| 88345 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا نام نعمان آزاد ولد آزاد حسین ہے اور میں اس وقت اسٹریلیا کی ایک سرکاری ادارے میں بطور پروجیکٹ انجینئر خدمات انجام دے رہا ہوں،میں آپ سے اپنی بہن کہکشاں آزاد بنت آزاد حسین کے بارے میں ایک اہم دینی مسئلے پر راہنمائی اور فتویٰ لینے کا خواہاں ہوں۔
میری بہن اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتی ہے اور وہ ایک لڑکے حسیب الحسن ولد زاہدصابر جعفری سے نکاح کرنا چاہتی ہے، جو شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے، میں نے اس حوالے سے پہلے بھی آپ کے ادارے سے فون پر رابطہ کیا تھا اور گفتگو کے بعد آپ کی طرف سے جو فتویٰ جاری ہوا، اس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اگر لڑکا ان کفریہ عقائد سے بری ہو تو نکاح کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
میں نے گزشتہ تین سالوں میں اس لڑکے کے عقائد کو گہرائی سے پرکھا ہے،الحمد لله، اس نے صاف طور پر ان تمام کفریہ عقائد سے براءت کا اظہار کیا ہے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا كو أم المؤمنین مانتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے،تمام صحابہ کرام کا احترام کرتا ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے زیادہ محترم شخصیت مانتا ہے ،قرآن کو مکمل محفوظ اور غیر محرف مانتا ہے،حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بارے میں وحی کے حوالے سے کسی غلطی کاقائل نہیں،نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نئی نبوت کاقائل نہیں ۔
اس کی ابتدائی اسلامی تعلیم ایک سنی قاری صاحب سے ہوئی ،اس کی بہن نے سنی لڑکے سے نکاح کیا ہےاور بھائی کی بیوی بھی سنی گھرانے سے ہے، ان کا گھرانہ اہل سنت کے عقائد اور علماء کرام کا احترام کرتا ہے۔
میری بہن اور حسیب دونوں سافٹ ویئر انجینئرز ہیں اور ایک دوسرے کو بخوبی سمجھتے ہیں،میں نے بطور بهانی پوری تحقیق اور جائزے کے بعد یہ محسوس کیا ہے کہ میری بہن اس رشتے میں خوش اور دینی طور پر محفوظ رہے گی ان شاء الله، لہٰذا میری آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس تفصیل کی بنیاد پر ایک تحریری اور دستخط شده فتوی مرحمت فرمائیں، تاکہ اگر مستقبل میں کوئی دینی اعتراض ہو تو ہم اس معتبر ادارے کے فتوے کو دلیل کے طور پر پیش کر سکیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدائی کا قائل ہو،یا قرآن کو تحریف شدہ سمجھتا ہو،یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا منکر ہو،یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگاتا ہو،یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی پہنچانے میں غلطی کا قائل ہو ایسا شخص کافر ہے،اس سے تو نکاح ممکن ہی نہیں ہے۔
البتہ ایسا شخص جو تفضیلی شیعہ ہو،یعنی صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دیگر خلفاء ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فضیلت کے قائل ہوتے ہیں ،دیگر حضرات خلفاء ثلاثہ کا پورا احترام کرتے ہیں،انہیں غاصب اور منافق وغیرہ خیال نہ کرتا ہو،کسی بھی صحابی کی توہین اور تنقیص کو حرام سمجھتا ہوتو اس کے ساتھ نکاح کی گنجائش ہے۔(" فتاوی دارالعلوم دیوبند":7/189،"خیرالفتاوی":4/262)
لہذا مذکورہ صورت میں اگر یہ لڑکا تفضیلی شیعہ ہے تو اس کے ساتھ آپ کے بہن کے نکاح کی گنجائش ہے،لیکن اس کے باوجود نکاح جیسے اہم معاملے میں احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ آپ اپنی بہن کا رشتہ کسی ایسے شخص سے کریں جس کا تعلق صحیح العقیدہ فیملی سے ہو،کیونکہ ایسے لوگ عموماً اپنے اصل کفریہ عقائد کے حوالے سے تقیہ(یعنی اپنے اصل عقائد چھپاکر اہل سنت والجماعت کے ساتھ موافقت کے اظہار)سے کام لیتے ہیں جو ان کے مذہب کا اس قدر اہم اور مؤکد جزء ہے کہ جو تقیہ نہیں کرتا ان کے ہاں وہ بے ایمان ہے،چنانچہ ان کے مذہب ہی کی ایک اہم کتاب "اصول کافی" کی روایت میں اس کی تصریح موجود ہے کہ "لا ایمان لمن لا تقیة لہ"،جبکہ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہے"لادین لمن لا تقیة لہ". یعنی جو شخص تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین اور بے ایمان ہے۔("اصول كافي":482،484)
نیز نکاح کوئی وقتی اور عارضی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کے لئے جیون ساتھی کے انتخاب کا مرحلہ ہے،اس لئے محبت کے جذبات سے مغلوب ہوکر ایسا کوئی فیصلہ نہ کریں جو بعد میں پچھتاوے کا سبب بنے،خاص کر ایسے شخص سے نکاح کا فیصلہ جس کا ایمان ہی مشکوک ہو،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ طے کرتے وقت سب سے زیادہ دینداری کا لحاظ اور خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (3/ 46):
"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة".
"رد المحتار" (4/ 237):
" لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن".
"بدائع الصنائع" (5/ 456):
" ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر ؛ لقوله تعالى: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر ؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه ، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل : { أولئك يدعون إلى النار } لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر ، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار ؛ لأن الكفر يوجب النار ، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما ، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة ، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي ؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى : { ولن يجعلﷲ للكافرين على المؤمنين سبيلا } فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل ، وهذا لا يجوز".
"صحيح البخاري" (7/ 7):
"عن أبي هريرة رضي ﷲعنه، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: " تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين، تربت يداك ".
قال الملاعلی القاری رحمہ اللہ :" ( «فاظفر بذات الدين» ) أي: فز بنكاحها. قال القاضي - رحمه ﷲ-: " من عادة الناس أن يرغبوا في النساء ويختاروها لإحدى أربع خصال عدها، واللائق بذوي المروءات وأرباب الديانات أن يكون الدين من مطمح نظرهم فيما يأتون ويذرون، لا سيما فيما يدوم أمره ويعظم خطره.
( «تربت يداك» ) يقال: ترب الرجل أي: افتقر كأنه قال: تلتصق بالتراب، ولا يراد به هاهنا الدعاء، بل الحث على الجد والتشمير في طلب المأمور به. قيل: معناه صرت محروما من الخير إن لم تفعل ما أمرتك به، وتعديت ذات الدين إلى ذات الجمال وغيرها، وأراد بالدين الإسلام والتقوى، وهذا يدل على مراعاة الكفاءة، وأن الدين أولى ما اعتبر فيها".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
12/صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


