| 88353 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
میری ہمشیرہ کی ملکیت میں تقریباً ساڑھے چار تولہ سونا،دو چاندی کی انگوٹھیاں اور نقدی کی صورت میں کچھ رقم بھی ہے۔کیا اس پر زکوٰۃ دینا واجب ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگرکسی کے پاس سونا ،نصاب سے کم ہو لیکن اس کے پاس سونے کے ساتھ چاندی یا نقدی یا مال ِ تجارت (جو چیز فروخت کرنے کی نیت سے خریدی ہو اور یہ نیت برقرار ہو ) بھی ہو اور ان سب کو ملا نے سے ان کی قیمت ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو ان پر سال گزرنےپر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔
ساڑھے چار تولہ سونا اگرچہ سونے کے نصاب سے کم ہیں، مگر اس کے ساتھ چاندی کی انگوٹھیاں اور نقدی بھی ہیں جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ بنتی ہے ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں ساڑھے چار تولے سونے، دو چاندی کی انگوٹھیوں اور نقد رقم پر (سال گزرنے کے بعد) ان کی مجموعی مالیت کا زکوٰۃ(ڈھائی فیصد ) ادا کرنا لازم ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(19/02):
فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
16/صفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


