03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربتِ فاسدہ اور بیعِ باطل سے متعلقہ کاروباری تنازع کا شرعی حکم
91817مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ایک کاروباری معاملہ میں دو فریقین ، اشرف اللہ اور امان اللہ کے درمیان نزاع پیدا ہو گیا ہے ، جس کے شرعی حکم کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے، اس معاملہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

اشرف اللہ اور امان اللہ کے درمیان ایک کاروباری معاہدہ طے پایا، جس کے مطابق اشرف اللہ سرمایہ فراہم کرے گا،جس کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار سے متعلق منافع آنے تک تمام اخراجات اشرف اللہ اپنے سرمایہ سے ادا کرے گا، جبکہ امان اللہ اپنی محنت ، وقت اور صلاحیت اس کاروبار میں صرف کرے گا۔ کاروبار کی عملی صورت یہ تھی کہ امان اللہ موبائل اور آن لائن ذرائع کے ذریعے ایک کمپنی کے فرنیچر کی تشہیر کرتا، گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا اور ان سے سودا طے کرتا، حالانکہ اس وقت وہ سامان اس کی ملکیت میں نہیں ہوتا تھا، بلکہ بعد میں وہ کمپنی سے خرید کر گاہک کو فروخت کرتا تھا، البتہ سامان پر قبضہ کیے بغیر آگے بیچتا تھا۔

اشرف اللہ کا بیان :

  • اشرف اللہ کے بیان کے مطابق اس نے ابتداء امان اللہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ کچھ سامان (مثلاً ایک یا دو شیٹس) اپنے قبضے میں رکھے، تاکہ خرید و فروخت کی صورت زیادہ واضح اور شرعی اصولوں کے قریب ہو سکے،23نومبر 2022 کو دونوں فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا، جس میں طے پایا کہ خرچہ کے لیے سرمایہ مکمل طور پر اشرف اللہ فراہم کرے گا اور امان اللہ محنت کرے گا۔
  • منافع کی تقسیم یہ مقرر ہوئی کہ پہلے سال میں امان اللہ کو ساٹھ فیصد اور اشرف اللہ کو چالیس فیصد ملے گا، جبکہ اس کے بعد دونوں برابر کے شریک ہوں گے۔ مزید یہ کہ نقصان کی صورت میں اصل نقصان اشرف اللہ برداشت کرے گا، اور نئے افراد کو کاروبار میں شامل کرنے کے لیے دونوں کی باہمی رضامندی ضروری ہو گی۔ اس معاہدہ میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ یہ شراکت پانچ سال تک بر قرار رہے گی اور کوئی ایک فریق یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار نہیں کر سکے گا۔ اس معاہدہ پر دونوں نے دستخط کیے اور کاروبار کا آغاز ہوا۔

اشرف اللہ کے مطابق منافع کی تقسیم (40/60) کی تجویز خود امان اللہ کی طرف سے دی گئی تھی، اور معاہدہ مکمل ہونا باہمی رضامندی اور مشاورت سے طے پایا تھا، نیز امان اللہ انگریزی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس نے معاہدہ سمجھ کر دستخط کیے۔ کاروبار کے شروع میں امان اللہ دبئی چلا گیا اور وہاں سے اس کاروبار کو جاری رکھا۔

اس دوران اشرف اللہ نے کاروبار اور امان اللہ کے قیام و دیگر ضروریات پر تقریباً بائیس لاکھ ننانوے ہزار پانچ سو روپے خرچ کیے، جس میں ویزا، ٹکٹ ، رہائش ، ایڈور ٹائزنگ اور دیگر اخراجات شامل تھے۔ اشرف اللہ کے بیان کے مطابق کاروبار کا بنیادی ذریعہ موبائل جس کے ذریعے اشتہارات چلتے تھے) بھی اسی نے فراہم کیا تھا۔ نیز وہ خود تین مرتبہ دبئی گیا اور مجموعی طور پر تقریباً تیس دن وہاں قیام کر کے عملی تعاون کیا، جس میں فیکٹریوں کی تلاش، سامان کی ترسیل اور رہنمائی شامل تھی۔

امان اللہ کا بیان:

دوسری طرف امان اللہ کا کہنا ہے کہ اشرف اللہ نے اصل تجارتی سرمایہ فراہم نہیں کیا، بلکہ صرف ابتدائی اخراجات برداشت کیے، اس کے مطابق ان اخراجات کی مقدار تقریباً 9,70,500 روپے تھی، جبکہ اشتہارات اور ابتدائی تشہیری سرگرمیوں پر تقریباً 1,93,250 روپے خرچ ہوئے، جن کے ثبوت اس کے پاس موجود ہیں۔ امان اللہ کے مطابق یہ اخراجات محدود اور ابتدائی نوعیت کے تھے، نہ کہ ایسا مستقل سرمایہ جس کی بنیاد پر پورے کاروبار کے منافع میں دائمی شرکت لازم ہو جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ بعد میں حاصل ہونے والی آمدن اس کے اپنے ذاتی روابط ، محنت، مارکیٹ میں جا کر کام کرنے، گاہکوں سے براہ راست معاملہ کرنے، ناپ لینے، سمجھانے، خاکے بنانے اور مسلسل کوشش کا نتیجہ تھی۔ وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ اس نے یہ کام عملی طور پر وہاں جا کر سیکھا اور پہلے سے اس درجے کا تجربہ نہیں رکھتا تھا۔ امان اللہ کے مطابق نہ اس کے پاس اور نہ اشرف اللہ کے پاس کوئی فیکٹری یا قائم شدہ کاروبار تھا، بلکہ وہ تیسرے فریق کی اشیاء کمیشن پر فروخت کرتا تھا، اور وہ خود عملا ایک کمیشن ایجنٹ / محنت کرنے والے فرد کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کچھ عرصہ بعد امان اللہ نے کاروبار ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی، مگر اشرف اللہ نے معاہدہ کی شرط ( پانچ سال ) کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے انکار کر دیا۔

 اس کے بعد فریقین کے خاندان کے افراد کی موجودگی میں باہمی مشاورت سے ایک نیا ( ترمیم شدہ ) معاہدہ طے پایا، جس میں بعض سابقہ شرائط میں تبدیلی کی گئی اور یہ طے ہوا کہ امان اللہ اشرف اللہ کو پینتالیس لاکھ آٹھ سوچھ روپے بطور منافع ادا کرے گا اس کے بعد اشرف اللہ اور امان اللہ دونوں کا شراکت کا معاہدہ  ختم سمجھا جائے گا۔ اس نئے معاہدہ پر بھی دونوں فریقین اور گواہوں نے دستخط کیے، امان اللہ کے مطابق یہ حساب حتمی اور قطعی نہیں تھا، کیونکہ اس وقت کا روبار جاری تھا، اور اسی بناء پر اس نے اسے آخری تصفیہ نہیں سمجھا، مزید یہ کہ وہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ دوسرا معاہدہ ایک ایسے ماحول میں ہوا ، جس میں پہلے معاہدہ اور پانچ سالہ شرط کا دباؤ موجود تھا۔بعد ازاں امان اللہ نے اس میں سے صرف پندرہ لاکھ روپے ادا کیے، جبکہ بقیہ رقم ادا نہیں کی۔ امان اللہ کے مطابق اس نے بقیہ ادائیگی اس لیے رو کی تاکہ پہلے اس معاملہ کی شرعی حیثیت واضح ہو جائے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا مقصد کسی کا حق دبانا نہیں بلکہ شرعی وضاحت کے بعد درست حساب ادا کرنا ہے۔

اشرف اللہ کا موقف یہ ہے کہ دونوں معاہدے باہمی رضامندی سے طے پائے ، اس لیے وہ شرعاً لازم ہیں، اور امان اللہ پر باقی رقم ادا کر نا ضروری ہے،نیز وہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ معاہدہ میں یہ بات طے تھی کہ امان اللہ اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ اس کے بیٹے ( جو امان اللہ کے بھتیجے بھی ہے) کو بھی ساتھ لے جائے گا، لہذا علیحدگی کی صورت میں یہ شرط متاثر ہوتی ہے۔

دوسری طرف امان اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار شرعاً درست نہیں، کیونکہ سامان نہ اس کی ملکیت میں تھا اور نہ اشرف اللہ کی، اور اصل آمدن اس کی ذاتی محنت سے حاصل ہوئی ہے ، اس لیے منافع کا اصل حق دار وہ خود ہے اور اشرف اللہ صرف اپنے خرچ کی واپسی کا مستحق ہے۔

دریافت طلب شرعی سوالات درج ذیل ہیں:

سوال نمبر 1: کیا یہ عقد اپنی مذکورہ صورت کے ساتھ شرعا صحیح ہے ؟ اور کیا یہ شراکت / مضاربت کے زمرے میں آتا ہے جبکہ سرمایہ براہ راست مالِ تجارت کے بجائے اخراجات پر صرف ہوا ہو ؟

سوال نمبر 2: اگر یہ معاہدہ صحیح ہو تو کیا امان اللہ کا یہ دعویٰ درست ہے کہ سارا منافع اسی کا ہے اور اشرف اللہ صرف اپنے خرچ کا حق دار ہے، یا اشرف اللہ منافع میں شریک ہو گا ؟

سوال نمبر 3: کیا معاہدہ میں پانچ سال کی پابندی اور یک طرفہ علیحدگی کی ممانعت شرعاً لازم ہے ، یا کسی فریق کو معقول عذر کی بنیاد پر علیحدگی کا حق حاصل ہے ؟

سوال نمبر 4: امان اللہ کے بھائی کے شامل ہونے کے بعد حاصل ہونے والے منافع میں کیا اشرف اللہ آدھے حصے کا حق دار ہو گا ؟

سوال نمبر 5: اگر یہ معاہدہ شرعاً فاسد قرار پائے تو ادا شدہ 15 لاکھ کا کیا حکم ہو گا ؟ کیا باقی رقم کا مطالبہ جائز ہو گا ؟ اور حاصل شدہ منافع کا شرعی حکم کیا ہو گا؟

سوال نمبر 6: کیا دوسرا ( ترمیم شدہ) معاہدہ پہلے کو منسوخ کر کے نافذ ہو جاتا ہے ؟ اور کیا اشرف اللہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر دوسرے معاہدہ کو ختم کر کے پہلے کو بحال کر دے ؟

تنقیح:(1) حقیقتِ حال یہ ہے کہ پاسپورٹ کی فیس جمع کروانے کے لیے ہم دونوں بینک گئے تھے۔ البتہ اب مجھے یہ یقین سے یاد نہیں کہ اس روز میں نے نقد رقم اسے دی تھی یا براہِ راست بینک کے کاؤنٹر پر جمع کروائی تھی، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ہم دونوں بینک میں موجود تھے اور پاسپورٹ کی فیس میری طرف سے ادا کی گئی تھی۔اس کے بعد ویزے کی فیس بھی میں نے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ سے براہِ راست متعلقہ ویزا پروسیسنگ ادارے کو ادا کی، اس کا پہلا ویزا مسترد ہوگیا تھا، جس کے بعد میں نے دوبارہ اس کے لیے ویزے کی درخواست جمع کروائی اور دوسری مرتبہ بھی تمام اخراجات اپنے اکاؤنٹ سے ادا کیے۔اسی طرح اس کا ہوائی ٹکٹ بھی میں نے خود بک کروایا اور ٹکٹ کی مکمل رقم آن لائن براہِ راست ادا کی، جس کے بعد ٹکٹ جاری کیا گیا۔مزید برآں، سفر کے تمام ذاتی اخراجات کے لیے میں نے اسے نقد رقم فراہم کی، جسے اس نے اپنے پاس رکھ لیا، میرے اندازے کے مطابق یہ رقم تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے تھی، جس کی ایئرپورٹ پر بھی جانچ پڑتال کی جاتی ہے،وہ یہ تمام رقم اپنے ساتھ لے گیا اور بیرونِ ملک اپنے اخراجات اسی رقم سے پورے کرتا رہا۔واضح رہے کہ اس کے پاس اپنی طرف سے ایک روپیہ بھی موجود نہیں تھا۔ بیرونِ ملک پہنچنے کے بعد اس کی رہائش، کھانے پینے اور انسٹاگرام پر تشہیری مہم (Promotions) چلانے کے تمام اخراجات بھی میں ہی برداشت کرتا تھا۔ اس مقصد کے لیے میں باقاعدگی سے اس کے جاز کیش اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرتا تھا، جس سے وہ اپنی رہائش، خوراک اور انسٹاگرام پروموشنز کے اخراجات ادا کرتا تھا۔مختصراً، پاسپورٹ، ویزا، ہوائی ٹکٹ، سفری اخراجات، رہائش، خوراک اور انسٹاگرام پروموشنز  (Promotions) سمیت اس کے تمام مالی اخراجات میری جانب سے ادا کیے گئے۔

(2)اشرف اللہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ امان اللہ مضاربت کے طور پر جو کام کرتا تھا وہ چیز اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی تھی ،گاہک  آنے کی صورت میں جب امان اللہ ان سے سودا کرتا تو کسٹمر سے کچھ رقم ایڈوانس (دس ،بیس فیصد)لیکر وہ چیز کمپنی سے خرید کر کسٹمر کو ڈیلور کر دیتا۔

(3) امان اللہ اور اشرف اللہ کے درمیان باہمی معاہدہ زبانی بھی ہوا تھا اور تحریری صورت میں بھی موجود ہے۔البتہ بعد ازاں امان اللہ نے فرنیچر کمپنی کے ساتھ جو کاروباری مفاہمت کی، وہ تحریری معاہدے پر مبنی نہیں،بلکہ صرف زبانی اتفاقِ رائے (Oral Understanding) ہے۔ اس مفاہمت کے مطابق امان اللہ نے کمپنی کے ذمہ داران سے یہ بات کی کہ وہ کمپنی کے فرنیچر کی تصاویر اپنی انسٹاگرام آئی ڈی پر شیئر کرے گا اور کمپنی ضرورت کے مطابق اسے سامان فراہم کرے گی تاکہ وہ آگے فروخت کر سکے۔لہٰذا کمپنی اور امان اللہ کے درمیان تعلق ایک زبانی مفاہمت پر قائم ہوا، نہ کہ کسی باقاعدہ تحریری معاہدے پر۔

وضاحت: سائل سے کاروبار کے بارے میں بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ہمارے کزن ڈیزائنگ کا سامان خرید کر آگے بیچنے کا کام کرتے تھے، ہم نے بھی اسی کام کے لیے کاروبار شروع کیا، یعنی کاروبار کا مقصد اشیاء خرید کر کسٹمرز کو بیچنا تھا، چنانچہ شروع میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میں نے سامان کی خریداری کے پیسے بھی دیے اور سامان کم پڑنے پر مزید بھی خریدنا پڑا۔ البتہ امان اللہ نے عملی طور پر جب کام شروع کیا تو اس نے بغیر قبضہ کے آگے بیچنا شروع کر دیا، سوال میں کمیشن کی بات ذکر اس لیے ذکر کی گئی، کیونکہ امان اللہ کسٹمر سے صرف زبانی بات کر کے اپنا پرافٹ رکھ کر ڈراپ شپنگ کے طور پر آگے بیچ دیتا تھا، اسی پرافٹ کو کمیشن کا نام دیا گیا، اس لیے اس کو صرفِ نطر کر دیں۔باقی معاہدہ میں کمیشن کی بنیاد پر کا نام نہیں لکھا دیا۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ کا بغور جائزہ لینے اور فریقین (اشرف اللہ اور امان اللہ) کے بیانات کی روشنی میں اس معاملے کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

اصطلاحی اعتبار سے "مضاربت" نفع میں شرکت کا ایک ایسا عقد ہے جس میں ایک جانب سے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے، اور دوسری جانب سے محنت کی جاتی ہے، حاصل ہونے والا نفع، دونوں کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے، اس عقد میں سرمایہ فراہم کرنے والے کو "رب المال" اور محنت کرنے والے کو "مضارب" کہا جاتا ہے۔ عقدِ مضاربت کے درست ہونے کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ رب المال اپنا سرمایہ مضارب کے حوالے (تسلیم) کرے؛ کیونکہ اس کے بغیر، مضاربت منعقد نہیں ہوتی۔

سوال کے ساتھ منسلک معاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان یہ معاہدہ مضاربت کی بنیاد پر ہوا تھا، جس میں فریقین میں سے ایک کی طرف سے سرمایہ اور دوسرے کی طرف سے محنت کرنا طے کیا گیا اور کاروبار کی صورت سامان کی خریدوفروخت ذکر کی گئی ہے اور یہی مضاربت کی حقیقت ہے، اس کے بعد رب المال یعنی سرمایہ لگانے والے شخص نے شروع کے انتظامی اخراجات بھی مکمل طور پر ادا کیے، اس لیے یہاں تک مضاربت کا معاملہ فقہی اعتبار سے منعقد اور درست طریقے پر جاری رہا، البتہ اس کے بعد عملی طور پر کاروبار شروع کرنے کے لیے کسی قسم کا سرمایہ نہیں دیا گیا اور دوسرے فریق (امان اللہ) نے بغیر سرمایہ کے عقودِ باطلہ (غیرمملوکہ چیز کی خریدوفروخت کرنا) کر کے نفع کمایا، اس منافع کا حکم یہ ہے کہ ہم اسے مضاربت کا نفع قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ مضاربت کے لیے حنفیہ کے نزدیک خرید و فروخت کا ہونا ضروری ہے، اور خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ فروخت کی جانے والی چیز، عقدِ بیع کے وقت، فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضے میں ہو۔ غيرمملوكہ چیز کی خرید و فروخت شرعاً ممنوع اور باطل ہے، لہذا  امان اللہ کا کمپنی کے فرنیچر کی تشہیر کر کے گاہکوں سے ایڈوانس رقم لینا اور حتمی سودا طے کرنا (جبکہ وہ اشیاء فروخت کے وقت نہ تو اس کی ملکیت میں تھیں اور نہ ہی اس کے قبضے میں)، شرعاً غیر مملوک چیز کی بیع (بیع ما لایملک) کہلاتا ہے، چونکہ اس کاروبار کی بنیاد ہی خرید و فروخت کے ایک ناجائز طریقے پر قائم ہے، اس لیے یہ بیع باطل ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں اس معاملے کا حتمی حکم یہ ہے کہ اگرچہ شروع میں عقدِ مضاربت درست تھا، مگر بعد میں اس کاروبار کی بنیاد ایک باطل اور ناجائز عقد پر تھی؛ اس لیے اس غیر شرعی طریقے سے حاصل ہونے والا تمام منافع شرعاً  ناجائز اوراس کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا واجب  ہے،فریقین میں سے کوئی بھی فریق اس منافع کو اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لا سکتا، البتہ اشرف اللہ نے امان اللہ کے ویزے، ٹکٹ، سفری اخراجات، رہائش، خوراک، اور آن لائن تشہیر وغیرہ پر جتنی بھی رقم خرچ کی تھی، امان اللہ شرعاً اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ اشرف اللہ کی تمام خرچ شدہ اصل رقم اسے واپس کرے۔

جہاں تک اخراجات کی مقدار میں اختلاف کا تعلق ہے تو اس میں اشرف اللہ کے ذمہ ثبوت پیش کرنا لازم ہے؛ خواہ ثبوت شخصی گواہوں کے ذریعہ ہو، یا بینک اسٹیٹمنٹ کے ذریعہ۔ اگر وہ ثبوت پیش کر دے تو امان کے ذمہ ادائیگی لازم ہے،ورنہ امان اللہ پر قسم آئے گی،  اگر وہ قسم اٹھا دے کہ  شروع کے انتظامی اخراجات میں اتنی رقم  خرچ نہیں ہوئی  تو وہ برئ الذمہ ہو جائے گا اور پھرمعاملہ آخرت پر چھوڑ دیا جائے گا اور اگر وہ قسم سے انکار کرے، تو پھر اس کے ذمہ (اشرف اللہ کے قول کے مطابق) رقم کی  ادائیگی لازم ہو گی۔

 (2) امان اللہ کا یہ دعویٰ شرعاً درست ہے کہ سارا منافع اسی کا ہے؛ کیونکہ یہ نفع اسی کے عمل سے حاصل ہوا ہے، لیکن ناجائز عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے کی وجہ شرعاً وہ اس منافع کا مالک نہیں ہے، بلکہ اس کے ذمہ اس مکمل نفع کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔

(3) مضاربت منعقد ہونے کے بعد عملی طور پر چونکہ یہ کاروبار مضاربت کے شرعی اصولوں کے مطابق نہیں چلا، بلکہ  بغیر سرمایہ کے صرف ایک آدمی کے ناجائز عمل کے نتیجے میں نفع حاصل ہوتا رہا، اس لیے مضاربت کا معاملہ اسی وقت شرعاً ختم ہو چکا تھا، کیونکہ عملی طور پر مضاربت کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور مضارب کا شریعت کے اصولوں کے مطابق خریدوفروخت پر مبنی کاروبار چلانا ضروری ہے،  لہذا اب اس پانچ سالہ معاہدے کی کوئی  حیثیت باقی نہیں رہی۔

(4) امان اللہ کے بھائی کے شامل ہونے کے بعد بھی کاروبار کی بنیادی نوعیت (سرمایہ کی عدم  فراہمی اور بیعِ غیر مملوک) میں کوئی شرعی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، اس لیے اس عرصے میں حاصل ہونے والا منافع بھی واجب التصدق ہے اور شرعی اعتبار سے  اشرف اللہ  اس میں سے کسی  قسم کےحصے کا مستحق نہیں ہے۔

(5) اشرف اللہ کو دیئے گئے پندرہ لاکھ روپے کو منافع کی ادائیگی تصور نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ یہ اشرف اللہ کے کل اخراجات میں سے منہا (Adjust) ہوں گے۔ نیزاشرف اللہ کو دوسرے معاہدے میں طے شدہ منافع کی بقیہ رقم (پینتالیس لاکھ کے حساب سے) کے مطالبے کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ صرف پندرہ لاکھ کی کٹوتی کے بعد اس کی طرف سے خرچ کی گئی  اصل رقم میں سے باقی ماندہ رقم کے مطالبے کا ہی حق دار ہے، جس کی مقدار تقریباً سات لاکھ روپے ہے۔

(6) پہلا معاہدہٴ مضاربت تو عملی طور پر جاری نہ ہونے کی وجہ سے شروع سے ہی ختم ہو گیا تھا،  اور دوسرا معاہدہ بطورِ صلح چونکہ پہلے معاہدے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، اس لیے شرعاً اس کا بھی اعتبار نہیں کیا جائے گا، چونکہ پہلے معاہدے میں پانچ سال کی پابندی اور یک طرفہ علیحدگی کی ممانعت والی شرط، ابتدا ہی سے شرعاً غیر لازم تھی، اس لیے اشرف اللہ کواس شرط کی بنیاد پر دوسرے معاہدے کو یک طرفہ طور پر کالعدم قرار دے کر پہلے معاہدے کی بحالی پر اصرار کرنے کا شرعاً کوئی حق حاصل نہیں۔

حوالہ جات

«مجلة الأحكام العدلية» (ص271):

المادة (1404) المضاربة نوع شركة على أن يكون رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر ، ويدعى صاحب المال رب المال والعامل مضاربا.

«مجلة الأحكام العدلية» (ص271):

«المادة (1405) ركن المضاربة الإيجاب والقبول ، مثلا إذا قال رب المال للمضارب: خذ رأس المال هذا مضاربة واسع واعمل على أن يقسم ربحه بيننا مناصفة أو ثلثين وثلثا. أو قال قولا يفيد معنى المضاربة كقوله: خذ هذه النقود واجعلها رأس مال والربح مشترك بيننا على نسبة كذا ، وقبل المضارب ، تنعقد المضاربة.

«الاختيار لتعليل المختار» (3/ 19):

«وشرائطها خمسة: أحدها أنها لا تجوز إلا بالنقدين. الثاني: إعلام رأس المال عند العقد، إما بالإشارة أو بالتسمية، ويكون مسلما إلى المضارب.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص272):

«الفصل الثاني: في بيان شروط المضاربة

المادة (1408) تشترط أهلية رب المال للتوكيل والمضارب للوكالة.

المادة (1409) يشترط أن يكون رأس المال مالا صالحا لأن يكون رأس مال شركة. انظر الفصل الثالث من باب شركة العقد فلذلك لا يجوز أن تكون العروض والعقار والديون التي في ذمم الناس رأس مال في المضاربة. لكن إذا أعطى رب المال شيئا من العروض وقال للمضارب: بع هذا واعمل بثمنه مضاربة ، وقبل المضارب وقبضه وباع ذلك المال واتخذ بدله النقود رأس مال وباع واشترى فتكون المضاربة صحيحة ، كذلك إذا قال: اقبض كذا درهما الدين الذي لي في ذمة فلان واستعمله في طريق المضاربة ، وقبل الآخر فتكون المضاربة صحيحة.

المادة (1410) يشترط تسليم رأس المال إلى المضارب.

المادة (1411) يشترط في المضاربة أن يكون رأس المال معلوما كشركة العقد أيضا وتعيين حصة العاقدين من الربح جزءا شائعا كالنصف والثلث ولكن إذا ذكرت الشركة على الإطلاق بأن قيل مثلا " الربح مشترك بيننا " يصرف إلى المساواة.»

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 146):

(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ولو باع المغصوب فضمنه المالك قيمته نفذ بيعه؛ لأن سبب الملك قد تقدم فتبين أنه باع ملك نفسه، وههنا تأخر سبب الملك فيكون بائعا ما ليس عنده فدخل تحت النهي، والمراد منه بيع ما ليس عنده ملكا؛ لأن قصة الحديث تدل عليه فإنه روي أن «حكيم بن حزام كان يبيع الناس أشياء لا يملكها، ويأخذ الثمن منهم ثم يدخل السوق فيشتري، ويسلم إليهم فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لا تبع ما ليس عندك» ، ولأن بيع ما ليس عنده بطريق الأصالة عن نفسه تمليك ما لا يملكه بطريق الأصالة، وأنه محال.

الاختيار لتعليل المختار» (2/ 8):

قال: (ولا يجوز بيع المنقول قبل القبض) لأنه عليه الصلاة والسلام «نهى عن بيع ما لم يقبض.

 (شرح القواعد الفقھیہ القاعدۃ :56 ص: 305):

إذا انتقض التبرع بعد تمامه بالقبض يعود المال المتبرع به إلى المتبرع، ففي جامع الفصولين: لو تبرع الإنسان بقضاء دين غيره، ثم ظهر أن لا دين عليه، يعود إلى ملك المتبرع، وكذا لو تبرع بدفع مهر زوجة غيره ولو كان ابنه، ثم خرج كل المهر عن المهرية بردة الزوجة، أو خرج نصفه عن المهرية بطلاق قبل دخول الزوج بها، فإنه يرجع إلى ملك المتبرع. وكذا لو تبرع بثمن المبيع فانفسخ البيع رجع بالثمن.

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 87):

«قال: خذ هذا المال مضاربة على كذا فله أن يشتري به ويبيع؛ لأنه أمره بعمل هو سبب حصول الربح، وهو الشراء والبيع، وكذا المقصود من عقد المضاربة هو الربح، والربح لا يحصل إلا بالشراء والبيع إلا أن شراءه يقع على المعروف، وهو أن يكون بمثل قيمة المشترى، أو بأقل من ذلك مما يتغابن الناس في مثله؛ لأنه وكيل وشراء الوكيل يقع على المعروف، فإن اشترى بما لا يتغابن الناس في مثله كان مشتريا لنفسه لا على المضاربة، بمنزلة الوكيل بالشراء.»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 98):

«لأن المضاربة تتضمن الإذن بالتصرف الذي يحصل به الربح، والربح لا يحصل إلا بالشراء والبيع، فما لا يملك بالشراء لا يحصل فيه الربح، وما يملك بالشراء لكن لا يقدر على بيعه، لا يحصل فيه الربح أيضا، فلا يدخل تحت الإذن، فإن اشترى شيئا من ذلك كان مشتريا لنفسه لا للمضاربة، فإن دفع فيه شيئا من مال المضاربة يضمن»

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

29/صفرالخير1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب