03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریستوران کے کسی ایک ملازم کی کوتاہی پرتمام ملازمین پر ذمہ داری ڈالنے کا حکم
88335اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میں ایک ریستوران(Restaurant) میں بطور امام تعینات ہوں۔ ہمارے ہاں یہ ضابطہ رائج ہے کہ اگر کوئی برتن یا دیگر سامان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو ماہ کے آخر میں تمام ویٹرز (خدمت کاروں) سے اس نقصان کی تلافی اجتماعی طور پر وصول کی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ طریقہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے:

1۔بے قصور ملازمین پر نقصان ڈالنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔

 2۔ شریعت میں کسی پر مالی ذمہ داری صرف اسی صورت میں عائد ہوتی ہے جب اس کی ذاتی کوتاہی یا غلطی ثابت ہو

لہٰذا، میں درج ذیل شرعی حل تجویز کرنا چاہتا ہوں: اگر کسی مخصوص ویٹر کی غلطی یا لاپروائی ثابت ہو تو صرف وہی شخص نقصان کی تلافی کرے۔اگر نقصان کسی ایک کی غلطی سے ثابت نہ ہو توریسٹورینٹ ایک ’’چیریٹی/ایمرجنسی فنڈ‘‘قائم کرے جس میں ہر ماہ کچھ رقم جمع کی جائے۔اس فنڈ سے ہونے والے نقصانات کو پورا کیا جائے۔بچت ہونے پر 50% صدقہ کر دیا جائے اور 50% ملازمین میں انصاف کے ساتھ تقسیم کر دیا جائے۔ برائے مہربانی، مندرجہ ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

1. کیا موجودہ طریقہ کار (تمام ویٹرز سے اجتماعی طور پر نقصان وصول کرنا) شرعی اعتبار سے جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید یہ واضح رہے کہ کسی ادارے/ریستوران(Restaurant) کے ملازمین کی حیثیت اجیر ِخاص کی ہوتی ہے۔اجیر ِخاص(بصورت مسئولہ بیرا(Waiter)) کا حکم یہ ہے کہ جس کام کوسرانجام دینے کیلئے  جن اٰلات، مشینری،برتن وغیرہ   جس طرح کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے ، وہ ان کے معروف استعمال کی حد تک  امانت دار  شمار ہوتاہے،لہٰذا اگر ملازم  جو چیز جس مقصد کے لئے  ہو اسی مقصد میں استعمال کرے اور اس سے کوئی نقصان سرزد ہوجائے تو جب تک واضح طور پر یہ ثابت نہ ہوسکے  کہ اس کی تقصیر(کوتاہی) یا حدود سے تجاوز کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ،تو اس سے کوئی  ضمان(تاوان) نہیں لیا جاسکتا۔البتہ اگر اس کی  تقصیر(کوتاہی) دلائل کی روشنی میں ثابت ہوجائے  تو پھر اُس سے ضایع شدہ چیز  کی بازاری قیمت  کے بقدر ضمان (تاوان )لیا جاسکتا ہے۔

اس تفصیل لے بعد یہ واضح رہے کہکسی خاص ملازم پر جرم ثابت ہو یا کسی ایک کی تعیین نہ ہو سکے،بہر صورت کمپنی اجتماعی طور سےملازمین کوضمان (تاوان) کی ادائیگی کا ذمے دارنہیں ٹھہرا سکتی۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 211):

وأما الثاني وهو بيان ما يغيره من صفة الأمانة إلى الضمان فالمغير له أشياء منها: ترك الحفظ؛ لأن الأجير لما قبض المستأجر فيه فقد التزم حفظه، وترك الحفظ الملتزم سبب لوجوب الضمان، كالمودع إذا ترك حفظ الوديعة حتى ضاعت على ما نذكره في كتاب الوديعة إن شاء الله تعالى.ومنها الإتلاف والإفساد إذا كان الأجير متعديا فيه بأن تعمد ذلك أو عنف في الدق، سواء كان مشتركا أو خاصا، وإن لم يكن متعديا في الإفساد بأن أفسد الثوب خطأ بعمله من غير قصده فإن كان الأجير خاصا لم يضمن بالإجماع.

حماد الدین قریشی عفی عنہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

11 /صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب