03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مدخول بھا کو الگ الگ جملوں سے تین طلاقیں دینے کاحکم
88369طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

لڑکی کی آٹھ سال پہلے منگنی ہوئی،منگنی کے دو سال بعدویڈیو کال پر نکاح ہوا ،لڑکا سالوں سے باہر ملک رہائش پذیر ہے۔لڑکی کے والدین کے مطابق چونکہ لڑکا کئی معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھا لہٰذا لڑکی نے خلع کا مطالبہ کیا،جس پرلڑکے نے لڑکی کو فون پر تین طلاقیں دے دی۔لڑکی کی خالہ کا کہنا ہے کہ اس طلاق کا اقرار لڑکے نے مجھ سے فون پر کیا کیوں کہ لڑکی کی خالہ اس لڑکے کی بھابھی ہیں۔

طلاق کے بعد بھی لڑکا پاکستان نہیں آیا،اب لڑکی کے دوبارہ رشتے آنا شروع ہوئے تو یہ لڑکا دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور 30 ہزار یورو کی ڈیمانڈ رکھی ہے کہ اگر یہ پیسے نہ ملے تو میں طلاق سے انکاری ہوں۔میں اپنےبیٹے کا نکاح اس لڑکی سے کرنا چاہتی ہوں،کیا یہ جائز ہے؟

تنقیحات:

(1)ویڈیو کال پر نکاح کی وضاحت ؟وکیل مجلس نکاح میں موجود تھا یا نہیں؟

جواب: ویڈیو کال پر نکاح کاغلطی سے لکھ دیا ہے ،حقیقت میں نکاح عام طریقے سے ہوا ہے یعنی لڑکی کا وکیل اور لڑکا خود مجلس نکاح میں موجود تھا۔

(2)نکاح کے بعد تا حال رخصتی نہیں ہوئی؟خلوت صحیحہ ؟

جواب:کسی قسم کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

(3)تین طلاقیں کن الفاظ کے ذریعے دی ہیںَ؟ یعنی تینوں اکٹھی ایک ہی جملے سے دی ہیں یا تین الگ الگ جملوں سے؟

جواب:تین الگ الگ جملوں سے۔میں طلاق دیتا ہوں تین مرتبہ کہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیلات مع تنقیحات اگر درست ہیں، یعنی لڑکے نے اپنی بیوی کو نکاح کے بعد رخصتی اور خلوتِ صحیحہ (کسی مانع کے بغیر تنہائی میں ملاقات) سے پہلے  تین طلاقیں الگ الگ جملوں سے دی ہیں تو ایسی صورت میں لڑکی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے، اور لڑکی پر عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہے،لہٰذا آپ اپنے بیٹے کا نکاح مذکورہ لڑکی سے کرسکتے ہیں۔

 اسی طرح اگر سابق شوہر دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو وہ بھی مذکورہ لڑکی سے باہمی رضامندی اور نئے مہر کے ساتھ،گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ  نکاح کرسکتا ہے۔البتہ آئندہ کے لیےاسے دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،یعنی مزید دو طلاقیں دیں تو مذکورہ لڑکی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 286)

(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) .

المحيط البرهاني، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة، کراتشي(4/ 406)

إذا قال لها قبل الدخول بها: أنت طالق ثلاث يقع الثلاث، وكذلك إذا قال لها: ثنتين تقع ثنتان؛ والوجه في ذلك أن في هذه الصورة أول الكلام يتوقف على آخره؛ لأن في آخر الكلام ما يغير حكم أوله؛ لأن قوله أنت طالق لا يحتمل العدد عندنا؛ ولهذا لا تصح نية العدد فيه، وإذا توقف أول الكلام على آخره كان الوقوع عند آخره، فيصادفها آخر الكلام وهي منكوحة،  بخلاف ما إذا كرر لفظ الطلاق بحرف العطف أو بغير حرف العطف فقال لها: أنت طالق وطالق، أو قال: فطالق، أو قال: ثم طالق، أو قال: أنت طالق طالق، أو قال: ترايك طلاق، ترايك طلاق، حيث تقع واحدة؛ لأن هناك ليس في آخر كلامه ما يغير حكم أوله، فلم يتوقف أوله على آخره، فطلقت بأول الكلام وبانت لا إلى عدة، فيصادفها الكلام الثاني وهي مبانة، فلغی.

وفي «فتاوى الفضلي»: إذا قال لها قبل الدخول بها: اگرتوزن مني بيك طلاق ودو طلاق دست بازدا شته، يقع ثلاث تطليقات، ولو لم يقل: دست باز داشته تقع واحدة؛ لأن في الوجه الأول الکلام إنما يتم عند قوله "دست باز داشته"؛ لأنه صار مغیرا للأول، فيتوقف، فیقع الثلاث جملة، وفي الوجه الثاني أول كلامه تام، فبانت به لا إلى عدة.

خلاصة الفتاویٰ (2/87)

قال لامرأته قبل الدخول بها: " اگر تو زن وئی ترا بیک طلاق و دو طلاق و سه طلاق دست باز داشتم" یقع ثلاث، ولو لم یقل "دست باز داشتم" یعنی واحدةهذا في أیمان الفتاوی، وما تقدم في طلاقهاوکذا لو قال: "اگر فلانه بزنی کنم از من بیک طلاق و دو طلاق و سه طلاق، فتزوجها، تطلق واحدة، ولو قال: "بیکی و دو و سه طلاق" ثم تزوجها یقع الثلاثوتمام هذا في خزانة الواقعات.

الفتاوى الهندية (1/ 373)

الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول:

الأصل في هذه المسائل أن الملفوظ به أولًا إن كان موقعًا أولًا وقعت واحدة، وإذا كان الملفوظ به أولًا موقعًا آخرًا وقعت ثنتان.  

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

15.صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب