03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا والد کے بیٹے کا بروقت نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ گار ہو گا؟
88440نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

  1. مفتی صاحب والد پر نرینہ اولاد کا نکاح نہ کروانے کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے،اس حوالے سے چار صور تیں بنتی ہیں اور ہر صورت کو اس بات کے ساتھ خاص سمجھا جائے کہ لڑکا بالغ ہے اور اگر لڑکے کا نکاح نہ کر وایا گیا تو اس کےگناہ میں مبتلا ہونے کا سخت خطرہ ہے، والد صاحبِ استطاعت ہو اور لڑکا بھی کمارہا ہو ، شادی کی مالی  استطاعت رکھتا ہو، اس کے باوجود والد شادی کروانے پر ٹال مٹول سے کام لے رہے ہوں تو کیا لڑکے کے گناہ کرنے سے والد بھی گناہگار ہوں گے؟

  2. اس حوالے سے مشکاة کی ایک حدیث اور اس کی شرح سے استدلال کیا جاتا ہے کہ والداگر صاحب استطاعت ہو توآخری دو صورتوں میں والد گناہگار ہو گا،حدیث ذیل میں بیان کی جاتی ہے :

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح(رقم الحديث: 3138):

( وعن أبي سعيد و ابن عباس قالا : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من ولد له ولد) أي : ذكرا أو أنثى (فليحسن) بالتخفيف والتشديد ( اسمه وأدبه ) أي : معرفة أدبه الشرعي ( وإذا بلغ) وفي نسخة صحيحة بالفاء ( فليز وجه) وفي معناه التسري ( إن بلغ ) أي : وهو فقير ( ولم يزوجه ) أي : الأب وهو قـ ر ( ولم يزوجه ) أي : الأب وهو قادر (فأصاب) أي: الولد (إثما) أي: من الزنا ومقدمّاته ( فإنما إثمه على أبيه ) أي : جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي رحمه الله : أي جزاء الإثم عليه حقيقية و دل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم.

اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟کیونکہ اس حوالے سے کسی فقہی کتاب میں تصریح نہیں ملتی کہ مالدار والد پر غریب بالغ لڑکے کی شادی کا خرچہ ضروری ہے یا نہیں، البتہ یہ ضرور لکھا ہے کہ شوہر پر بیوی کے یہ اخراجات واجب ہیں،اگریہ اخراجات والد پر واجب نہیں تو پھر والد گناہ گار کیوں ہوگا؟ یا حدیث کسی خاص صورت کے ساتھ مخصوص ہے ؟ بعض حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. نکاح انسان کا ایک بشری اورفطری تقاضا ہے، جس میں انسان کی فطری خواہش کی تکمیل کے ساتھ ساتھ بہت سے اچھے مقاصد بھی پائے جاتے ہیں، جیسے سلسلہ نسب کا جاری رہنا، نیک اور صالح اولاد کا حصول اور دو خاندانوں میں رشتہ داری کا قائم ہونا وغیرہ۔ اسی لیے اس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت قرار دیا اور نکاح کے مقاصد کی اصل تکمیل جوانی میں ہی ہوتی ہے، اس لیے بغیر کسی شرعی وجہ کے نکاح کے مسنون عمل میں تاخیر کرنا خلافِ شریعت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر باقاعدہ تنبیہ فرمائی ہے کہ جب عورت کو اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے تو پھر اس کے نکاح میں تاخیر نہ کی جائے۔

اصولی طور پر بالغ ہونے کے بعد آدمی اپنے سے متعلق تمام احکامِ شرع کا خود مکّلف ہوتا ہے اور نیکی اور بدی کے ارتکاب کی تمام ذمہ داری اسی کے کندھے پر عائد ہوتی ہے  اور قیامت کے دن اسی سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اعلان فرمایا ہے:

{ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164]

ترجمہ: اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اسی کے ذمہ پر ہے اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔   

اس لیے اصولی طور پر گناہ میں مبتلا ہونے والا لڑکا اور لڑکی اپنے اس گناہ کی خود ذمہ دار ہو گی اور اس گناہ کا اللہ تعالیٰ کے سامنے از خود جواب دینا ہو گا اور اس کا وبال بھی خود بھگتنا ہو گا۔

جہاں تک والدکے گناہ گار ہونے کا تعلق ہے تو اولاد کے جوان ہونے کے بعد اگر والدین بلاعذرِ شرعی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں یا کوئی مناسب رشتہ مل جانے کے باوجود بغیر کسی شرعی وجہ کے نکاح میں تاخیر کریں اور اس تاخیر کی وجہ سے اولاد گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کا گناہ والدین کو بھی ہو گا، کیونکہ وہ بھی اس گناہ کے سبب بنے ہیں،جیساکہ علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں  ایک حدیث ذکر فرمائی ہے، جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:

ترجمہ:حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے، اگر وہ بالغ ہو جائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے۔

  1. سوال میں مرقات المفاتیح کے حوالے سے جوحدیث ذکر کی گئی ہے وہ مرفوعاً بھی ثابت ہے  اور اس حدیث کی سند میں کوئی ایسا راوی موجود نہیں کہ جس کی وجہ سے اس پر وضع یا ضعفِ شدید کا حکم لگایا جا سکے، البتہ اس میں ایک راوی ابو مسعود سعيد بن اياس جريري ہیں، ان کے بارے میں امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ان کو آخر عمر میں اختلاط کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ اور یہ معلوم نہیں کہ شداد بن سعید نے ان سے یہ روایت ان کو خلط لاحق ہونے سے پہلے لی یا بعد میں! اورمحدثین کرام رحمہم اللہ ایسی روایت پر ضعف کا حکم لگاتے ہیں، مگر اس سے روایت میں ضعف خفیف ثابت ہوتا ہے نہ کہ ضعف شدید، کیونکہ آخرعمرمیں اختلاط  لاحق ہونے کو ائمہ جرح وتعدیل نے پانچویں یا چھٹے درجے کی جرح میں ذکر کیا ہے اور یہ جرح کا کمزور درجہ ہے، اس لیے ایسی جرح سے روایت پر ضعفِ خفیف کا حکم لگے گااور ضعفِ خفیف والی روایت ترغیب اور ترہیب کے باب میں قبول ہوتی ہے، اس لیے یہ روایت میں ترہیب کے بیان میں معتبر ہے۔

باقی یہ حدیث کسی خاص صورت پر محمول نہیں، بلکہ اس کا حکم عام ہے اوراس کا  مطلب ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات المفاتیح میں یہ لکھا ہے کہ والد کو نکاح کے معاملے میں اس کی کوتاہی کی وجہ سے  گناہ ملے گا اور علامہ خطابی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کی یہی توجیہ بیان فرمائی ہے، کیونکہ شادی کا خرچ والد کے ذمہ نہ ہونے کے باوجود والد کی یہ ذمہ داری تو ہے کہ وہ بیٹے کو اپنے تجربہ اور تعلقات کی بناء پر مناسب جگہ رشتہ تلاش کر کے دے، ورنہ والد اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکا تندرست اور کمائی کر رہا ہے تو والد کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد از جلد کوئی مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کا نکاح کرائے، تاکہ لڑکا گناہ میں مبتلا نہ ہو۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (1/ 320،رقم الحديث: 171) مكتبة ومطبعة مصطفى الحلبي – مصر:

حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا "

شعب الإيمان (11/139، باب في حقوق الأولاد والأهلين) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض:

"   حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي، أخبرنا أحمد بن محمد بن عبدوس، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا أبو بكر بن أبي

مريم الغساني، عن أبي المجاشع الأزدي، عن عمر بن الخطاب، عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "مكتوب في التوراة: من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فركبت إثما، فإثم ذلك عليه".

شعب الإيمان (11/ 137،رقم الحديث: 8299) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض:

أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، أنا أحمد بن عبيد، نا إسحاق بن الحسن الحربي، نا مسلم بن إبراهيم، نا شداد بن سعيد عن الجريري، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد، وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه "

سنن الترمذی  ( أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، 1 / 213،ط: دار الغرب الإسلامي – بيروت:

حدثنا ‌قتيبة ، قال: حدثنا ‌عبد الله بن وهب ، عن ‌سعيد بن عبد الله الجهني ، عن ‌محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ، عن ‌أبيه ، عن ‌علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: «يا علي،» ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2064) باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، ط: دار الفكر، بيروت:

"(فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي - رحمه الله -: أي جزاء الإثم عليه حقيقة ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم."

فيض القدير بشرح الجامع الصغير (6/ 3، رقم الحديث: 8199) المكتبة التجارية، مصر:

" (مكتوب في التوراة من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إثما) يعني زنت فإثم ذلك عليه؛لأنه السبب فيه بتأخير تزويجها المؤدي إلى فسادها. وذكر الاثنتي عشرة سنة لأنها مظنة البلوغ المثير للشهوة."

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (7/ 2284) الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز:

الحديث الثاني والثالث والرابع عن أبي سعيد وابن عباس رضي الله عنهم: قوله: ((فأصاب إثما)) أي ما أثم به من الفواحش. وقوله: ((فإنما إثمه علي أبيه)) أي جزاء الإثم عليه حقيقة، ودل هذا الحصر علي أن الإثم علي الوالد مبالغة؛ لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من إصابة الإثم.

تهذيب الكمال في أسماء الرجال (10/ 338) مؤسسة الرسالة - بيروت:

2240 - (ع) : سعيد بن إياس الجريري ، أبو مسعود البصري ، وجرير هو ابن عباد ، أخو الحارث بن عباد بن ضبيعة بن قيس بن ثعلبة بن عكابة بن صعب بن علي بن بكر بن وائل .

روى عن : ثمامة بن حزن القشيري (بخ ت س) ، وجبر بن حبيب (بخ) ، والحسن البصري (ق) ، وحكيم بن معاوية بن حيدة القشيري (ت) ، وحيان بن عمير القيسي (م د س) ، وأبي حسان خالد بن غلاق (بخ قد) ، وأبي حاجب سوادة بن عاصم العنزي (سي) ، وسيف [ ص: 339 ] أبي عائذ السعدي ، وأبي السليل ضريب بن نقير (م 4) ، وأبي تميمة طريف بن مجالد (خ) ، وأبي الطفيل عامر بن واثلة (بخ م د ت) ، وعبد الله بن بريدة (خ م د س) ، وعبد الله بن شقيق (م 4) ، وعبد الرحمن بن أبي بكرة (خ م ت) ، وأبي عثمان عبد الرحمن بن مل النهدي (م د ت ق) ، وأبي نعامة قيس بن عباية الحنفي (ر د ت ق) ، ومضارب بن حزن (ق) ، وأبي نضرة المنذر بن مالك بن قطعة العبدي ...................

روى عنه : إسماعيل ابن علية (م د ت س) ، وبشر بن المفضل (خ م ت) ، وبشر بن منصور السليمي (م) ، وجعفر بن سليمان الضبعي (م) ، وأبو قدامة الحارث بن عبيد الإيادي (ت) ، وأبو أسامة حماد بن أسامة (م ق) ، وحماد بن زيد (س) ، وحماد بن سلمة (م د س) ، وخالد بن عبد الله الواسطي (خ م) ، والربيع بن بدر المعروف بعليلة (ق) ، وسالم بن نوح (م د) ، وسفيان الثوري (م س ق) ، وسليمان بن المغيرة (م) ، وشداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي (س)................ وقال عباس الدوري ، عن يحيى بن معين : ثقة . وقال أبو حاتم : تغير حفظه قبل موته ، فمن كتب عنه قديما فهو صالح ، وهو حسن الحديث .

وقال يحيى بن سعيد القطان ، عن كهمس : أنكرنا الجريري أيام الطاعون . وقال محمد بن سعد ، عن يزيد بن هارون : سمعت من الجريري سنة اثنتين وأربعين ومائة ، وهي أول سنة دخلت البصرة ، [ ص: 341 ] ولم ننكر منه شيئا ، وكان قيل لنا : إنه قد اختلط ، وسمع منه إسحاق الأزرق بعدنا . وقال أحمد ابن حنبل ، عن يزيد بن هارون : ربما ابتدأنا الجريري ، وكان قد أنكر .

وقال يحيى بن معين ، عن محمد بن أبي عدي : لا نكذب الله ، سمعنا من الجريري ، وهو مختلط . وقال أبو عبيد الآجري ، عن أبي داود : أرواهم عن الجريري إسماعيل ابن علية ، وكل من أدرك أيوب فسماعه من الجريري جيد . وقال النسائي: ثقة ، أنكر أيام الطاعون . قال محمد بن سعد : قالوا : توفي سنة أربع وأربعين ومائة . روى له الجماعة.

الكاشف (1/ 432، رقم الترجمة: 1855) الناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامية، جدة:

سعيد بن إياس أبو مسعود الجريري عن أبي الطفيل ويزيد بن الشخير وعنه شعبة ويزيد بن هارون قال أحمد كان محدث البصرة وقال أبو حاتم تغير حفظه قبل موته وهو حسن الحديث توفي 144 ع.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

22/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب