| 88411 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ والد نے نیٹ لگوایا ہے ،وہ اس کا بل دیتے ہیں،بیٹے کا اس نیٹ کی سہولت کو والد سے اجازت لیے بغیر استعمال کرنا جائز ہے؟ گھر میں موجود لوگ اس نیٹ کو استعمال کرتے تھے، ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، انہوں نے مجھے اس کو استعمال کرنے سے منع نہیں کیا ہے، میں ان کابیٹا ہوں،ہم ایک گھر میں رہتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کا اصول یہ ہے کہ "کسی شخص کا مال اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے"۔البتہ اجازت کبھی صراحتاً ہوتی ہے اور کبھی صراحتاً تو نہیں ہوتی،البتہ دلالۃً عرف وغیرہ کی وجہ سےبھی اجازت کا تحقق ہوجاتا ہے۔
مسؤولہ صورت میں والد کی اجازت کے بغیر نیٹ کی سہولت سےفائدہ اٹھانے کا تعلق اس بات سے ہے کہ ان کے مزاج ،آپ کے ساتھ ان کا تعلق، رویہ اور ان کے زیر تربیت ہونے کی وجہ سے،اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صراحتاً ان سے نیٹ استعمال کرنے کی اجازت طلب کریں گے تو وہ اجازت نہیں دیں گے،تو ایسی صورت میں بغیر اجازت کے والد صاحب کا نیٹ آپ کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے،بصورت دیگر جائز ہے۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (8/ 305)
وقال النووي: إعلم أنه لا بد في العامل، وهو الخازن، وفي الزوجة والمملوك من إذن المالك في ذلك، فإن لم يكن له إذن أصلا فلا يجوز لأحد من هؤلاء الثلاثة، بل عليهم وزر تصرفهم في مال غيرهم بغير إذنه، والإذن ضربان. أحدهما: الإذن الصريح في النفقة والصدقة. والثاني: الإذن المفهوم من اطراد العرف: كإعطاء السائل كسرة ونحوها مما جرت به العادة، واطراد العرف فيه، وعلم بالعرف رضى الزوج والمالك به، فإذنه في ذلك حاصل وإن لم يتكلم، وهذا إذا علم رضاه لاطراد العرف، وعلم أن نفسه كنفوس غالب الناس في السماحة بذلك والرضى به، فأن اضطرب العرف وشك في رضاه أو كان شحيح النفس يشح بذلك، وعلم من حاله ذلك أو شك فيه، لم يجز للمرأة وغيرها التصدق من ماله إلا بصريح إذنه، وأما قوله صلى الله عليه وسلم، وأشار به إلى ما ذكرناه من حديث أبي هريرة آنفا فمعناه: من غير أمره الصريح في ذلك القدر المهين، ويكون معها إذن سابق يتناول لهذا القدرلا وغيره، وذلك هو الإذن الذي قدمناه سابقا إما بالصريح وإما بالعرف، ولا بد من هذا التأويل لأنه صلى الله عليه وسلم جعل الأجر مناصفة في رواية أبي داود، رحمه الله، فلها نصف أجره ومعلوم أنها إذا أنفقت من غير إذن صريح ولا معروف من العرف فلا أجر لها، بل عليها وزر، فتعين تأويله.
الموسوعة الفقهية الكويتية (27/ 324، بترقيم الشاملة آليا)
وجاءَ فِي تَفسيرِ قولهِ تَعالى : { أَوْ صَدِيقِكُمْ } أنّه إذا دَلّ ظاهرُ الحالِ على رِضا المالكِ قامَ ذلك مقامَ الإذنِ الصّريحِ .
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
18.صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


