| 88420 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
ایک شخص نے اپنی زندگی میں اپنے تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ اپنی زمین تقسیم کر کے دی اور کاشت کاری کرنے پر ان کو قبضہ بھی دے دیا، سب رشتہ داروں میں یہ مشہور تھا کہ یہ تقسیم عارضی ہے، اصل میں اس شخص نے ایک سال کے لیے تبلیغ پر جاتے وقت جلدی میں یہ تقسیم کی تھی، اب والد فوت ہو چکا ہے، وفات کے بعد بیٹوں نے دوبارہ تقسیم کی اور اس زمین کو آپس میں تین حصوں میں تقسیم کر لیا، اب بیٹیاں کہتی ہیں کہ یہ تقسیم عارضی تھی، ہم نے والد نے زندگی میں کئی مرتبہ سنا تھا کہ اس میں بیٹیوں کو بھی حصہ دوں گا، اس لیے بیٹیاں میراث کی تقسیم کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ بیٹوں کا کہنا ہے کہ یہ والد نے ہمیں حتمی طور پر تقسیم کر کے مالک بنا دیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ والد نے ہمارے حق میں ایک خط بھی لکھا تھا، جبکہ بہنوں کا کہنا ہے کہ یہ عارضی تقسیم تھی، کیونکہ والد باقاعدہ ہبہ یا ہدیہ کے طور پر دینے کی صراحت نہیں کی تھی، اسی لیے والد کی وفات کے بعد بھائیوں نے آپ میں تقسیم کی، نیز بہنیں زندگی میں اس لیے خاموش ر ہی ہیں کہ جب حتمی تقسیم ہو گی تو اس میں سے ہمیں بھی حصہ مل جائے گا، مگر سب زمین پر بھائیوں نے قبضہ کر لیا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
وضاحت: بھائی کے پاس موجود خط کے بارے میں بہنوں کا کہنا ہے کہ ہمارے علم میں بالکل نہیں ہے کہ ہمارے والد نے کوئی خط بھائیوں کو زمین سے متعلق لکھ کر دیا ہے۔ نیز بھائیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس والد کی طرف سے زمین کی تقسیم پر گواہ بھی موجود ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ زندگی میں آدمی کااپنی اولاد کو کوئی جائیداد دینا شرعی اعتبار سے وراثت نہیں، بلکہ یہ ہبہ (ہدیہ،گفٹ) کہلاتا ہے، اس میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے، لہذا زندگی میں اپنی جائیداد بغیر کسی شرعی وجہ کےصرف بیٹوں کودینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں بیٹیوں کو اپنے مال سے محروم کرنا لازم آتا ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ زمین کی تقسیم میں فریقین کا اختلاف ہے، بیٹوں کا دعوی ہے کہ ہمارے والد نے یہ زمین ہمیں بطورِ ہبہ (ہدیہ) مالک بنا کر دی تھی، جبکہ بیٹیوں کا دعوی ہے کہ والد نے زمین ہبہ نہیں کی تھی، بلکہ یہ تقسیم عارضی تھی، جو والد نے تبلیغ کے سفر پر جاتے وقت جلدی میں تقسیم کر کے صرف کاشت کاری کےلیے دی تھی اور یہی بات پورے خاندان میں معروف تھی کہ یہ تقسیم حتمی نہیں ہے، اس پر ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ والد کی وفات کے بعد بھائیوں نے دوبارہ وہ زمین تقسیم کی ہے، اگر والد نے حتمی تقسیم کی ہوتی تو پھر والد کی وفات کے بعد دوبارہ تقسیم کرنے کا کیا مطلب؟ اس لیے ان قرائن کی روشنی میں بیٹیوں کی بات معتبر ہے، کیونکہ فقہ کا اصول یہ ہے کہ اگرفریقین میں کسی چیز کی ملکیت میں اختلاف ہو جائے، ایک فریق ملکیت یعنی ہبہ یا خریدوفروخت کا اور دوسرا عدمِ ملکیت یعنی عاریت وغیرہ کا دعوی کرے تو اس صورت میں عاریت والے فریق کی بات شرعاً معتبر ہوتی ہے اور ملکیت والے کے ذمہ ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ محض اس کے قول سے ملکیت ثابت نہیں ہو گی۔
جبکہ بیٹوں کے پاس بطورِثبوت صرف خط ہے ، لیکن اس کے بارے میں چونکہ بیٹیاں لاعلمی کا دعوی کر رہی ہیں، اس لیے اگر بیٹوں کے پاس اس خط پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بطورِ گواہ موجود ہوں تو اس صورت میں بیٹوں کا دعوی شرعاً ثابت مانا جائے گا، بشرطیکہ خط میں واضح طور پرزمین کے بارے میں ہبہ(ہدیہ) کے الفاظ لکھے گئے ہوں، اور اگر ان کے پاس گواہ نہ ہوں تو بیٹیاں اس خط سے اپنی لاعلمی پر یوں قسم اٹھائیں گی کہ اللہ کی قسم! ہمارے علم نہیں ہے کہ ہمارے والد نے زندگی میں زمین ہبہ کرنے کا کوئی خط اپنے بیٹوں کو لکھ کر دیا ہے، اس طرح قسم اٹھانے کے بعد بیٹیوں کی بات شرعاً معتبر ہو گی اور فیصلہ ان کے حق میں تسلیم کیا جائے گا اور متانزعہ زمین وراثتی شمار ہو گی۔
حوالہ جات
شرح القواعد الفقهية (ص: 119) الناشر: دار القلم – دمشق:
ومنها: ما لو دفع إنسان لآخر شيئا ثم أراد استرداده مدعيا أنه دفعه له عارية، وقال القابض: إنك كنت بعتني إياه أو وهبتني إياه، فالقول للدافع في كونه عارية. (ر: المادة / 1763 / من المجلة) ، لأن الأصل عدم البيع والهبة.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 355) نور محمد،كارخانه كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1748) إذا حلف أحد على فعله يحلف على البتات يعني يحلف قطعيا بأن هذا الشيء هكذا أو ليس بكذا , وإذا حلف على فعل غيره يحلف على عدم العلم يعني يحلف على عدم علمه بذلك الشيء.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر الناشر(253/4): دار الجيل:
وإذا ادعى المدعي دعواه في حضور وارث واحد وأنكر الوارث المدعى عليه الدين وعجز المدعي عن الإثبات فيحلف كل وارث على حدة على كونهم لا يعلمون بأن الميت مدين للمدعي بذلك المبلغ أو بأقل منه ولا يسقط اليمين عن باقي الورثة بحلف بعض الورثة؛ لأن الناس يتفاوتون في اليمين ولأن الوارث يستحلف على العلم وربما لا يعلم الأول بدين الميت ويعلم الثاني (الخانية) . وإذا كان بعض الورثة صغيرا أو غائبا فيحلف الصغير عند بلوغه والغائب عند حضوره (الهندية)
شرح القواعد الفقهية (ص: 92) الناشر: دار القلم – دمشق:
إنما كان الاستصحاب غير حجة في الاستحقاق لأنه من قبيل الظاهر، ومجرد الظاهر لا ينتهض حجة في إلزام الغير، ولما كان الاستحقاق على الغير إلزاما له لم يكتف فيه بالظاهر. قال الإمام الكرخي في أصوله: " الأصل أن الظاهر يدفع الاستحقاق ولا يوجب الاستحقاق "، وقال الإمام النسفي في شرح ذلك: " من مسائل هذا الأصل أن من كان في يده دار فجاء رجل يدعيها فظاهر يده يدفع استحقاق المدعى، حتى لا يقضى له إلا بالبينة. ولو بيعت دار لجنب هذه الدار فأراد أخذ الدار المبيعة بالشفعة بسبب الجوار لهذه الدار، فأنكر المدعى عليه أن تكون هذه الدار التي في يده مملوكة له، فإنه بظاهر يده لا يستحق الشفعة ما لم يثبت أن هذه الدار ملكه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


