03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانور ادھیارے پر دینے کا حکم (جانور پالنے کے لئے نصف پر دینا)
88374شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

ایک شخص وسرے کو کوئی جانور ادھیارے پر پالنے کے لیے دیتا ہے، دوسرا بندہ اس کو پالتا ہے، پھر جب بیچیں گے تو دونوں کے درمیان آدھا آدھا پرافٹ ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا یہ شراکت داری درست ہے؟ اس جانور ے دودھ کا کیا حکم ہو گا؟ وہ کس کی ملکیت ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے نزدیک مذکورہ صورت میں شراکت کا یہ طریقہ درست نہیں، کیونکہ یہ معاملہ درحقیقت اجارہ کا ہے اور اجارہ کے معاملے میں شرعی اعتبار سے اجرت کا معلوم اورمتعین ہونا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں اجرت معلوم نہیں، کیونکہ ممکن جانور بیمار ہو جائے یا بچے پیدا نہ ہوں، اس صورت میں پالنے والے کی محنت ضائع ہو گی، اس کی درج ذیل دوصورتیں جائز ہیں:

1۔   ایک صورت یہ ہے کہ مالک جانور کو پالنے کے لیے کرایہ پر دے دے اور پالنے والے کی اجرت طے کرلے، اس صورت میں دودھ اوربچے وغیرہ سب مالک کے ہوں گے۔

2۔ دوسری صورت یہ کہ ایک شخص اپنے پیسوں سے جانور خریدے اور پھر یہ شخص پالنے والےشخص  کے ہاتھ اس کا آدھا حصہ  آدھی قیمت پر بیچ دے ،پھر بیچنے والا اس کو وہ پیسے معاف کردے یا یہ کہ مالک اس جانور کا آدھا حصہ دوسرے شخص کو بطورِ ہبہ (ہدیہ) دے دے تو  ان دونوں صورتوں میں  دونوں کے درمیان یہ جانور مشترک ہوجائے گا، اس کے بعد پالنے والا بطورِ تبرع اس کو پالتا رہے،  اس  کے بعدجانورسے  جو بچے   پیدا ہوں گے ان میں دونوں فریق برابر شریک ہوں گےاور اس طرح اس جانورکے دودھ میں بھی دونوں برابر کےشریک ہوں گے۔

نوٹ: اس میں آدھا (نصف) جانور بیچنے یا ہدیہ کے طور پر دینے کا بطورِ مثال ذکر کیا گیا ہے، ورنہ اگر مالک زیادہ نفع لینا چاہے تو باہمی رضامندی سے جانور کے ایک تہائی یا چوتھائی حصے میں بھی خریدوفروخت اور ہبہ کا معاملہ کیا جا سکتا ہے، البتہ اس صورت میں اسی تناسب سے دونوں فریق جانور سے پیدا ہونے والے بچوں اور دودھ میں شریک ہوں گے۔

حوالہ جات

خلاصة الفتاوی:3/114کتاب الإجارة، الجنس الثالث في الدواب ،ط/قدیمی:

"رجل دفع بقرةً إلى رجل بالعلف مناصفةً، وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة، والإجارة فاسدة".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 62) الناشر: دار الكتب العلمية:

ولا خلاف في شركة الملك أن الزيادة فيها تكون على قدر المال حتى لو شرط الشريكان في ملك ماشية لأحدهما فضلا من أولادها وألبانها، لم تجز بالإجماع.

الفتاوی الهندية(4/504، کتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه، ط/رشیديه):

"دفع بقرةً إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافًا فالإجارة فاسدة ... والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه، ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصْل (ماسال من الأقط بعد الطبخ)فيكون بينهما".

الفتاوى الهندية (2/ 335) الناشر: دار الفكر،بيروت:

إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين فما حدث فهو لصاحب البقرة ولذلك الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فيما قام عليها وعلى هذا إذا دفع دجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفين، والحيلة في ذلك أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل ونصف الدجاجة ونصف بذر الفليق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما فيكون الحادث منها على الشركة، كذا في الظهيرية.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

16/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب