03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرنسی ڈی ویلیو ہونے اور سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے دین کی ادائیگی کا حکم
88419خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

دوکاندار نے گاہک سے سونا خریدا،ادائیگی چیک کی صورت میں کی،چیک مقررہ مدت میں کیش نہ ہوا،اس دوران دوکاندار کو کاروبار میں نقصان ہوا اور وہ بھاگ گیا۔آٹھ سال گزر چکے،دوکاندار کہتا ہے کہ چیک پر جو رقم لکھی ہے وہی دوں گا،جبکہ گاہک کہتا ہے کہ آج کے حساب سے سونے کی جو قیمت بنتی ہے ،وہ ادا کرو۔ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟رقم:880,000 روپے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق گاہک اور دوکاندار کے درمیان آٹھ سال قبل خریدوفروخت کا معاملہ مکمل ہو چکا تھا اور خریداری کا معاملہ مکمل ہو جانے سےسونا شرعاً دوکاندار کی ملکیت میں آچکا تھا اور گاہک کا اس سے تعلق ختم ہو کر ثمن (خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان طے شدہ قیمت) میں گاہک کا حق ثابت ہو چکا تھا۔

البتہ دوکاندار نے نقد ادائیگی کے بجائے چیک دیا جو کہ مقررہ تاریخ پر کیش نہ ہوسکا،لہٰذا دوکاندار کے ذمہ ادائیگی برقرار رہی،اور دوکاندار آٹھ سال تک پیسے ادا نہ کرسکا، یہاں تک کہ اس طویل عرصہ کے دوران روپے کی قیمت کم ہو گئی اور سونے کی قیمت بڑھ گئی، تو اب اگر گاہک کو وہی آٹھ لاکھ اسی ہزار(880,000) روپےواپس کیےجائے تو اس میں اس کا یقیناً نقصان ہے ، ایسی صورتِ حال میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رائج الوقت کرنسی کی قیمت بہت زیادہ گِر جائے تو وہ مُلحق بالکساد (کھوٹے ہونے کی وجہ سے جس کے لین دین کا رواج ختم ہو چکا ہو) شمار ہوتی ہے اور پھر اس پر احکام بھی کاسد یعنی منسوخ شدہ کرنسی والے جاری ہوتے ہیں  اور  کاسد کرنسی کی صورت میں دَین کی ادائیگی ،مفتی بہ قول(هذا قول أبي يوسف رحمه الله وعلیہ الفتوی كما صرح ابن عابدين في رد المحتار) کے مطابق خریدوفروخت کے دن کی قیمت کے مطابق کی جاتی ہے۔

            رہی یہ بات کہ کرنسی کس حد تک گرِ جائے تو اس کو ملحق بالکساد شمار کیا جائے گا تو حدیثِ پاک کی عبارت "الثلث کثیر"سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کرنسی کی قیمت (حقیقی مالیت /فیس ویلیو) ایک تہائی تک باقی ہے تو اس کا اعتبار کرتے ہوئےدیون وغیرہ میں،لازم ہونے والی مقدار کے بقدر ادائیگی ہی  واجب ہو گی،اشیاء کی قیمتیں بڑھنے یا کرنسی کی قیمت کم ہونے سے دین کی مقدار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ اگر کرنسی کی قیمت ایک تہائی بھی باقی نہ رہے،(یعنی سو روپے کی حیثیت 33.33 روپے کے بقدر بھی نہ رہے) بلکہ اس سے بھی کم مالیت رہ جائے تو اس کو ملحق بالکساد قرار دیا جاسکتاہے۔

 کرنسی کی مالیت کم ہونے کا اندازہ مختلف چیزوں کی خریداری سے لگایا جائے گا، جس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ پہلے جتنی چیزیں سو روپے میں آتی تھیں، اب اتنی چیزیں تین سو روپے یا اس سے کم میں ملتی ہیں یا نہیں؟اگر تین سو سے زیادہ میں ملتی ہیں، تواس سے  معلوم ہوا کہ کرنسی کی مالیت ایک تہائی بھی باقی نہیں رہی بلکہ اس سے بھی کم ہوچکی ہے، اور اس کا اندازہ سی پی آئی (Consumer Price Index) سے لگایا جاسکتاہے۔

چنانچہ سوال میں ذکر کی گئی صورت میں سی پی آئی کے ذریعہ 2017ء میں آٹھ لاکھ اسی ہزار روپیہ کی مالیت کا اندازہ2025ء کےمطابق لگایا گیا تو اس کی مالیت کے برابر رقم2025ء میں تقریباً بائیس لاکھ دوسو چھیانوے (2,200,296)روپے بنتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جتنی چیزیں 2017ء میں آٹھ لاکھ اسی ہزار روپے(880,000) میں خریدی جا سکتی تھیں،آج 2025ء میں کم از کم 2,200,296روپے میں خریدی جاسکیں گی اور اس اعتبار سے پاکستانی کرنسی کی قیمت ایک تہائی سے زیادہ تک باقی ہے، کیونکہ ایک تہائی کے اعتبار سے 2017 ء میں آٹھ لاکھ اسی ہزار(880,000) روپے کے عوض ملنے والی چیزیں آج، چھبیس لاکھ چالیس ہزار(2640000) میں ملنی چاہیے تھیں،جبکہ سی پی آئی (CPI)کے مطابق  وہ بائیس لاکھ دوسو چھیانوے(2,200,296) روپے میں مل رہی  ہیں۔

                        لہٰذا صورت مسؤولہ میں چیک پر لکھی گئی رقم یعنی آٹھ لاکھ اسی ہزار روپے (880000) ہی کی ادائیگی دوکاندار کے ذمہ لازم ہوگی،اضافی رقم کے مطالبے کا حق گاہک کو نہیں ہوگا۔البتہ دوکاندار یہ دیکھتے ہوئے کہ گاہک نے تقریباً آٹھ سال تکلیف برداشت کی ہے،جو کہ ایک غیر معمولی مدت ہے، لہٰذا بطور تشکر وتبرع اپنی حیثیت کے مطابق اضافی رقم بھی دے دے تویہ باعثِ ثواب اورگاہک کو پہنچنے والی تکلیف کے ازالے کا سبب ہوگا۔ان شاء اللہ

نوٹ:اگر یہ ادائیگی دوکاندار فورا نہیں کرتا اور 2017 ء کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت مزیدکم ہو کر ایک تہائی بھی باقی نہ رہی تو ایسی صورت میں (سی پی آئی کی بنیاد پر) مزید اضافی رقم کی ادائیگی بھی  متبادل جنس یعنی سونا یا ڈالر وغیرہ میں ضروری ہوگی،ضرورت پڑنے پر دارالافتاء جامعۃ الرشید سے اس وقت دوبارہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

(مستفاد از تبویب:87793)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 789)

 الديون تقضى بأمثالها.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 395)

فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي - عليه السلام -: «خيار الناس أحسنهم قضاء» .«وقال النبي - عليه الصلاة والسلام - عند قضاء دين لزمه - للوازن: زن، وأرجح» .

مختصر صحيح الإمام البخاري (95/2) مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض: عن أبي عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "مطل الغني ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي؛ فليتبع ".

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (306/6) دار الكتب العلمية، بيروت:

وفي «المنتقى» : إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت، قال أبو يوسف رحمه الله : قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم يوم وقع البيع ويوم وقع القبض والذي ذكرنا من الجواب في الكساد فهو الجواب والانقطاع إذا انقطعت الدراهم عن أيدي الناس قبل القبض فسد المبيع عند أبي حنيفة.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (219/6) دار الكتاب الإسلامي:

وفي البزازية معزيا إلى المنتقى غلت فلوس القرض أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني أو لا ليس عليه غيرها، وقال الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى وهكذا في الذخيرة والخلاصة بالعزو إلى المنتقى.

الفتاوى البزازية (46/5) محمد بن محمد الخوارزمي الشهير بالبزازي (المتوفى: 827هـ):

وفي المنتقي غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني أولاً ليس عليه غيرها وقال الثاني ثانياً عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (533/4) دار الفكر - بيروت

مطلب مهم في أحكام النقود إذا كسدت أو انقطعت أو غلت أو رخصت ]

(قوله : قلت و مما يكثر وقوعه إلخ) أعلم أنه إذا اشترى بالدراهم التي غلب غشها أو بالفلوس ولم يسلمها للبائع ثم كسدت بطل البيع والانقطاع عن أيدي الناس كالكساد ويجب على المشتري رد المبيع لو قائما ومثله أو قيمته لو هالكا، إن لم يكن مقبوضا فلا حكم لهذا البيع أصلا وهذا عنده وعندهما لا يبطل البيع؛ لأن المتعذر التسليم بعد الكساد، وذلك لا يوجب الفساد لاحتمال الزوال بالرواج لكن عند أبي يوسف تجب قيمته يوم البيع، وعند محمد يوم الكساد وهو آخر ما تعامل الناس بها وفي الذخيرة الفتوى على قول أبي يوسف. وفي البزازية عن المنتقى غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني، أولا ليس عليه غيرها، وقال: الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى وهكذا في الذخيرة والخلاصة عن المنتقى، ونقله في البحر وأقره، فحيث صرح بأن الفتوى عليه في كثير من المعتبرات، فيجب أن يعول عليه إفتاء وقضاء، ولم أر من جعل الفتوى على قول الإمام هذا خلاصة ما ذكره المصنف - رحمه الله تعالى - في رسالته بذل المجهود في مسألة تغير النقود عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبويوسف: قولي في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض اہ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف.

تنبيه الرقود على مسائل النقود (ص:61) للعلامة ابن عابدين الشامي، ط: سهيل اكيڈمي، لاهور:

 ( فإن قلت ) يشكل على هذا ما ذكر في مجموع الفتاوى من قوله ولو غلت أو رخصت فعليه رد المثل بالاتفاق انتهى (قلت) لا يشكل لأن أبا يوسف كان يقول أولا بمقابلة الإمام ثم رجع عنها وقال ثانيا والواجب عليه قيمتها كما نقلناه فيما بسق عن البزازيةوصاحب الخلاصة والذخيرة فحكاية الاتفاق بناء على موافقته للامام أولا كما لا يخفى والله تعالي أعلم وقد تتبعت كثيرا من المعتبرات من كتب مشايخنا المعتمدة فلم أر من جعل الفتوى على قول أبي حنيفة رضي الله عنه بل قالوا: به كان يفتي القاضي الإمام وأما قول أبي يوسف فقد جعلوا الفتوى عليه في كثير من المعتبرات فليكن المعول عليه انتهى كلام الغزى رحمه الله ثم أطال بعده في كيفية الإفتاء والحكم حيث كان للإمام قول وخالفه صاحباه أو وافقه أحدهما إلى آخر الزمان وأيد قول أبي يوسف الثاني .

تنبيه الرقود على مسائل النقود (ص: 62) للعلامة ابن عابدين الشامي، ط: سهيل اكيڈمي، لاهور:

وقال أبو الحسن لم تختلف الرواية عن أبي حنيفة في قرض الفلوس إذا كسدت أن عليه مثلها قال أبويوسف عليه قيمتها من الذهب يوم وقع القرض في الدراهم التي ذكرت أصنافها يعني البخارية والطبرية واليزيدية وقال محمد قيمتها في آخر نفاقها. ......... بقي الكلام فيما إذا نقصت قيمتها فهل للمستقرض رد مثلها وكذا المشتري أو قيمتها؟ لا شك أن عند أبي حنيفة يجب ردمثلها وأما على قولهما فقياس ما ذكروا في الفلوس أنه يجب قيمتها من الذهب يوم القبض عند أبي يوسف ويوم الكساد عند محمد والمحل محتاج إلى التحرير.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (157/7) دار الفكر ، بيروت:

 (قوله ولو استقرض فلوسا فكسدت عند أبي حنيفة - رحمه الله - يرد مثلها ) عددا اتفقت الروايات عنه بذلك، وأما إذا استقرض دراهم غالبة الغش فقال أبو يوسف في قياس قول أبي حنيفة: عليه مثلها، ولست أروي ذلك عنه، ولكن الرواية في الفلوس إذا أقرضها ثم كسدت.

وقال أبو يوسف عليه قيمتها من الذهب يوم القرض في الفلوس والدراهم، وقال محمد: عليه قيمتها في آخر وقت إنفاقها.

 تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (143/4) المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق، القاهرة:

 (قوله: في المتن ولو كسدت إلخ) وإنما قيد بالكساد احترازا عن الرخص والغلاء لأن الإمام الإسبيجابي ذكر في شرح الطحاوي وأجمعوا أن الفلوس إذا لم تكسد، ولكن غلت قيمتها أو رخصت فعليه مثل ما قبض من العدد قال الشيخ أبو الحسن الكرخي في مختصره وإذا استقرض الرجل من رجل دراهم بخارية أو طبرية أو يزيدية أو فلوسا في الحال التي تنفق فيها ثم كسدت فإن بشر بن الوليد قال سمعت أبا يوسف قال عليه في قياس قول أبي حنيفة مثلها ولست أروي ذلك عنه، ولكن الرواية في الفلوس إذا أقرضها ثم كسدت قال أبو الحسن الكرخي لم تختلف الرواية عن أبي حنيفة في قرض الفلوس إذا كسدت أن عليه مثلها قال بشر وقال أبو يوسف عليه قيمتها من الذهب يوم وقع القرض في الدراهم التي ذكرت لك أصنافها وقال محمد عليه قيمتها إذا كسدت في آخر وقت نفاقها قبل أن تكسد.

مجمع الضمانات (ص: (117) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:

فلو غصب فلوسا فكسدت لم استهلكها عند أبي حنيفة عليه مثل التي كسدت، ولا يضمن قيمتها، ولا مثلها من الذي أحدثوه، وعند أبي يوسف عليه قيمتها من الذهب أو الفضة يوم الغصب وقال محمد عليه القيمة في آخر يوم كانت رائجة فكسدت لكن والدي - رحمه الله تعالى - كان يفتي بقول محمد رفقا بالناس فنفتي كذلك، والعددي كالفلوس من غير تفاوت من الصغرى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (537/4) دار الفكر – بيروت:

بقي هنا شيء وهو أنا قدمنا أنه على قول أبي يوسف المفتى به لا فرق بين الكساد والانقطاع والرخص والغلاء في أنه تجب قيمتها يوم وقع البيع أو القرض إذا كانت فلوسا أو غالبة الغش، وإن كان فضة خالصة أو مغلوبة الغش تجب قيمتها من الذهب يوم البيع على ما قاله الشارح، أو مثلها على ما بحثناه وهذا إذا اشترى بالريال أو الذهب، ممايراد نفسه، أما إذا اشترى بالقروش المراد بها ما يعم الكل كما قررناه، ثم رخص بعض أنواع العملة أو كلها واختلفت في الرخص، كما وقع مرارا في زماننا ففيه اشتباه فإنها إذا كانت غالبة الغش، وقلنا تجب قيمتها يوم البيع، فهنا لا يمكن ذلك؛ لأنه ليس المراد بالقروش نوعا معينا من العملة حتى نوجب قيمته.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (95/4) دار الفكر – بيروت:

( قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقوديجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع، فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا ، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي . اه. قلت: وهذا ما قالوا إنه مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر . قال : ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديار نالمداومتهم للعقوق.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

24.صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب