03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غریب والد کا بیٹے کو شادی سے روکنے کا حکم
88441نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

والد غریب ہیں اور لڑکا بھی مہر اور نفقہ کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہے ، کیا اس صورت میں والدا گر شادی سے روکتے ہیں تو گناہ گار ہوں گے ؟ روکنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ ناانصافی ہو گی کہ تم اس کے حقوق ادانہ کر سکو گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح صرف خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ کئی مقاصد کا حصول بھی مقصود ہوتا ہے، (جیسا کہ سوال نمبر1 کے جواب میں ذکر کیا گیا)  اور ان مقاصد کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق شریعت کے تقاضے کے مطابق ادا کرنے کے قابل ہوں، اگر ان میں سے کوئی ایک فریق بھی دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہو تو نکاح سے متعلقہ مقاصد کا حصول نہ صرف مشکل، بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے،  ان حقوق میں سے ایک اہم حق عرف میں رائج طریقے کے مطابق بیوی کا نان ونفقہ دینا ہے، اگر لڑکے کے اندر نان ونفقہ ادا کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو میاں بیوی کے درمیان خوشگوار زندگی کی امید نہیں کی جا سکتی،کیونکہ نان ونفقہ انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، اس لیے  ایسی صورت میں رشتہٴ نکاح کے ٹوٹنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔  

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً لڑکا  اتنامال کمانے کی استطاعت اورقدرت نہیں رکھتا کہ جس کی بنیاد پر وہ اپنی بیوی کا حق مہر اور نان ونفقہ ادا کر سکے تو ایسی صورت میں اس کے والد کا اس کو نکاح سے منع کرنا درست ہے، کیونکہ شریعت عورت کے ساتھ ظلم وزیادتی کی قطعا اجازت نہیں دیتی، چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کو عورت پر ظلم وزیادتی کا اندیشہ ہو تو اس کے لیے نکاح کرناجائز نہیں۔اسی طرح صحيح بخاری (3/ 26) ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«من استطاع الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء»

ترجمہ: جو تم میں سے نکاح کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والاہے اورجس شخص میں نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہوتو وہ روزے رکھنے کا اہتمام کرے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑنے والا ہے۔

اس حدیث کی شرح میں  شراحِ حدیث نے نکاح اور اس کے بعد کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت مراد لی ہے، اس سے معلوم ہوا کو جو شخص بیوی کا نان ونفقہ برداشت نہ کر سکتا ہو تو اس کو نکاح نہیں کرنا چاہیے۔ لہذا لڑکے پر لازم ہے کہ وہ پہلے اپنے لیے مناسب روزگار  کا انتطام کرے اور پھر نکاح کرنے کی کوشش کرے۔

البتہ یہ بات یاد رہے کہ یہاں اخراجات سے بہت اعلی قسم کے اخراجات مراد نہیں، بلکہ مناسب اخراجات سے بھی نکاح اور نکاح کے بعد کا سلسلہ چلایا جا سکتا ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں معمولی خرچ کے ذریعہ نکاح اور بیوی کے نان ونفقہ کا انتظام کیا جاتا تھا، اسی لیے اس مبارک زمانے میں نکاح کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا، آج ہم نے خود شادی کے فضول اخراجات بڑھا کر نکاح کے مسنون عمل کو مشکل بنا دیا ہے، لہذا  اگر آدمی ایک متوسط خاندان میں نکاح کرے  اور فضول رسم ورواج کو چھوڑ کر صرف مسنون ولیمہ اور کچھ دیگر مناسب  اخراجات سے بھی نکاح کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں، اسی طرح شادی کے بعد  بھی میانہ روی اور اعتدال کے ذریعہ گھریلو اخراجات کو کم کرکے نظامِ زندگی چلایا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

شرح النووي على مسلم (9/ 173) دار إحياء التراث العربي – بيروت:

 واختلف العلماء في المراد بالباءة هنا على قولين يرجعان إلى معنى واحد أصحهما أن المراد معناها اللغوي وهو الجماع فتقديره من استطاع منكم الجماع لقدرته على مؤنه وهي مؤن النكاح فليتزوج ومن لم يستطع الجماع لعجزه عن مؤنه فعليه بالصوم ليدفع شهوته ويقطع شر منيه كما يقطعه الوجاء وعلى هذا القول وقع الخطاب مع الشبان الذين هم مظنة شهوة النساء ولا ينفكون عنها غالبا والقول الثاني أن المراد هنا بالباءة مؤن النكاح سميت باسم ما يلازمها وتقديره من استطاع منكم مؤن النكاح فليتزوج ومن لم يستطعها فليصم ليدفع شهوته والذي حمل القائلين بهذا على هذا أنهم قالوا قوله صلى الله عليه وسلم ومن لم يستطع فعليه بالصوم قالوا والعاجز عن الجماع لا يحتاج إلى الصوم لدفع الشهوة فوجب تأويل الباءة على المؤن وأجاب الأولون بما قدمناه في القول الأول وهو أن تقديره من لم يستطع الجماع لعجزه عن مؤنه وهو محتاج إلى الجماع فعليه بالصوم.

فتح الباري لابن حجر (9/ 108) دار المعرفة – بيروت:

قال الخطابي المراد بالباءة النكاح وأصله الموضع الذي يتبوؤه ويأوي إليه وقال المازري اشتق العقد على المرأة من أصل الباءة لأن من شأن من يتزوج المرأة أن يبوءها منزلا وقال النووي اختلف العلماء في المراد بالباءة هنا على قولين يرجعان إلى معنى واحد أصحهما أن المراد معناها اللغوي وهو الجماع فتقديره من استطاع منكم الجماع لقدرته على مؤنه وهي مؤن النكاح فليتزوج ومن لم يستطع

الجماع لعجزه عن مؤنه فعليه بالصوم ليدفع شهوته ويقطع شر منيه كما يقطعه الوجاء وعلى هذاالقول وقع الخطاب مع الشباب الذين هم مظنة شهوة النساء ولا ينفكون عنها غالبا والقول الثاني أن المراد هنا بالباءة مؤن النكاح سميت باسم ما يلازمها وتقديره من استطاع منكم مؤن النكاح فليتزوج.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

22/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب