03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرض کا حکم
88340سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

عرض یہ ہے کہ میں نے چند مہینے پہلے ایک صاحب سے 14,00,000 (چودہ لاکھ) روپے قرض لیے تھے۔ جب میں نے یہ قرض لیا تو میں نے ان صاحب سے کہا کہ جب تک میں اصل قرض واپس نہیں کر دیتا، اس وقت تک میں اپنی دونوں دکانوں کا کرایہ تم کو  دیتا رہوں گا۔ایک دکان کا کرایہ 15,000 روپے ہے، اس طرح دونوں دکانوں کا کرایہ 30,000 روپے ماہانہ بنتا ہے۔ میں نے ہر ماہ دینے کا وعدہ کیا اور اب تک (نومبر سے جون تک) کل 2,20,000 روپے اس مد میں ادا کر چکا ہوں۔کچھ دن پہلے مجھے ایک صاحب سے معلوم ہوا کہ جو اضافی رقم میں قرض کے بدلے میں دے رہا ہوں، یہ سراسر سود ہے۔ یعنی اصل قرض اپنی جگہ موجود ہے اور اس کے ساتھ جو میں ماہانہ 30,000 روپے دے رہا ہوں، وہ سود کے حکم میں آتا ہے۔ جب مجھے یہ علم ہوا تو میں نے فوراً اضافی رقم کی ادائیگی روک دی۔

اب آپ سے شرعی رہنمائی درکار ہے کہ کیا واقعی یہ سود شمار ہوگا؟اگر سود ہے تو کیا مجھے ان صاحب کو مزید یہ رقم دینا شرعاً جائز ہے؟ آئندہ اس معاملے میں اس شخص سےکس طرح درست طریقے سے تعاون جاری رکھا جائے تاکہ میں گناہ سے بچ سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں مذکورہ تفصیل کے مطابق کسی شخص سے قرض لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، جس  کا لینا ، دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے؛کیوں کہ قرض شریعت میں خالص عقد تبرع ہے،  جس کے بدلے میں اضافی رقم  کا لین دین شرعا جائز نہیں ہے ۔اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کی ضرورت کے لیے قرض دینا چاہتا ہے ،تو بلا معاوضہ دے، اس پر کچھ بھی مزید وصول نہ کرے۔

 اگرکوئی اس طرح قرض دینا نہیں چاہتا ،تو شریعت کسی کو قرض دینے پر مجبور نہیں کرتی ۔ اور اگر قرض پر کچھ بھی مزید وصول کیا جائے گا تو وہ یقیناً سود اور حرام ہوگا ،خواہ اسے کچھ بھی نام دیا جائے؛کیوں کہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ لہذ ا آپ پر لازم  ہے کہ قرض خواہ  سے یہ بات کریں  کہ وہ   دولاکھ بیس ہزار  کو اصل قم میں شمار کرکے چودہ لاکھ میں سے جو باقی رقم بچے  صرف وہی آپ سے وصول کرے، کیونکہ شرعا  سود سے بچنے کے لیے ایسا کرنا  لازم ہے۔

تاہم اگر وہ پھر بھی آپ کو سابقہ معاہدے کی   بناء پر بذریعہ عدالت یا خود ہی اضافی رقم کی ادئیگی پر مجبور کردے تو ایسے میں سود کی وصولی کا گناہ اسی کو ہوگا ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم(سورۃ البقرة: ۲۷۵ ):

قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة ۔

الصحیح لمسلم  (    2 72/):

عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ و شاھدیه، وقال: ھم سواء .

(تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷/ ۳۹۸):

الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة .

وفي الدر المختار  (5/ 166):

القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ .

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

12/صفر المظفر /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب