03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازم کے فوت ہونے کی صورت میں ملنے والے فنڈزکاحکم
88429میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے والد سرکاری ملازم تھے۔ دورانِ ملازمت ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ان کے انتقال کے بعد ایک عورت نے عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ وہ بھی والد کی بیوی ہے۔ یہ مقدمہ تقریباً آٹھ (8) سال تک عدالت میں چلتا رہا، اس کے بعد عدالت نے یہ مقدمہ خارج کر دیا اور ہمارے حق میں فیصلہ دے دیا۔لہٰذا والد کے ادارے نے تمام واجبات ادا کر دیے، جن میں پنشن کی رقم بھی شامل ہے۔والد کا ایک بیٹا اور ہم دو بیٹیاں ہیں،مرحوم کی والدہ اورزوجہ بھی حیات ہیں۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ان واجبات میں ہم ورثہ میں سے ہرایک کا شرعی حصہ کتنابنتاہے؟

والد مرحوم کے ادرے کی طرف ملنے میں والے فنڈ درج ذیل ہیں:

* Assistance Package (اسسٹنس پیکیج)

* Leave Encashment (لیو انکیشمنٹ)

* GP Fund (جی پی فنڈ)

* House Hiring (ہاؤس ہائرنگ)

* Group Life Insurance (گروپ لائف انشورنس)

* Benevolent / Benoriland Fund (بینیوولنٹ / بینورلینڈ فنڈ)

سابقہ فتوی میں ہمیں ہروارث کاحصہ معلوم ہوچکا ہے،بس اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورفنڈوں میں سے کس کس فنڈ میں میراث جاری ہوگی اورکس میں نہیں ہوگی اوروہ حکومت کے نام زد کردہ شخص کی ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ فنڈز میں سے Leave Encashment، GP Fund اور Commutation ملازم کی ذاتی کمائی یا حق سے متعلق ہیں، لہذا ان پر شرعی وراثت جاری ہوگی اور تمام ورثاء اپنے اپنے حصے کے مطابق حق دار ہوں گے(ان کےشرعی حصے سابقہ فتوی میں بیان کئے گئے ہیں)۔اور باقی فنڈز یعنی Assistance Package، House Hiring Allowance، Group Life Insurance اور Benevolent (Benoriland) Fund دراصل ادارے کی طرف سے تعاون و امداد یا انشورنس کی اسکیم ہیں، اس لیے یہ ملازم کی ملکیت نہیں بنتے ،لہذا ان میں شرعی میراث جاری نہیں ہوگی، بلکہ ادارے کی پالیسی یا نامزدگی کے مطابق جسے دیا جائے وہی اس کا حق دار ہوگا۔

واضح رہے کہ گروپ انشورنس میں  ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی اور جو اضافی رقم بورڈ آف ٹرسٹی نے ملازم کی طرف سے انشورنس کمپنی کے پاس جمع کروائی ہو اتنی رقم جائز ہے، اس کے علاوہ  انشورنس کمپنی کی طرف سے دی جانے والی  اضافی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر حکومتی ادارہ انشورنس کمپنی سے وصول کر کے اپنے خزانہ(مشتركہ اکاؤنٹ) میں شامل کر کے دے تو اس کا لینا جائز ہے، لیکن اگر یہ رقم انشورنس کمپنی سے خود وصول کرنا پڑتی ہو تو اس صورت میں یہ رقم لینا جائز نہیں، کیونکہ  انشورنس کمپنی کی طرف سے بلاواسطہ دی جانے والی اضافی رقم سود اور جوئے کا عنصر پائے جانے کی وجہ سے حرام ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (7/ 57):

الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (الکتاب العاشر الشرکات ،3/ 55،ط:دار الجلیل:

المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين - وارثيه، على حسب حصصهم الإرثية بموجب علم الفرائض أو بين الموصى لهم بموجب أحكام المسائل المتعلقة بالوصية كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين ورثته على حسب حصصهم الإرثية أو بين الموصى لهم بموجب الوصية لأن هذا الدين ناشئ عن سبب واحد الذي هو الإرثأو الوصية. وإن يكن أی سبب الدين حقيقة لم يكن الإرث والوصية بل سببه إقراض المورث أو الموصي لآخر أو بيعه أو إيجاره مالا لأن الدين كما عرف في المادة (581).

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (10/7697) دار الفکر):

‌‌"الإرث لغةً: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. و فقهاً: ما خلفه الميت من الأموال و الحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/2/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب