03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی والوں کا شادی میں لڑکے والوں سے بےجامطالبات کرنے کا حکم
88351نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

ایک رشتے میں لڑکے اور لڑکی والوں میں آپس میں چیزیں طے کرتے ہوئے بدمزگی ہو گئی ہے، صورتِ حال یہ ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے سادگی اختیار کرتے ہوئےمروجہ بارات کی بجائے صرف دلہا ،2مرد اور 3عورتیں رخصتی کے دن آ کر دلہن کو گھر سے ہی رخصت کر لیں گے اوران کی طرف سے لڑکی والوں کو یہ بھی کہا گیا کہ طعام کا انتظام نہ کیا جائے، اس درخواست کو لڑکی والوں نے بخوشی قبول کرلیا اور جواباً مندرجہ ذیل مطالبات لڑکے والوں سے کیے:

1- سارا جہیز لڑکے والے بنائیں گے، یہ بات لڑکی والوں نے بار بار دہرائی اور کہا کہ لڑکی والےصرف زیور اور کپڑے لڑکی کو دیں گے۔

2ـ لڑکے والے کہہ رہے ہیں کہ آپ وليمہ ہال روم یا بینکیوٹ میں کریں،  جبکہ لڑکے والے سادگی کے ساتھ اپنے گھرمیں  ولیمہ کرنے  کا کہہ رہے ہیں، تاکہ شادی ہال میں ولیمہ کی رسم کو ختم کیا جا سکے، کیا لڑکی والوں کا یہ مطالبہ صحیح ہے۔

3- لڑکی والے کہہ رہے ہیں کہ ہم ولیمہ میں پچاس آدمیوں کو لائیں گے، جبکہ لڑکے والے دس افراد کو دعوت دینا چاہتے ہیں، کیا لڑکی والوں کا یہ مطالبہ درست ہے؟

 4ـ لڑکی والوں نے کہا کہ مہر ِمثل مہر ِفاطمی ہوگا، ان کاکہنا ہماری پہلی بیٹی کا حق مہر بھی مہرفاطمی طے کیا گیا تھا، آج کل مہرفاطمی  کی مقدار تقریباً 5لاکھ سے زائد بنتی ہے،  اس میں کوئی کمی بیشی نہ ہوگی، کیونکہ یہ لڑکی والوں کا حق ہے، جبکہ لڑکا ابھی زیرِ تعلیم ہے، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں بوجھ سارا والد پر ہے، لڑکے والوں کا موقف تھا مستحسن یہ ہے کہ مہر کی ادائیگی پہلے دن ہی ہوجائے، اگر مہر فاطمی ہی رکھنا ہے تو ہماری طرف سے مہرفاطمی زیورات کی صورت میں ادا  کر دیا جائے گا،  مگر لڑکی والےاس پر بھی  بضد ہیں کہ زیورات لڑکی کو  الگ چڑھائیں گے اور مہر الگ ہوگا ۔ مہر زیورات کی صورت میں قابل قبول نہیں، چاہے مہر مؤجل ہی طےکر لیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ لڑکی والوں کے یہ تمام مطالبات لڑکے والوں سےکرنا اور اس میں زبردستی  كرنا شرعا كيسا ہے ہر سوال کا جدا جدا جواب مل جائے اور شریعت میں اس کی اصل اور شرعی تناظر بھی بیان فرما دیں  تو اس کی روشنی میں فریقین کا حل نکالنا آسان ہو جائے، صورتِ حال یہ ہے کہ یہ سب کچھ سنت ، سادگی اور  جہیز کے نا جائز ہونے کے نام پر کیا جا رہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح ایک فطری عمل اور شریعت کا ایک اہم حکم ہے، جس پر انسانیت کی بقاء موقوف ہے، نکاح کی مبارک سنت پر عمل کرنے میں بہت سے مقاصد کا حصول مقصود ہوتا ہے، جیسے اولاد اور پاکدامنی کا حصول، دو خاندانوں کے درمیان رشتہ داری کا قائم ہونا، گناہوں سے بچنا اور احساسِ ذمہ داری وغیرہ، لیکن یہ مقاصد اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اس میں شریعت کے احکام کی پاسداری کی جائے، اسی لیے شریعت نے نکاح سے متعلق مستقل احکام جاری فرمائے ہیں، جن میں سے بعض احکام کا تعلق عقدِ نکاح سے ہے اور بعض کا تعلق نکاح کے بعد میاں بیوی کے حقوق سے ہے،  عقدِ نکاح سے متعلق احکامِ شریعہ کی پاسداری سے نکاح کے بعد والی زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے خوشگوار زدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ عقد نکاح سے متعلقہ شرعی احکام کی پاسداری کی جائے، ان احکام کی روشنی میں سولات کے جوابات درج ذیل ہیں:

  1. یہ بات درست ہے کہ جہیز تیار کرنا لڑکی والوں کی ذمہ داری نہیں، کیونکہ یہ ایک رسم ہے، جس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا،  لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ لڑکی والے لڑکے والوں کو جہیز تیار کرنے پر مجبور کریں، بلکہ یہ لڑکے والوں کی رضامندی پر موقوف ہے کہ وہ حسبِ ضرورت اپنے بیٹے کو کمرہ اور دیگر ضرورت کی چیزیں جیسے بیڈ اور کپڑوں کے لیے الماری وغیرہ تیار کر کےدیں، اس کے علاوہ لڑکی والوں کا بار بار مطالبہ کرنا کہ معاشرے میں مروجہ جہیز لڑکے والے بنوائیں گے، خلافِ شرع اور خلافِ سنت ہے، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی سے صرف ضرورت کی چیزوں کا ثبوت ملتا ہے، اس میں بھی لڑکے والوں کی صواب دید پر ہے کہ وہ عمدہ اور مہنگی اشیاء خریدیں یا اپنی وسعت کے مطابق درمیانے درجے کی چیزیں خرید لیں، لہذا لڑکی والے ضرورت کی چیزوں میں بھی لڑکے والوں کو عمدہ کوالٹی کی چیزیں خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

المعجم الكبير للطبراني (22/ 408،رقم الحديث: 1021) مكتبة ابن تيمية – القاهرة:

حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا الحسن بن حماد الحضرمي، ثنا يحيى بن يعلى الأسلمي، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه، فقال: يا رسول الله قد علمت مناصحتي

وقدمي في الإسلام، وإني وإني، قال: «وما ذلك؟» قال: تزوجني فاطمة، فسكت عنه أو قال: فأعرض عنه، فرجع أبو بكر إلى عمر فقال: هلكت وأهلكت قال: وما ذلك؟ قال: خطبت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأعرض عني، فقال: مكانك حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم فأطلب مثل الذي طلبت، فأتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه، فقال: يا رسول الله قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام، وإني وإني، قال: «وما ذاك؟» قال: تزوجني فاطمة، فأعرض عنه فرجع عمر إلى أبي بكر، فقال: إنه ينتظر أمر الله فيها، انطلق بناإلى علي حتى نأمره أن يطلب مثل الذي

طلبنا، قال علي: فأتياني وأنا في سبيل، فقالا: تخطب بنت عمك ، فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي طرف على عاتقي، وطرف آخر في الأرض حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقعدت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله قد علمت قدمي في الإسلام ومناصحتي، وإني وإني، قال: «وما ذاك يا علي؟» قلت: تزوجني فاطمة، قال: «وما عندك» ، قلت: فرسي وبدني، يعني درعي، قال: «أما فرسك، فلا بد لك منه، وأما درعك فبعها» ، فبعتها بأربع مائة وثمانين فأتيت بها النبي صلى الله عليه وسلم فوضعتها في حجره، فقبض منها قبضة، فقال: " يا بلال، ابغنا بها طيبا، ومرهم أن يجهزوها، فجعل لها سريرا مشرطا بالشريط، ووسادة من أدم، حشوها ليف، وملأ البيت كثيبا، يعني رملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ.

  1. ولیمہ کی دعوت اگرچہ سنت عمل ہے، مگر اس میں بھی شریعت نے سادگی اور اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنے کو ترجیح دی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اگر لڑکے والے شادی ہال کی بجائے سادگی کے ساتھ گھر میں ولیمہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک اچھا اور مستحسن عمل ہے، کیونکہ شادی ہال میں پروگرام کرنے پر کافی زیادہ اخرجات کرنے پڑتے ہیں، کبھی ان میں فضول خرچی بھی ہو جاتی ہے، جو کہ شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، اس لیے لڑکی والوں کا یہ مطالبہ بھی خلافِ شرع ہے کہ گھر کی بجائے شادی ہال میں ولیمہ کیا جائے، لہذا ان کو یہ مطالبہ کرنے اور اس پر زور دینے کا حق حاصل نہیں ہے،خصوصا جبکہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس کے اخراجات کم ہوں۔

 البتہ اگر لڑکے والے اپنی خوشی اور رضامندی سے ضرورت کو دیکھتے ہوئے شادی ہال میں ولیمہ کی دعوت کا انتظام کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، بشرطیکہ فضول خرچی اور دیگر خرافات سے بچنے کا اہتمام کیا جائے۔

مسند أحمد ط الرسالة (41/ 75) مؤسسة الرسالة– بيروت:

حدثنا عفان، قال: حدثنا حماد بن سلمة، قال: أخبرني ابن الطفيل بن سخبرة، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة "

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2049) دار الفكر، بيروت – لبنان:

(وعن عائشة) رضي الله عنها (قالت: «قال النبي صلى الله عليه وسلم الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة» ) أي: أفراده وأنواعه (أيسره) أي: أقله أو أسهله (مؤنة) أي: من المهر والنفقة للدلالة على القناعة التي هي كنز لا ينفد ولا يفنى.

  1. لڑکی والوں کا یہ مطالبہ کرنا کہ ہم ولیمہ کی دعوت میں پچاس آدمی لے کر آئیں گے انتہائی نازیبا اور خلافِ شرع مطالبہ ہے، کیونکہ شریعت نے دعوت کے معاملے میں میزبان کی رعایت رکھنے کو ضروری قرار دیا ہے، سنن ِ ابی داود کی ایک حدیثِ پاک میں یہاں تک وارد ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی دعوت کرے اور ایک شخص اس کے ساتھ بغیر دعوت کے چلا جائے تو یہ شخص چور بن کر میزبان کے گھر داخل ہوا اور غارت گری کرنے والا بن کر باہر نکلا۔

لہذا جب ایک شخص کو بلااجازت میزبان کے گھر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تو پچاس آدمیوں کو لڑکے والوں کے گھران کی رضا اور خوشنودی کے بغیر لے کر جانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ اس لیے لڑکی والوں کو چاہیے کہ اس معاملے میں لڑکے والوں  کو ہرگز مجبور نہ کریں، بلکہ لڑکے والوں کی طرف سے جتنے آدمیوں کو ولیمہ میں لانے کی اجازت دی جائےاتنی تعداد میں ہی افراد کو لے کرجائیں، خصوصا جبکہ ان کی طرف سے بارات میں صرف پانچ چھ افراد رخصتی کے لیے آئیں گے۔

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 569) الناشر: دار الرسالة العالمية:

حدثنا مسدد، حدثنا درست بن زياد، عن أبان بن طارق، عن نافع، قال: قال عبد الله بن عمر: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله، ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا"

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2109) دار الفكر، بيروت – لبنان:

 (وعن عبد الله بن عمر قال: «قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من دعي» ) : أي: إلى طعام (فلم يجب) : الفاء تفيد المبادرة ( «فقد عصى الله ورسوله» ) : أي: إذا كان بغير عذر ( «ومن دخل من غير دعوة» ) : أي: للمضيف إياه (دخل سارقا) : لأنه دخل بغير إذنه فيأثم كما يأثم السارق في دخول بيت غيره ( «وخرج مغيرا» ) : أي: ناهيا غاصبا، يعني: وإن أكل من تلك الضيافة فهو كالذي يغير أي يأخذ مال أحد غصبا، والحاصل أنه - صلى الله عليه وسلم - علم أمته مكارم الأخلاق البهية ونهاهم عن الشمائل الدنية، فإن عدم إجابة الدعوة من غير حصول المعذرة يدل على تكبر النفس والرعونة وعدم الألفة والمودة، والدخول من غير دعوة يشير إلى حرص النفس ودناءة الهمة وحصول المذلة والمهانة، فالخلق الحسن هو الاعتدال بين الخلقين المذمومين. (رواه أبو داود)

  1. یہ بات درست ہے کہ اصولی طور پر مہر ِ مثل عورت کا حق ہے، یعنی اس لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، زمانہ، شہر، بکارت اور ثیبہ وغیرہ  ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر  تھا اس کا بھی اتنا  ہی مہر  ہو گا، لیکن دوسری طرف شریعت نے فریقین کو یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ باہمی رضامندی سے کسی بھی مقدار کو بطورِ مہر مقرر کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دس درہم سے کم نہ ہو، کیونکہ شرعاً مہر کی کم سے کم مقدار دس دراہم ہے، جو ساڑھے اکتیس  (31.5)ماشہ چاندی بنتی ہے۔ تیسری بات یہ کہ مہر مثل سے قطع نظر کئی روایات میں مہرکم مقرر کرنے کی ترغیب اور فضیلت بیان کی گئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ سب سے برکت والی عورتیں وہ ہیں جن کا مہر کم ہو، دوسری روایت میں ہے کہ سب سے عظیم عورتیں وہ ہیں جن کے اخراجات کم ہوں۔ان دونوں روایات میں مہر اور نکاح کے اخراجات کم کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً لڑکی والوں کے خاندان کا مہر مثل مہر فاطمی ہے،نیزاس میں صرف لڑکی کی بہن کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ اس کی چچا زاد بہنوں اور پھوپھیوں کے حق مہر کو دیکھ مہر مثال کی تعیین کی جائے گی اور پھر لڑکے والوں کے اندر بھی یہ مہر ادا کرنے کی اگر استطاعت موجود ہو تو مہرفاطمی مقرر کرنا بہتر ہے، خصوصا جبکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا حق مہر بھی مہرفاطمی (پانچ سو دراہم یعنی 1530.9 گرام چاندی) کے برابر تھا۔

البتہ اس میں پھر لڑکی والوں کا یہ مطالبہ کرنا درست نہیں کہ وہ زیورات  علیحدہ اور مہر فاطمی علیحدہ ادا کریں، کیونکہ لڑکی کو زیورات دینا لڑکے والوں کے ذمہ شرعاً لازم نہیں، لہذا اگر وہ مہرفاطمی زیورات کی شکل میں دینا چاہتے ہیں تو وہ حق بجانب ہیں اور لڑکی والوں کا ان کو منع کرنا خلافِ شرع ہے، خصوصاً جبکہ وہ عقدِ نکاح کے وقت یہ مہر ادا کرنے پر بھی راضی ہیں۔

نوٹ: یہ بات یاد رکھیں کہ نکاح خریدفروخت کا معاملہ نہیں کہ جس میں فریقین ایک دوسرے پر اپنی مرضی سے جو چاہیں شرطیں عائد کر دیں، بلکہ یہ درحقیقت مرد وعورت کے درمیان زندگی بھر ساتھ رہنے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے اور خوشی وغمی میں ایک دوسرے کا  دست وبازو بننے کا اہم میثاق اور معاہدہ ہے، جس سے دو اجنبی خاندانوں کے درمیان رشتہ داری اور انس ومحبت کا تعلق قائم ہوتا ہے، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام معاملات باہمی رضامندی سے طے کیے جائیں، فضول اور بے جا مطالبات کرنا شریعت اور عقل کی رُو سے بالکل ناپسندیدہ عمل ہے، جس سے رشتہ قائم ہونے کی بجائے ٹوٹنے کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کے اثرات بعض اوقات رشتہ ہو جانے کے بعد ازدواجی زندگی پر بھی پڑتے ہیں، اس لیے لڑکی والوں کو چاہیے کہ اس طرح کی شرائط لگانے کی بجائے اگر بالفرض ان کو اس جگہ رشتہ کرنا مناسب نہیں لگتا تو ان کو شریعت نے رشتہ نہ کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (2/ 1042) دار إحياء التراث العربي – بيروت:

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه»

السنن الكبرى للنسائي (8/ 304) مؤسسة الرسالة – بيروت:

عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أعظم النساء بركة أيسرهن مئونة»

المستدرك على الصحيحين للحاكم (2/ 194) دار الكتب العلمية – بيروت:

حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا إسحاق بن الحسن الحربي، ثنا عفان، ثنا حماد بن سلمة، أخبرني عمر بن طفيل بن سخبرة المدني، عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أعظم النساء بركة أيسرهن صداقا» هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه "       

 [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2732 - على شرط مسلم.

التيسير بشرح الجامع الصغير (1/ 534) مكتبة الإمام الشافعي – الرياض:

(خيرهن) يعني النساء (أيسرهن صداقا) بمعنى أن يسره دال على خيرية المرأة وبركتها فهو من الفال الحسن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

12/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب