03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقروض کو قرض کی ادائیگی کےلیے زکوۃ دینے کا حکم
88326ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرا نام عامر علی خان ہے اور میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میرے ایک غریب کزن نے میرے ایک دوست سے قرض لے کر کاروبار شروع کیا اور ایک پرچون کی دکان پر آٹا سپلائی کا کام کیا۔ لیکن صرف دو ماہ بعد پرچون کی دکان ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی زد میں آ کر تقریباً 100 دیگر دکانوں کے ساتھ گرادی گئی، جس کے نتیجے میں میرے کزن کے تقریباً دس لاکھ روپے اس کاروبار میں پھنس گئے۔

کچھ ماہ بعد یہ پرچون کی دکان دوبارہ مرمت ہو کر کھل گئی۔ دکاندار نے اپنی دکان کو تھوڑا چھوٹا کر کے مزید تین دکانیں تعمیر کیں اور انہیں کرائے پر دے دیا۔ اس وقت پرچون کی دکان میں کاروبار بھی ہو رہا ہے اور اضافی دکانوں سے کرایہ بھی آرہا ہے۔ اس کے باوجود میرے کزن کو قرض واپس کرنے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے اور صرف یہ کہا جاتا ہے "ہمارے حالات خراب ہیں، ہم پریشان ہیں، بھاگے نہیں ہیں، صبر کریں۔"

پولیس، مصالحتی جرگہ، مشترکہ دوست احباب اور ذاتی ملاقاتوں کے ذریعے بارہا کوشش کی گئی، مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اب اس واقعے کو 30ماہ (ڈھائی سال) گزر چکے ہیں اور میرے کزن پر قرض کی واپسی کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے، جبکہ دکان سے دس لاکھ روپے کی واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

میرا سوال ہےکہ کیا میرے کزن کے لیے شریعت کی رو سے زکوٰۃ لینا جائز ہے؟کیا وہ اپنا قرض ادا کرنے کے لیے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟اگر کوئی خواتین یا حضرات میرے کزن کو زکوٰۃ دیں تو انہیں کیا اجر و ثواب ملے گا؟

براہِ کرم قرآنِ مجید اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں فتویٰ کی صورت میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص غریب اور ضرورت مند ہو اور اس کی ملکیت میں اپنی بنیادی ضروریات سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر رقم موجود نہ ہو، اور نہ ہی اس کے پاس ایسا ضرورت سے زائد سامان یا مالیت ہو جو نصاب کے برابر بنتا ہو، اور وہ سید  ہاشمی نہ ہو، تو ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا شرعاً جائز ہے، اور اسے زکوٰۃ دینے سے دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کا کزن مقروض اور غیر صاحبِ نصاب ہے، اور جس شخص پر اس کا قرض ہے اس سے رقم واپس ملنے کی بھی امید نہیں ہے، تو ایسی صورت میں آپ اور دیگر لوگ اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنا قرض ادا کرسکے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ دار کو زکوٰۃ دیتا ہے تو اس پر دوہرا ثواب ملتا ہے؛ ایک زکوٰۃ کی ادائیگی کا  اور دوسرا صلہ رحمی (رشتہ داری جوڑنے) کا ثواب۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (2/ 344):

(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير.

«قلت: وقدمنا أول الزكاة اختلاف التصحيح فيه، ومال الرحمتي إلى هذا وقال بل ‌في ‌زماننا ‌يقر ‌المديون ‌بالدين وبملاءته ولا يقدر الدائن على تخليصه منه فهو بمنزلة العدم.

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 9):

«‌ومنها ‌الملك ‌المطلق وهو أن يكون مملوكا له رقبة ويدا وهذا قول أصحابنا الثلاثة، وقال زفر: " اليد ليست بشرط " وهو قول الشافعي فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.

وتفسير مال الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك كالعبد الآبق والضال، والمال المفقود، والمال الساقط في البحر، والمال الذي أخذه السلطان مصادرة، والدين المجحود.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

11/صفر المظفر /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب