03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد رجوع کرنے کا حکم
91864طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں نے اپنی بیوی کو اس کے کہنےپر تین طلاقیں دی تھیں، کیونکہ وہ کہتی تھی میں نے آپ کے ساتھ نہیں رہنا، لیکن اب وہ کہہ رہی ہے کہ  میں نے اپنے گھر والوں کے کہنے پر ایسا کہا تھا، اب میں معافی مانگتی ہوں ، آئندہ غلطی نہیں کروں گی، میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، اس نے اہلِ حدیث سے تین طلاق کا فتوی بھی لیا ہے، سوال یہ ہےکہ کیا ہمارا اب رجوع کرنا  جائز ہے؟  کیا اس کے لیے اہل ِ حدیث کے فتوی پر عمل کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کے اپنی  بیوی کو   تین طلاقیں  دینے سے اس کی بیوی پر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی  ہے، اس کے بعد  فریقین کے درمیان  رجوع نہیں ہو سکتا اور  اسی  حالت میں دوبارہ نکاح  کرنا بھی جائز نہیں، یہ   اہل السنہ والجماعہ یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے،قرآن کریم کی آیات اور کتبِ احادیث میں کئی صریح اور صحیح احادیث اس بات پر دلالت کر ہی ہیں کہ تین طلاقیں شرعاًتین ہی شمار ہوتی ہیں، خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا متفرق مواقع میں۔  جمہور علمائے کرام کے دلائل کے مقابلے میں اہل حدیثِ  حضرات کے پاس اپنے  موقف پر دلائل بہت کمزور ہیں، اس لیے عورت کواس پر عمل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں د ی جا سکتی،    لہذا اب لڑکی کے گھروالوں  کاآپ  کو رجوع کے لیے مجبور کرنا ہرگز جائز نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز اور اس پاک ذات کے غضب اور غصہ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جس سے بچنا ہر مسلمان کے لیے از حد ضروری ہے۔

  البتہ اگر یہ عورت  اپنی رضاندی سے اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سےنکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح  کر سکتے ہیں۔ ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»               

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

4/ربیع الاول 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب