03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو میری ماں بہن جیسی کے الفاظ کہنے کا شرعی حکم
88424طلاق کے احکامظہار )بیوی کو ماں یا بہن کے ساتھ تشبیہ دینے( کے احکام

سوال

1ایک مرتبہ شوہر نے مجھے فون کیا ،مگر موبائل چارج پر ہونے کی وجہ سے پتہ نہ چلا، میرے شوہر غصے میں گھر آئے تو اس وقت اس کی بہن میری ساتھ کھڑی تھی، شوہر نے کہا: آئندہ تم نے میرا فون نہیں اٹھایا تو تم میری اس بہن جیسی ہو جاؤ گی۔اب مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس نے فون کیا ہواور میں نے نہ اٹھایا ہو ۔

نوٹ: سائل نے فون پر بتایا کہ مذکورہ الفاظ کہتے وقت طلاق ظہار وغیرہ کی  نیت نہ تھی، البتہ غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے تھے ۔

-2ایک مرتبہ میں اپنے والدین کے گھر پر تھی ، شوہر سے خرچے کے معاملے میں کچھ بحث ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر میں باہر ملک چلاگیا تو تم کرائے کے گھر پر رہوگی ،ورنہ پھر تم میری بہن جیسی ہوگی، مگر ان کا باہر ملک جانا کینسل ہوگیا ، اب تک نہیں گئے ۔

نوٹ :شوہر نے یہ واضح کیا کہ میرا مقصدیہ تھا کہ اس بار جب جاؤں گاتو آپ کرایہ کے گھر پر رہوگی  ،ہمیشہ کے لے نہیں تھا ۔

-3ایک مرتبہ میں شوہر کے ساتھ والدین کے گھر گئی تھی، وہاں کھانے کےلے مچھلی بنی تھی ، میرے شوہر کو وہ مچھلی پسند نہ آئی تو شوہر نے غصہ میں مجھے کہا: آئندہ اس گھر میں میں مچھلی نہیں کھاوں گا، اگر کھا ئی تو میری بیوی میری بہن جیسے ہوگی ، پھر کچھ عرصہ بعد اس نے اسی گھر میں مچھلی کھائی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق بائن کے بعد دوران عدت  شوہر اگر صریح الفاظ میں طلاق دے تو دوسری طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر معلق کرے  تو معلق  ہوجاتی ہے،لیکن کنایہ الفاظ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوتی،اگرچہ دورانِ عدت  ہی کیوں نہ ہو۔

-1صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے یہ کہا کہ اگرآئندہ آپ نے میرا فون نہیں اٹھایا تو تم میری اس بہن جیسی ہوگی، جبکہ وہ غصہ کی حالت میں تھا تو مذکورہ الفاظ کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن معلق ہو گئی ہے،پس اگر شوہر نے فون کیا اور آپ نے نہیں اٹھایا تو فون نہ اٹھانے کے ساتھ ہی ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا، تاہم طلاق کے بعد عدت میں ہی یا عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح کرنا جائز ہوگا ۔

-2 صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے غصہ کی حالت میں  آپ سے کہا کہ اگر میں باہر ملک چلاگیا تو تم کرائے کے گھر پر رہوگی، ورنہ پھر تم میری بہن جیسی ہوگی تو اس سے شوہر نے اپنے باہر ملک جانے کی صورت میں آپ کے کرایہ کے گھر میں نہ رہنے کی شرط پر  ایک طلاق معلق کی ، لیکن چونکہ وہ باہر ملک ہی  نہیں گیاتو آپ کے کرایہ کے گھر میں رہنے کا سبب نہیں پایا گیا کہ جس کے بعد آپ اس کی خلاف ورزی کرتیں تو طلاق معلق ہونے کی شرط پائی جاتی ،لہذا اس صورت  میں  طلاق معلق ہی نہیں ہوئی  اور شوہر کا یہ کلام  لغو ہوگیا۔

-3 صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے غصہ میں آپ سے کہا: آئندہ اس گھر میں میں مچھلی نہیں کھاوں گا، اگر کھا ئی تو میری بیوی میری بہن جیسی ہوگی ، پھر کچھ عرصہ بعد اس نے اسی گھر میں مچھلی کھائی تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ،اب اس سے رجوع کرنا جائز نہیں ہے، تاہم طلاق کے بعد عدت میں ہی یا عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح کرنا جائز ہے۔لہذا طلاق کے بعد دونوں کا بحیثیت میاں بیوی رہنا جائز نہیں ہے ،اس کی وجہ سے دونوں سخت گنہگار ہوئے ہیں، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ اکھٹے رہنے کی وجہ سے جو گناہ ہو ا ،اس پر خوب گڑگڑاکر اللہ تعالی سے معافی مانگیں ۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 296):

«(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا.

الدر المختار مع رد المحتار: (306/3)  والمبسوط» للسرخسي (6/ 228):

الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح(قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها.ولو قال لها: أنت علي مثل أمي أو كأمي ينوي، فإن نوى الطلاق وقع بائناً، و إن نوی الكرامة أو الظهار فكما نوی، هكذا في فتح القدير. و إن لم تكن له نية فعلی قول أبي حنيفة رحمه الله تعالي لايلزمه شيء حملاً للفظ علی معنی الكرامةلأن كلام العاقل محمول على الصحة، مهما أمكن حمله على وجه صحيح يحل شرعا لا يحمل على ما يحرم شرعا، والظهار منكر من القول وزور فلا يمكن حمله عليه إذا أمكن حمله على معنى البر والكرامة. توضيحه: أنها كانت محللة له وهذا الكلام يحتمل معنى البر ويحتمل معنى الظهار ولكن الحرمة بالشك لا تثبت كما لا يثبت الطلاق بالشك.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

26/صفر المظفر /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب