03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ
88354زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

میری ہمشیرہ کی ملکیت میں تقریباً ساڑھے چار تولہ سونا،دو چاندی کی انگوٹھیاں  اور  نقدی کی صورت میں کچھ رقم بھی ہے،تو اگر اس پر زکوٰۃ لازم ہے توکیا وہ صرف موجودہ سال کی زکوٰۃ ادا کرے گی، یا پچھلے تمام سالوں (مثلاً 2018 سے اب تک) کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا اس پر لازم ہے؟اگر پچھلے سالوں کی  زکوٰۃ  بھی لازم ہے توہر سال کے اعتبار سے اُس وقت کی قیمت کے حساب سے دی جائے گی، یا موجودہ قیمت کے حساب سے سب سالوں کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب کوئی شخص نصاب کے بقدر مال کا مالک بن جائے تو جب تک وہ صاحب نصاب رہے تب تک اس پر ہر سال ،تمام اموالِ  زکوۃ میں سے چالیسواں  حصہ (ڈھائی فیصد) زکوۃ ادا کرنا  لازم ہوتا ہے۔لہذا اگر کسی  نے صاحب ِنصاب بننے کے بعد کئی سال تک زکوۃ ادا نہیںکی ہو تو اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوگا۔نیز،زکوٰۃ کی ادائیگی میں سونے، چاندی وغیرہ کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت(یوم الاداء) اُن کی مارکیٹ قیمت )قیمتِ فروخت) کا اعتبار کیا جائے گا۔

گزشتہ سالوں کی زکوٰ ۃ کی ادائیگی کا  طریقہ یہ ہے کہ جس وقت زکوۃ ادا  کرنا ہو، تو ادائیگی کے وقت سونے اور چاندی کی  موجودہ  مارکیٹ  کی قیمت کے اعتبار سے  گذشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کی جائے ،اس طرح کہ  پوری مالیت معلوم کرنے کے بعد سب سے پہلے ،پہلے سال(2018ء یعنی 1439ھ)   کی   ڈھائی  فیصد زکوۃ نکالے،پھر اس طرح دوسرے سال (2019ء یعنی 1440ھ)کی   زکوۃ نکالتے وقت  کل  مالیت سےسابقہ سال کی زکوۃ  کی رقم منہا(منفی)       کیا  جائے ،اور پھر بقایا سے ڈھائی فیصد نکالے،اس  طرح گذشتہ تمام سالوں کی زکوۃ نکالتے نکالتے جب سونا ،چاندی   اور نقدی کی مجموعی مالیت، مقدار نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت)سے کم ہوجائے،تو اس کے بعد کے سالوں کی زکوۃ  نکالنا لازم نہیں ہے۔

فرض کریں:  6 اگست کو مذکورہ سونے، چاندی اور نقدی کی مجموعی مالیت 10 لاکھ روپے ہو، تو سب سے پہلے سال 2018ء کی زکوٰۃ (ڈھائی فیصد یعنی 25 ہزار روپے) ادا کی جائے گی، جس کے بعد باقی مالیت 9 لاکھ 75 ہزار (975,000) بچے گی۔ اب سال 2019ء کی زکوٰۃ اسی رقم(9لاکھ 75ہزار) کا ڈھائی فیصد یعنی 24,375 روپے ہوگی۔ یہ رقم منہا (منفی)کرنے کے بعد باقی مالیت 9 لاکھ 50 ہزار  625 روپے بچے گی، تو سال 2020ء کی زکوٰۃ اسی باقی مالیت  سے ادا کی جائے گی۔ اسی ترتیب سے باقی سالوں کی زکوٰۃ  کابھی حساب لگا کر ادا کی جائے گی حتی کہ مجموعی مالیت زکوٰۃ کی نصاب(ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) سے کم رہ جائے، تو اس کے بعد زکوٰۃ لازم نہیں۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 22):

«‌وإنما ‌له ‌ولاية ‌النقل ‌إلى ‌القيمة ‌يوم ‌الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة.

(شامیۃ:۲/۲۸۶)

’’وجازدفع القیمۃ في زکاۃ وعشر وفطرۃ ونذر، وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالا یوم الأداء، وفي السوائم یوم الأداء إجماعا۔‘‘

 المبسوط للشیبانی: 2/ 82،ط:ادارة القرآن )

"قلت فإذا ‌أخذها بعد سنين قال يزكيها للسنة الأولى خمسا وعشرين درهما فهذه زكاة الألف ويزكي السنة الثانية ألفا غير خمسة وعشرين،قلت فإن توالت عليه سنون زكى لأول سنة ألفا كاملا ثم ينقص في كل سنة تلك الزكاة التي زكى أبدا كذلك حتى تنقض من مائتي درهم قال نعم وليس في أقل من مائتي درهم زكاة ولا صدقة".

(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ۲/ ۷ ط: سعيد)

"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم".

 حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

16/صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب