03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سونے کی چوڑیوں کے تبادلے کا حکم
88435کفالت (ضمانت) کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میری ایک نند ناراض ہو کر گھر آئی ہو تھی، دوسری نند کی شادی کا موقع آیا تو پہلی نند نے کہا کہ میرے پاس چا سونے کی چوڑیاں موجود ہیں، میں یہ چوڑیاں اپنی اس بہن کو دے دیتی ہوں جس کی شادی ہونے جا رہی ہے، اس وقت میرے شاہر کے سامنے یہ معاملہ ہوا، مجھے علم نہیں کہ میرے شوہر نے ان چوڑیوں کے بارے میں کیا کہا تھا؟  اس کے بعد بات ختم ہو گئی، گزشتہ سترہ سالوں کے دوران میرے سامنے کبھی ان چوڑیوں کا تذکرہ نہیں ہوا۔

میرے پاس بھی چار چوڑیاں تھیں، میں نے وہ اپنے شوہر کو دی ہوئی تھیں، ایک مرتبہ اسی  نند(جس نے چار چوڑیاں اپنی بہن کو دی تھیں) کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو میرے شوہر نے وہ میری دی ہوئی چوڑیاں اٹھا کربطور قرض اپنی بہن کو دے دیں، اس کے بعد میرے شوہر اپنی اس بہن سے چوڑیاں مانگا کرتے تھے کہ تم مجھے وہ چوڑیاں دے دو۔ لیکن نند نے وہ چوڑیاں  میرے شوہر کی زندگی میں نہیں دیں، اب میرے شوہر کا انتقال ہو گیا تو میں نے اس نند سے وہ چوڑیاں مانگیں تو وہ کہنے لگی کہ وہ چار چوڑیاں جو میں نے بھائی کے سامنے اپنی بہن کو دی تھیں اس کے بدلے میں ہو گئیں۔

  1.  سوال یہ ہے کہ کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟ جبکہ حقیقت میں میرے شوہر نےوہ چوڑیاں نہیں لی تھیں، بلکہ اس نے اپنی بہن کو دی تھیں اور نہ ہی چوڑیاں واپس کرنے کا میرا شوہر ضامن بنا تھا۔
  2. دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اب مجھے چوڑیاں واپس ملیں گے یا رقم ؟ جبکہ میرے شوہر اپنی زندگی میں اپنی اس نند سے چوڑیاں ہی مانگا کرتے تھے؟جن کی اس وقت کی مالیت ڈیڑھ لاکھ روپیہ بنی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. صورتِ مسئولہ میں آپ کی نند کا یہ کہنا درست نہیں کہ آپ کے شوہر کی طرف سے دی گئی چوڑیاں ان چوڑیوں کے بدلے میں ہو گئیں جو میں نے بھائی کی موجودگی میں اپنی دوسری بہن کو دی تھیں۔کیونکہ آپ کی نند کے اپنی  بہن کو چوڑیاں دینے سے بھائی پر شرعاً ان کی ادائیگی کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی،  کیونکہ بھائی نے چوڑیاں بنا کر دینے کی بھی ضمانت نہیں اٹھائی تھی، اس لیے بہن کو ان چوڑیوں کے مطالبے کا حق بھائی کے ورثاء سے نہیں بنتا۔ البتہ اگر اس نے اپنی بہن کو وہ چوڑیاں بطورِ عاریت دی ہوں تو وہ اپنی اس بہن سے ان چوڑیوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
  2. صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے شوہر نے اپنی بہن کو سونے کی چوڑیاں ہی دی تھیں ، جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں آپ کی نند کے ذمہ اسی کیرٹ اور اتنے ہی وزن کی چوڑیاں واپس کرنا لازم ہے، چوڑیوں کی بجائے اب ان کی سابقہ قیمت ادا کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ چوڑیاں آپ نے شوہر نے اپنی بہن کو ادھار یعنی بطورِ قرض دی تھیں اور قرض کی ادائیگی کا شرعی اصول یہ ہے کہ وہ چیز اسی کوالٹی اور اتنے ہی وزن میں واپس کرنا ضروری ہے، جتنے وزن اور جس کوالٹی کی چیز لی گئی تھی، اس میں کمی بیشی کرنا یا قرض دینے والے کی رضامندی کے بغیر اس کی جنس کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔

البتہ اگر آپ کے شوہر نے چوڑیاں بیچ کر ان سے حاصل شدہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ اپنی بہن کو دیا ہو تو اس صورت میں آپ کے شوہر کو صرف ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہی لینے کا حق حاصل تھا اور اب ان کے ورثاء کو بھی صرف دی گئی رقم ہی واپس لینے کا حق حاصل ہے، اس صورت میں آپ کو  اپنی نند سے چوڑیاں مانگنے کا حق حاصل نہیں، کیونکہ اس صورت میں رقم کو ہی قرض شمار کیا جائے گا اور واپسی بھی رقم کی صورت میں ہی کی جائے گی۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (30/ 150) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

وحجتنا في ذلك أن مطالبة كل واحد منهما صاحبه بدراهمه اشتغال بما لا يفيد لأنه يستوفى من صاحبه ويرد عليه من ساعته ما كان له قبله ولا يجوز الاشتغال بما لا يفيد وهذا بخلاف العين لأن في الأعيان للناس أغراضا ولا يوجد مثل ذلك الغرض في الدين فإن الديون تقضى بأمثالها لا بأعيانها فلا فائدة لواحد منهما في مطالبة صاحبه هنا لأن التفاوت بين المعنيين متحقق في معنى من المعاني ولا يتحقق التفاوت بين الدينين إذا استويا من كل وجه وإنما يتحقق التفاوت إذا اختلفا في صفة الجودة والحلول.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

26/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب