| 88433 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
ایک بھائی نے اپنی بہن کو ایک کروڑ روپیہ دینے کا کہا، لیکن ابھی ایک بہن کو اٹھانوے لاکھ روپیہ دیا تھا، بقیہ دو لاکھ روپیہ دینا باقی تھا، باقی دو لاکھ دینے کاان کا ارادہ نہیں تھا، اسی دوران اس بھائی کا انتقال ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ورثاء کے ذمہ بقیہ دو لاکھ روپیہ بہن کو دینا لازم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ بھائی نے دو لاکھ روپے کا بہن کو قبضہ نہیں دیا تھا اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ ہبہ یعنی ہدیہ بغیر قبضہ کے مکمل نہیں ہوتا، اس لیے اب اس بھائی کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کے ذمہ بقیہ دو لاکھ روپیہ کی ادائیگی شرعاً لازم نہیں ہے، خصوصا جبکہ بقیہ دو لاکھ روپیہ بھائی کا بہن کو دینے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 690) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع اختيار وفي الدرر والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض (ولو نهاه) عن القبض (لم يصح) قبضه (مطلقا) ولو في المجلس؛ لأن الصريح أقوى من الدلالة.
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


