی فنڈ‘‘بنائے، جس میں ہر ماہ کچھ رقم جمع کی جائے۔ اس فنڈ سے50% صدقہ کر دیا جائے۔اور بقیہ50% یا تو ملازمین میں تقسیم کر دیا جائے یا کمپنی اپنے پاس رکھ لے۔ برائے مہربانی، مندرجہ ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

کیا موجودہ طریقہ کار (نقصان کو ملازمین پر اجتماعی طور پر تقسیم کرنا) شرعی اعتبار سے جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید یہ واضح رہے کہ کمپنی کے ملازمین کی حیثیت اجیر خاص کی ہوتی ہے ۔اجیر ِخاص(ملازم) کا حکم یہ ہے کہجس کام کو سر انجام دینے کیلئےاس کو اٰلات، مشینری ،اوزاروغیرہ کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے وہ ان کے حق میں معروف استعمال کی حد تک امین(امانت دار ) شمار ہوگا،لہٰذا اگر ملازمجو چیز جس مقصد کے لئےہو اسی مقصد میں استعمال کرے اور اُس سے کوئی نقصان سرزد ہوجائے تو جب تک واضح طور پر یہ ثابت نہ ہوسکےکہ اس کی تقصیر(کوتاہی) یا حدود سے تجاوز کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ،تو اس سے کوئیضمان(تاوان) نہیں لیا جاسکتا۔البتہ اگر اس کیتقصیر(کوتاہی) دلائل کی روشنی میں ثابت ہوجائےتو پھر اُس سے ضایع شدہ چیزکی بازاری قیمتکے بقدر ضمان (تاوان )لیا جاسکتا ہے۔ یہ تو حکم ہے ان الاٰت اور مشینری وغیرہ کا ہےجو اسے کام سر انجام دینے کیلئے حوالے کئے گئے ہوں ، لیکن کام کی جگہمیںدیگر موجود ہ اثاثوں کےحق میں اُسے بہر صورت ضامن ہی ٹھہرایا جائے گا،یعنی نقصان کی صورت میںاس تفصیل کو ملحوظ نہیں رکھا جائے گاکہ اس کی جانب سے تقصیر(کوتاہی ) پائی گئی یا نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہپہلی صورت میں تو کام بجا لانے کیلئے اسے مالِ غیر کے استعمال کی ضرورتلا محالہ پیش آتی ہے،اس لئے اُس کو اُن چیزوں کے معروف استعمال کی حد تکامین(امانت دار) شمار کیاگیاہے، لیکن جن الاٰت کے استعمال کی سرے سے کوئیضرورت ہی نہیں،ان کے حق میں اسےعام حکمکی رُو سے ضامن ٹھہرایا جائے گا۔

اس تفصیل کے بعد یہ واضح رہے کہکسی خاص ملازم پر خواہ جُرم ثابت ہو یا کسی ایک کی تعیین نہ ہو سکے،بہر صورت کمپنی اجتماعی طور سےملازمین کوضمان (تاوان) کی ادائیگی کا ذمے دارنہیں ٹھہرا سکتی ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 211):

وأما الثاني وهو بيان ما يغيره من صفة الأمانة إلى الضمان فالمغير له أشياء منها: ترك الحفظ؛ لأن ‌الأجير لما قبض المستأجر فيه فقد التزم حفظه، وترك الحفظ الملتزم سبب لوجوب الضمان، كالمودع إذا ترك حفظ الوديعة حتى ضاعت على ما نذكره في كتاب الوديعة إن شاء الله تعالى.ومنها ‌الإتلاف والإفساد إذا كان ‌الأجير متعديا فيه بأن تعمد ذلك أو عنف في الدق، سواء كان مشتركا أو خاصا، وإن لم يكن متعديا في الإفساد بأن أفسد الثوب خطأ بعمله من غير قصده فإن كان ‌الأجير خاصا لم يضمن بالإجماع.

 حماد الدین قریشی عفی عنہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

11/صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب