03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد سے صلح کرنے پر تین طلاقوں کو معلق کرنے کا حکم
88410طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے والد سے ناراض تھا۔ کچھ لوگ صلح کرانے کے لیے ثالث بنے، لیکن ثالثی کا عمل درست اور مکمل نہ ہو سکا۔ ثالثی کے دوران والد نے کہا: "میں اس صلح کو قبول نہیں کرتا"۔ یہ سن کر بیٹا غصے میں آگیا اور قسم کھائی کہ "اگر میں نے والد سے صلح کی تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں"اب موجودہ صورت  حال میں  اگر بیٹا اپنے والد سے بات کرے یا ان سے مصافحہ کرے تو کیا اس صورت میں بیوی پر تین طلاق واقع ہو جائیں گی یا نہیں؟اگر اس میں طلاق واقع ہونے کا اندیشہ ہے تو اس سے بچنے کا کیا شرعی حل (حیلہ) ہو سکتا ہے؟از راہِ کرم مفصل شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صورت مسئولہ کے مطابق  بیٹے نے  اپنے  باپ  سے صلح  کے متعلق جومذکورہ الفاظ کہے ہیں ان  سے  طلاق  معلق  ہو چکی ہے، لہذا اب اگر انہوں  نے اپنے والد سے صلح کرلی تو اس سے یہ  تینوں معلق طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی ، اس صورت میں نہ تو رجوع ہو سکے گا، اور نہ دوبارہ عقدِ نکاح ہو سکے گا، جب کہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی، اس لئے ان  کو اپنے والدسے  صلح کرنے سے  احتر از کر نا چاہئیے۔

 اگر وہ   یہ چاہتے ہوں  کہ اپنے والد سے صلح بھی کریں اور تین  طلاقیں بھی واقع نہ ہو ں تو اس کے لئے یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ وہ   اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے دیں اور عدت کے اختتام تک   اپنے والد سے ہرگز صلح  نہ کریں ، جب عدت گزر جائے تووہ   اپنے والد سے صلح کرلیں ، اس وقت چونکہ ان  کی بیوی ان   کے نکاح میں نہیں ہو گی  توصلح  کرنےسے کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی اور شرط بھی پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعدوہ   گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلیں ، البتہ  اس نکاح   کے بعد ان   کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گااورآئندہ   طلاق کے معاملے میں احتیاط کی  ضرورت ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص221):

 (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق، وإلا لا، ‌فحيلة ‌من ‌علق ‌الثلاث ‌بدخول ‌الدار ‌أن ‌يطلقها ‌واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 30):

‌ثم ‌الشرط ‌إن ‌كان ‌شيئا ‌واحدا ‌يقع ‌الطلاق ‌عند ‌وجوده بأن قال لامرأته إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو أنت طالق إن دخلت هذه الدار يستوي فيه تقديم الشرط في الذكر وتأخيره وسواء كان الشرط معينا أو مبهما بأن قال إن دخلت هذه الدار أو هذه فأنت طالق أو قال أنت طالق إن دخلت هذه الدار أو هذه وكذلك إذا كان وسط الجزاء بأن قال إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو هذه الدار لأن كلمة أو ههنا تقتضي التخيير فصار كل فعل على حياله شرطا فأيهما وجد وقع الطلاق، وكذلك لو أعاد الفعل مع آخر بأن قال إن دخلت هذه الدار أو دخلت هذه سواء أخر الشرط أو قدمه أو  وسطه.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

21/صفرالمظفر /7144ھ      

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب