03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام کےسہواًمغرب میں چاررکعت پڑھنےپرمسبوق کی نمازکاحکم
88404نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر امام نے غلطی سے مغرب میں آخری قعدہ کئے بغیر چار رکعتیں پڑھا دیں، اور اس کے پیچھے ایسا مسبوق تھا جس کی ایک رکعت رہتی تھی، تو امام کے ایک رکعت اضافی پڑھانے سے اس کی تین رکعتیں پوری ہوگئیں۔ تو کیا اس کی نماز ہوگئی ہے یا اسے امام کی طرح نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مقتدی کی نماز کی بنا امام کی نماز پر ہوتی ہے۔ جب امام کی نماز آخری قعدہ چھوڑنے اور پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے فاسد ہوگئی تو اتباع کرنے والے مسبوق مقتدی کی نماز بھی فاسد ہوگئی۔ لہٰذا مذکور مسبوق مقتدی کو بھی اپنی نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار مع رد المحتار:

 (وإذا ظهر حدث إمامه) و كذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها ) لتضمنه صلاة المؤتم صحةً وفسادًا."

فی الحدیث" انما جعل الامام لیوتم بہ" وفی حدیث آخر "الامام ضامن لصلوٰۃ  المقتدی تحت ھذین الحدیث فی حاشیة مؤطا امام محمدؒ :

"فصلوۃ المقتدی مشمولۃ فی صلوۃ الامام وصلوۃ الامام متضمنۃ لہا فصحتہا بصحتہا وفسادہا بفسادہا نفاذ اصلی الامام جنباً لم تصح صلوتہ لفوات الشرط وهی متضمنۃ لصلوٰۃ المقتدی فتفسد صلوتہ۔ ایضاً .

 الاصل عندنا ان صلوٰۃ المقتدی متعلقۃ بصلوٰۃ الامام تفسد بصلوٰۃ امامہ وتجوز بجوازہا منہ مااذا اقتدی بالجنب اوبالمحدث وهو لایشعر لا تصح صلوتہ عندنا (قواعد الفقہ،ص:۴۲)

وفی البحر الرائق(۱؍۳۷۸ کوئٹہ):

ولو قام الإمام إلی الخامسۃ في صلاۃ الظہر، فتابعہ المسبوق إن قعد الإمام علی رأس الرابعۃ تفسد صلاۃ المسبوق، وإن لم یقعد لا تفسد، حتی یقید الخامسۃ بالسجدۃ، فإذا قیدہا بالسجدۃ فسدت صلاۃ الکل.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

21/2/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب