03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضاعی بہن سے نکاح کرلیا تو ختم کرنا ضروری ہے
88343رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

میں نے ڈیڑھ سال پہلے عبد الحکیم کی بیٹی حفصہ بی بی سے نکاح کیا تھا اور رخصتی بھی ہوگئی تھی ۔ اب پتہ چلا ہے کہ میں نے عبد الحکیم کی بیوی یعنی حفصہ بی بی کی والدہ کا بچپن میں دودھ پیا تھا ۔اس بات کو دونوں فریقین کے گھر والے تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی بچپن میں دودھ پیا ہے ۔البتہ ہمارے گھر والے سمجھتے تھے کہ رضاعت کے رشتے کے ثبوت کے لیے لڑکے اور لڑکی دونوں کا ایک ہی وقت میں دودھ پینا ضروری ہے اور ہم دونوں نے ایک ہی وقت میں دودھ نہیں پیا بلکہ درمیان میں 2 سال کا وقفہ ہے یعنی میں نے پہلے دودھ پیا تھا ،اس کے 2 سال بعد عبد الحکیم کی بیٹی حفصہ بی بی پیدا ہوئی، اس نے اس وقت دودھ پیا،جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے ۔ہماری رہنمائی فرمائیں اب اس نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کا نکاح حفصہ بی بی سے ایسی حالت میں ہوا کہ حرمتِ رضاعت کا علم نہیں تھا؛ لہٰذا یہ نکاح فاسد ہوا۔ اب چوں کہ حرمتِ رضاعت کا علم ہوچکا ہے ، اس لیےآپ پر ضروری ہے کہ زبان سے کہہ دیں کہ میں نے حفصہ بی بی سے تعلقِ زوجیت ختم کردیا ہے ، پھر عدت گذار کرحفصہ بی بی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ، اُن کاآپ کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 37)

وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة، والوطء بها لا يكون زنا.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 37)

(قوله: وبحرمة المصاهرة إلخ) قال في الذخيرة: ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه. اهـ.

(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.

وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

12.صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب