03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے تعلیمی اخراجات ادا کرکے مہر سے کاٹنے یا واپس مانگنے کا حکم
88431نان نفقہ کے مسائلبیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل

سوال

میری شادی کے وقت یہ بات زیر بحث نہیں آئی تھی کہ بیوی کی تعلیم کی فیس شادی کے بعد کون ادا کرے گا۔ نکاح سے پہلے اس نے امتحان دے دیے تھے اور ہمیں کہا گیا کہ اس کی تعلیم مکمل ہے امتحانات دے دیئے ہیں، بس رزلٹ کا انتظار ہے۔شادی کے بعد پتہ چلا کہ اس کی یونیورسٹی کی فیس باقی ہے، جس کا مطالبہ آ گیا۔ میں نے پہلی بار اس کے والد کے کہنے پر فیس ادا کر دی، والد نے کہا تھا کہ ان کے پیسے رکے ہوئے ہیں، وہ دے دیں گے، مگر ابھی تک واپس نہیں دیے۔ اب دوبارہ فیس کا مطالبہ آیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا اس تعلیم کی فیس میری شرعی ذمہ داری ہے؟ اگر میری ذمہ داری نہیں تو کیا میں نے جو فیس ادا کی ہے وہ مہر میں سے کاٹ سکتا ہوں یا بیوی سے واپس مانگ سکتا ہوں؟ برائے مہربانی فقہ حنفی کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی طور پر شوہر کے ذمے بیوی کی رہائش ،خوارک اور پوشاک کے اخراجات لازم ہیں ،تعلیمی اخراجات لازم نہیں،لہذا اگر بیوی کے ساتھ تعلیمی اخراجات واپس کرنا  طے ہوا تھا تو بیوی سے واپس مانگنے یا مہر سے کاٹنے کا حق ہے،ورنہ نہیں،البتہ  اگر سسر  کے ساتھ طے ہوا تھا کہ وہ ان اخراجات کو واپس لوٹائیں گے تو ان سے مطالبہ کیاجاسکتا ہے،ایسی صورت میں اگر بیوی اپنی خوشی سے اپنے والد کی طرف سے ان کے واجبات ادا کرنے کے لیے مہر  میں سے کٹوادے تو یہ بھی درست ہے۔

یہ بات ضرور ملحوظ رکھنی چاہیئے کہ میاں بیوی کے رشتے میں حسن معاشرت اور اچھے اخلاق کو بڑی اہمیت حاصل ہے،اسی لیےمیاں بیوی کو ضابطوں سے ہٹ کر بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے؛ تاکہ زندگی خوش گوار گزرسکے۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 43)

 ذهب الفقهاء إلى أن النفقة الواجبة للزوجة على زوجها تشمل الطعام والكسوة والمسكن، وكل ما لا غنى لها عنه

الفتاوى الهندية (1/ 549)

والنفقة الواجبة المأكول والملبوس والسكنى

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 287)

(سئل) فيما إذا قضى زيد دين عمرو لدائنه بدون إذن عمرو ويريد الرجوع على عمرو بما قضاه عنه بدون إذنه فهل ليس له ذلك؟

(الجواب) : من قضى دين غيره بغير أمرهلا يكون له حق الرجوع عليه عمادية من الفصل 28 ومنها في أحكام السفل والعلو: المتبرع لا يرجع على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره اهـ.

شیرعلی

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

  22صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب