03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی جانب سے اسٹامپ پیپر پر طلاق کے جملے لکھوانے سے پہلے خالی اسٹامپ پیپر پر دستخط کرنا
88470طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میں طلحہ محمود راجپوت اسلام آباد کا رہائشی ہوں،کچھ عرصہ قبل میں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف جا کر نکاح کیا اور اس کے بعد اپنی بیوی کو لے گیا اور دونوں خاندانوں کی رضا مندی سے واپس آیا کہ وہ خاندانوں کے سامنے شادی کرائیں گے ،لیکن آتے ہی میرے سسرال نے مطالبہ کیا کہ دونوں کو الگ کر کے اپنی اپنی عزت بچائیں،یہ بات میں نے چھپکے سے سن لی اور اس کے بعد میں نے سوشل میڈیا پر نکاح نامہ پوسٹ کیا اس نیت سے کہ اب ہمیں کوئی الگ نہیں کر پا ئے گا،لیکن اس کے بعد دونوں خاندانوں نے مجھے مجبور کیا۔

میرے والد ہارٹ کے مریض ہیں، انہوں نے مجھے کہا :اب ہماری جان لینا  چاہتا ہے وغیرہ ،جس سے میں بہت ڈر گیا کے ان کو کچھ ہوا توذمہ دار میں ہوں گا،میں نے اس وقت کہا کہ ٹھیک ہے، جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا کروں گا۔

اگلے دن لڑکی کی طرف سے بھی اسٹامپ پیپر نکالا گیا اور مجھ سے میرے والد نے خالی اسٹامپ نکلوایا اور انہوں نے خود لکھوایا اور میرے ہاتھ میں دیا اور خود تھوڑی دیر کے لیے کہیں اور چلے گئے ،جس کی وجہ سے مجھے موقع ملا اور میں نے ایک جاننے والے سے جھوٹے سائن کروالئے اور اسی کا انگوٹھا لگوایا اور والد جب واپس آئےتو میں نے کہا کہ کر لیا۔

 میرے علم میں نہیں کہ اس میں کیا لکھا تھا، کیونکہ اس دوران میں اسی کام کو سر انجام دے رہا تھااور ان کے واپس آتےہی انہوں نے اپنے سائن کیے اور مجھے پکڑایا کے پڑھو ،میں نے پڑھنے کے بجائے پیپر فولڈ کر کے جیب میں ڈالا اور کچھ دور جا نے کے بعد انہوں نے وہ لفافہ مجھ سے لیا اور اسے کسی اور کو دے دیا،اس ساری کاروائی کے دوران  میں نے بیوی کو میسج پر حقیقی صورت حال سے آگاہ بھی کیا۔

اور اس واقعہ کے تیسرے دن ہی بیوی سے رابطہ ہوا، اس نے کہا :میں مجبور تھی اور مجھے معلوم ہے کہ  تو نے یہ نہیں کیا ،تیرا مسج مجھے مل گیا تھا، ہم ہمیشہ میاں بیوی ہی رہیں گے۔

اب اس تفصیل کی روشنی میں میرا یہ سوال ہے کہ مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟کیونکہ  ایک تو میری نیت  طلاق دینے کی نہیں تھی اور نہ ہی اپنی زبان سے کوئی الفاظ نکالے،لیکن والد کے مجبور کرنے پر ان کے ساتھ عدالت گیا، کیونکہ مجھے اپنے والد کی حالت دیکھ کراور بہنوں کی بار بار یہ بات کہنے سے کہ ہمارے باپ کو کچھ ہوا تو ہم تجھے نہیں چھوڑیں گے ۔

چونکہ میرے والد کو پہلے دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے، اس وجہ سے میں خوف زدہ تھا،لیکن نہ ہی میں نے وہ اسٹامپ پیپر پڑھا، نہ اس کے بیان حلفی والے  صفحے پر اپنے دستخط کیے، بلکہ موقع ملتے کسی اور سے کروائےاور اس دوران بھی اپنی بیوی کو میسج پے میسج کر کے یہی حقیقت بتا رہا تھا کہ میرا طلاق کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

تنقیح: سائل کے والد وکیل ہیں اور وہ خود قانون کا طالب علم ہے،اس نے بتایا کہ کچہری میں جان پہچان موجود تھی،اس لئے خالی اسٹامپ پیپر لینے کے بعد والد صاحب کسی کام سے گئے تو میں نے وہاں موجود ایک دوست سے کہا کہ اس پر میرے جیسے دستخط کردواور اسے اپنا دستخط سکھادیا،یہ واضح رہے کہ اس وقت اسٹامپ پیپر خالی تھا،اس پر کچھ لکھا ہوا نہیں تھا،دستخط کے بعد اس پر طلاق کے جملے لکھوائے گئے تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ بعد میں میں اسے اپنے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے چیلنج کرسکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے،اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل واقع کے مطابق نہ ہو تو دیا گیا جواب صورت مسئولہ پر منطبق نہیں ہوگا  اورمحض مفتی کے بتانے سے حلال چیزحرام اور حرام چیز حلال نہیں بنے گی،لہذا اگر  کوئی بھی سائل غلط بیانی سے کام لے کر اپنے فائدے کے مطابق جواب حاصل کرے گا تو اس کا وبال اسی کے سر ہوگا،اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر تنقیح میں بیان کی گئی تفصیل درست اور حقیقت پر مبنی ہے کہ آپ نے خالی اسٹامپ پیپر پر کسی سے دستخط کروائے تھے،اس کے بعد اس خالی اسٹامپ پیپر پر طلاق کے جملے آپ کے والد نے آپ کی اجازت کے بغیر لکھوائے تھے اور ان جملوں کے لکھوانے کے بعد آپ نے اس پر کسی بھی طریقے سے رضامندی کا اظہار نہیں کیا تھا،بلکہ آپ کے والد نے ازخود وہ طلاق نامہ آپ کی بیوی کو بھجوادیا تھا توپھر مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 246):

"ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابہ".

"الفتاوى الهندية "(1/ 379):

"رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها وكذلك لو قال لذلك الرجل ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم تقم عليه البينة ولم يقر أنه كتابه لكنه وصف الأمر على وجهه فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط والله أعلم بالصواب".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

03/ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب