| 86997 | نکاح کا بیان | مشرکین اور کفار کے نکاح کا بیان |
سوال
کیا اس زمانےمیں اہل کتاب لڑکی کےساتھ نکاح کرناجائزہے؟ اگریقینی طورپرثابت ہوجائےکہ فلان لڑکی کتابیہ ہےاورآسمانی کتابوں پرایمان رکھتی ہےتوکیاپھرایسی کتابیہ لڑکی سےنکاح کرناجائزہے؟ امریکہ کےاندرمیں ایسےبہت سارےمسلمانوں کوجانتاہوں جنہوں نے کتابیہ لڑکیوں سےنکاح کیاہے، کیاان کا یہ نکاح درست ہے؟ نیزیہ بھی بتادیجیےگاکہ کتابیہ کےساتھ نکاح کاطریقہ کیاہوگایعنی نکاح کس طرح پڑھایاجائےگا؟ کیاچرچ وغیرہ میں پڑھایاجاسکتاہےیااس کےلیےمسجدکاہوناضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسلمان مرد کا کتابیہ خاتون کے ساتھ نکاح جائز ہے، بشرطیکہ وہ شروع سےاپنے اصل دین (عیسائیت یا یہودیت) پر قائم ہو۔ البتہ اگروہ الحاد، مذہب بیزاری، انکارِ آخرت وغیرہ کا شکار ہویااس سےہونے والی اولاد پر اسلام بیزاری کا خطرہ ہو، جیساکہ آج کل اکثرایساہورہاہےتو اس صورت میں اس کےساتھ نکاح جائزنہیں ہوگا، لہذاایسی حالت میں خوب سوچ سمجھ کرفیصلہ کرناچاہیے۔ باقی نکاح شریعت محمدیہ کےمطابق پڑھاناضروری ہے، جس کاطریقہ یہ ہےکہ کسی مسجدیاکسی عام جگہ میں دوگواہوں کی موجودگی میں دلہااوردلہن یااس کےوکیل سےایجاب وقبول کرایاجائے، پھرایک عالم دین بلندآوازسےنکاح کاخطبہ پڑھے۔ جہاں تک چرچ کی بات ہےتومسلمان کےلیےبحیثیت مسلمان چرچ جاناانتہائی نازیباعمل ہے، جس سےبچناچاہیے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى: ﴿اليوم أحل لكم الطيبت وطعام الذين أوتوا الكتب حل لكم وطعامكم حل لهم والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذين أوتوا الكتب من قبلكم ﴾. [المائده:25] وفي أحکام القرآن للجصاص: وإن کان قولہ تعالی[ولا تنکحوا المشرکات] إنما یتناول إطلاقہ عبدۃ الأوثان علی ما بیناہ فی غیر ھذا الموضع، فقولہ تعالی [والمحصنات من الذین أوتوا الکتاب من قبلکم]ثابت الحکم ؛ إذ لیس فی القرآن ما یوجب نسخہ.(أحکام القرآن: 3/325) في الدر المختار:(وصح نكاح كتابية) ، وإن كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل، وإن اعتقدوا المسيح إلها، وكذا حل ذبيحتهم على المذهب بحر. (3/ 45) وفي أحکام القرآن للجصاص: تزوج حذیفة بیھودیة، فکتب إلیہ عمر أن خل سبیلھا، فکتب إلیہ حذیفة أحرام ھي؟ فکتب إلیہ عمر لا ولکني أخاف أن تواقعوا المومسات منھن.( 3/323) وفي الهداية : قال: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي .... ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين. (1/ 185) وفي رد المحتار : قوله: (ويندب إعلانه) أي إظهاره والضمير راجع إلى النكاح بمعنى العقد لحديث الترمذي «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف» فتح. (3/ 8)
راز محمد اختر
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
25 شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


