| 91895 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک خاتون سرکاری ملازم تھیں اور ان کی وفات کے بعد ان کے نام سے سرکاری پنشن/فیملی پنشن جاری ہونے کا مسئلہ درپیش ہے، مرحومہ شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر اور بچے موجود ہیں، مرحومہ کو ان کے اپنے شوہر نے باہمی مالی لین دین کی بنیاد پر عمداًقتل کیا، قتل کا مقدمہ باقاعدہ عدالت میں چلا، تمام عدالتی مراحل مکمل ہوئے، اور شوہر نے جرم کا اقرار بھی کیا۔ عدالت نے اسے مجرم قرار دے کر سزائے موت کا حقدار قرار دیا ہے،اب سوال یہ ہے کہ:
کیا شرعاً ایسا شوہرجس نے اپنی بیوی کو عمداً قتل کیا ہو اور عدالت سے اس کا جرم ثابت ہوچکا ہو، مقتولہ بیوی کی سرکاری پنشن یا فیملی پنشن میں کسی قسم کا حق رکھتا ہے؟اگر شوہر کو قاتل ہونے کی وجہ سے حصہ نہیں ملے گا تو کیا مرحومہ کی پنشن/ترکہ میں اس کے بچے شرعی وارث ہوں گے اور پنشن کا حصہ بچوں کو منتقل ہوگا؟
اور اگر سرکاری قانون کے اعتبار سے یہ رقم مرحومہ کا ترکہ نہ ہو ،بلکہ حکومت کی طرف سے بیوہ/یتیم بچوں یا دیگر اہلِ خانہ کے لیے فیملی پنشن کے طور پر مقرر کی گئی ہو، تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا قاتل شوہر اس سرکاری پنشن کا مستحق ہوسکتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لہذا صورت مسئولہ میں شخصِ مذکور اپنی مقتولہ بیوی کی میراث میں کسی حصہ کا حق دار نہیں ہے، جہاں تک مرحومہ کی سرکاری پنشن کا تعلق ہے تو آدمی کی وفات کے بعد سرکاری ملازم کو مختلف قسم کے فنڈز ملتے ہیں، جن میں سے اکثر فنڈز شرعی اعتبار سے وراثت کا حکم رکھتے ہیں، جیسے جی پی فنڈ وغیرہ ، کیونکہ یہ فنڈز زندگی میں ملازم کا حق لازم بن جاتے ہیں، اس لیے ان میں وراثت جاری ہوتی ہےاور شرعی ورثاء اس کے حق دار ہوتے ہیں، لہذا ایسے فنڈز میں شوہر قاتل ہونے کی وجہ سے شرعا ًکسی حصہ کا حق دار نہیں ہے، البتہ بعض فنڈز ایسے ہوتے ہیں کہ جو ادارہ کی طرف سے ملازم کے پسماندگان کو بطورِ عطیہ دیے جاتے ہیں ، جیسے وفات کے بعد ملنے والی ماہانہ پنشن ، یہ رقم عام طور پر ادارہ کی طرف سے مستحقین پسماندگان میں سے نامزد افراد کو دی جاتی ہے، لیکن مذکورہ صورت میں چونکہ مرحومہ کا شوہر قاتل ہے، جس کو شریعت نے مرحومہ کی مالی وراثت سے محروم قرار دیا ہے اور ماہانہ پنشن بھی درحقیقت مرحومہ کی خدمت کے صلہ کےطور پر دی جاتی ہے اور زندگی میں مرحومہ ہی اس کی حق دار تھی، لہذا قاتل کے حق میں اس نوعیت کے دیگر مالی فوائد کا حکم بھی وراثت کا سا ہو گا اور قاتل شوہر اس کا حق دار نہیں ہوگا، لہذا ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرحومہ کی ماہانہ پنشن بھی شوہر کے علاوہ مرحومہ کے دیگر مستحقین افراد جیسے اولاد وغیرہ کے نام پر جاری کرے۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 662، رقم الحديث: 2645) الناشر: دار الرسالة العالمية، بيروت:
حدثنا محمد بن رمح المصري، أخبرنا الليث بن سعد، عن إسحاق بن أبي فروة، عن ابن شهاب، عن حميدعن أبي هريرة، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "القاتل لا يرث".
مسند أحمد مخرجا (1/ 423، رقم الحديث: 346) الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت:
حدثنا أبو المنذر أسد إسماعيل بن عمر أراه عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قتل رجل ابنه عمدا، فرفع إلى عمر بن الخطاب، فجعل عليه مائة من الإبل، ثلاثين حقة وثلاثين جذعة، وأربعين ثنية، وقال: لا يرث القاتل، ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يقتل والد بولده» لقتلتك.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 220) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
وأما شرائط الاستحقاق فنوعان: نوع يعم أسباب الإرث كلها، ونوع يخص النكاح أما الذي يعم الأسباب كلها فمنها شرط الأهلية وهو أن لا يكون الوارث مملوكا ولا مرتدا ولا قاتلا، فلا يرث المملوك ولا المرتد من أحد ولا يرث القاتل من المقتول.
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 304) الناشر: المطبعة الخيرية:
وأما القاتل فلا يرث من المقتول لا من الدية ولا من غيرها لقوله - عليه السلام - «لا يرث القاتل» ؛ ولأنه حرم الميراث عقوبة له؛ لأنه استعجل ما أخره الله فمنع من الميراث وهذا إذا كان قتلا يتعلق به القصاص أو الكفارة أما ما لا يتعلق به ذلك لا يمنع الميراث.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/ربیع الاول 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


