| 88378 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میرے شوہر بس ڈرائیور تھے۔ جب ان کا ایکسیڈنٹ ہواتو اس وقت وہ ڈیوٹی پر تھے اور اسی موقع پر وفات پا گئے۔ کمپنی نے مجھے انشورنس کی رقم دی تو میری سوتیلی بیٹیوں نے) جو کہ شادی شدہ ہیں) مجھ سے اپنا حصہ لے لیا اور کہا کہ یہ ہمارے والد کے پیسے ہیں۔ کیا انشورنس کی رقم وراثت میں تقسیم ہوگی، جبکہ کمپنی یہ رقم خاص طور پر بیوہ اور یتیم کے لیے بھیجتی ہے؟ مزید یہ کہ میرے شوہر نے اپنی زندگی ہی میں بیٹیوں کی شادیاں کر دی تھیں۔ براہِ کرم تفصیل سے بتائیں کہ کیا اس رقم کا ان کے لیے لینا جائز تھا یا نہیں؟
نوٹ :سائلہ سے فون پر دریافت کیا گیا کہ "انشورنس" سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے مراد Death Benefit Fund ہے، اور یہ بھی بتایا کہ مرحوم شوہر نے اس فنڈ کے لیے سائلہ کو اپنے نام پر نامزد کیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کمپنی اپنے کسی ملازم کی ڈیوٹی کے دوران وفات پرجو امداد یا فنڈ فراہم کرتی ہے،اسے وفات امدادی فنڈDeath Benefit Fund/کہا جاتا ہے۔ یہ وہ رقم ملازم کی تنخواہ یا دیگر واجبات کا حصہ نہیں ہوتی، بلکہ ادارے کی جانب سے بطور تبرع اور امداد دی جاتی ہے۔ یہ رقم ملازم اپنی زندگی میں وصول نہیں کر سکتا، بلکہ اس کی وفات کے بعد ادارہ ملازم کی طرف سے نامزد کردہ افراد کو ادا کرتا ہے۔ اگر ایک سے زیادہ افراد کو نامزد کیا گیا ہو تو ادارہ انہی کی تعین کے مطابق حصے بھی تقسیم کرتا ہے،جس کی مثال بینوولنٹ فنڈ کی رقم ہے۔
شرعی اصولوں کے مطابق یہ رقم ترکہ (وراثت) کا حصہ نہیں بلکہ ادارے کی جانب سے جس شخص کے نام پر جاری کی جائےوہی اس کابطور ہبہ و امداد کے مالک ہوتا ہے۔ اس تفصیل کے مطابق صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے شوہر نے کمپنی میں اس رقم کے لیے آپ کو نامزد کیا تھا اور کمپنی نے یہ رقم آپ ہی کے نام پر جاری کی، تو یہ ترکہ میں شامل نہیں ہوگی بلکہ آپ کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی،لہذا آپ کی شادی شدہ سوتیلی بیٹیوں کے لیے اس رقم کو بطور میراث لینا شرعاً درست نہیں تھا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 759):
(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
17/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


