| 88426 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
1992میں غلام حیدراپنارقبہ اپنے دوبیٹوں کے نام کردیاجبکہ غلام حیدرکی پانچ بیٹیاں ہیں جنہیں رقبے سے محروم کردی گئیں،پھرتقریبا2000میں غلام حیدرکا انتقال ہوجاتاہے۔
غلام حیدرکا مذکورہ رقبہ پانچ خَسروں میں موجودہیں لیکن ان میں ان کے ساتھ دوسری برادری والے بھی شریک ہیں یعنی یہ پانچ خسریں مشترک ہیں،برادری والے کاشت کاطریقہ یہ اپناتے ہیں کہ ایک ایک سال ایک برادری والے ایک حسرہ میں کاشت کرتے ہیں تو دوسری برادری والے دوسرے میں پھر اگلے سال پہلی برادری والے دوسرے خسرے میں مثلاکاشت کرتے ہیں تو دوسری برادری والے پہلے میں،اس طرح ہرسال میں کاشت کےلیے خسروں کو تبدیل کرتے رہتے ہیں،سب ہیں مشترک ہیں کسی کا خسرہ متعین نہیں ہے۔کم وبیش 2007میں باہمی رضامندی سے غلام حیدرکے بیٹوں کو ایک خسرہ میں زمین دیدی گئی۔یعنی اب ان کاحصہ متعین کیاگیا۔
غلام حیدرجوانتقال بیٹوں کے نام کروایاتھا وہ سب جگہوں میں پایاجاتاہے لیکن قبضہ صرف ایک جگہ پرہےجواب تک ہے تو اس صورت صورت حال پوچھنایہ ہےکہ
شرعاآیابہنیں اپنے والدکی میراث کی حقدارہیں یانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں اولاد کو کچھ دینا میراث نہیں، ہبہ ہوتا ہے۔ اور ہبہ کے لیے صرف کاغذوں میں انتقال کافی نہیں، بلکہ قبضہ کرانا بھی ضروری ہوتا ہے، اور قبضہ مشترک چیز میں تقسیم کرکے دینے سے متحقق ہوتا ہے۔ جبکہ مذکورہ صورت میں غلام حیدر نے زمین تقسیم کرکے نہیں دی، کیونکہ وہ دوسرے برادری والوں کے ساتھ مشترک تھی، لہٰذا یہ ہبہ صحیح نہیں ہوا۔ اور یہ غلام حیدر کے 2000ء میں انتقال کے وقت موجود شرعی ورثہ میں ان کے شرعی حساب سے تقسیم ہوگی جن میں غلام حیدر کی بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں دو بھائیوں کو بہنوں یعنی غلام حیدر کی بیٹیوں کو میراث میں ان کا اپنا شرعی حصہ دینا ہوگا۔
باقی 2007ء میں باہمی رضامندی سے غلام حیدر کے بیٹوں کو جو ایک خسرہ زمین متعین کرکے دی گئی، اس سے بھی پوری میراث پر ان کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ وقتِ ہبہ سے لے کر مرحوم غلام حیدر کی موت تک یہ زمین مشترک رہنے کی وجہ سے ہبہ صحیح نہیں ہوا۔ لہٰذا بعد میں تقسیم کرنے اور حصہ متعین کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے یہ زمین بدستور مرحوم غلام حیدر کی میراث ہے اور ان کے تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے حساب سے اس کی تقسیم ضروری ہے،جن میں مرحوم کی بیٹیاں بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ بہنیں بھائیوں کی طرح شرعی وارث ہوتی ہیں اورشرعی وارث کو میراث سے محروم نہیں کیاجاسکتا، اگرچہ کاغذوں میں انتقال صرف بیٹوں کے نام کرایاگیاہو،جو شخص کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے کو کوشش کرتاہے وہ درحقیقت اس کی اس وراثت والی حیثیت کو بدلتا ہے، اوراللہ تعالی کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلتاچاہتا ہے اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔
سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(
’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنہیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘
حضرت سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
«من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)
جس نےاللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی﴿ اپنے وارث کی﴾ میراث کو کاٹ دیااللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹیں گے۔ایک اورحدیث میں ہے:
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛جوشخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔
تفصیل بالا کی روسے معلوم ہوا کہ کسی وارث مثلاً بہنوں کو میراث سے محروم رکھنا سراسر ظلم،ناانصافی، حق تلفی اور الله کے احکام سے کھلی بغاوت ہے ، جو ناجائزاورحرام ہے،لہذا مسئولہ صورت میں میراث روکنے والے بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کے حصے ان کو دیدیں، ورنہ ساری عمر حرام کھانے کا وبال ان پر رہے گا اورقیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا ۔
حوالہ جات
وَإِذَا وَهبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ نَصِیْبًا مُسَمّٰی مِنْ دَارٍ غَیْرَ مَقْسُوْمَۃٍ وَسَلَّمَہُ إِلَیْہِ مُشَاعًا أَوْ سَلَّمَ إِلَیْہِ جَمِیْعَ الدَّارِ لَمْ یَجُزْ یَعْنِيْ لایَقَعُ الْمِلْکُ لِلْمَوْہُوْبِ لَہُ بِالْقَبْضِ قَبْلَ الْقِسْمَۃِ عِنْدَنَا الخ۔ (مبسوط سرخسي ۱۲/ ۶۴)
فإن قسّمہ أي الواهب بنفسہ أو نائبہ أو أمر الموہوب لہ بأن یقسم مع شریکہ کل ذٰلک یتمُّ بہ الہبۃ کما ہو ظاهر لمن عندہ أدنی فقہٍ۔ (شامی ۸؍۴۹۵ زکریا)
وَلَو وَهبَ مِنْہُ نِصْفَ الدَّارِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِ بِتَخْلِیَۃِ الْکُلِّ، ثُمَّ وَہَبَ مِنْہُ النِّصْفَ الآخَرَ وَسَلَّمَ لَمْ تَجُزْ الْہِبَۃُ، لِأَنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا ہِبَۃُ الْمُشَاعِ، وَہِبَۃُ الْمُشَاعِ فِیْمَا یُقْسَمُ لاتَنْفُذُ إِلاَّ بِالْقِسْمَۃِ وَالتَّسْلِیْمِ، وَیَسْتَوِيْ فِیْہِ الْجَوَابُ فِيْ ہِبَۃِ الْمُشَاعِ بَیْنَ أَنْ یَکُوْنَ مِنْ أَجْنَبِيٍّ أَوْ شِرکَۃِ شَرِیْکِہٖ۔ (بدائع زکریا ۵/ ۱۷۲، کراچی ۶/ ۱۲۱)
ولنا إجماع الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم فإنہ روي أن سیدنا علي رضي اللّٰہ عنہ أنہ قال: ’’من وهب ثلث کذا أو ربع کذا لا یجوز مالم یقاسم‘‘ وکل ذٰلک بمحضر من أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولم ینقل أنہ أنکر علیہم منکر فیکون أجماعاً۔ (بدائع الصنائع ۵؍۱۷۱ زکریا)
عن عمر رضي اللّٰہ عنہ قال: ما بال أحدکم ینحل ولدہ نحلاً لا یحوزہا ولا یقسمُہا ویقول: إن متُّ فہولہ، وإن مات رجعتْ إلي وأیم اللّٰہ لا ینحل أحدکم ولدہ نحلاً لا یحوزہا ولا یقسمہا، فیموت إلا جعلتہا میراثاً لورثتہ۔ (المنصف لابن أبي شیبۃ ۱۰؍۵۲۰ رقم: ۳۸۹۵، بدائع الصنائع ۵؍۱۷۱)
واعتمادنا في المسئلۃ علی إجماع الخلفاء الراشدین: فقد روینا في أول الکتاب شرط القسمۃ عن أبي بکر وعمر وعثمان وعلي رضي اللّٰہ عنہم من وہب ثلث کذا أو ربع کذا لا تجوز حتی یقاسم والمعنی فیہ أن شرط القبض منصوص علیہ في الہبۃ فیراعي وجودہ علی أکمل الجہات التي تمکن۔ (المبسوط للسرخسي ۱۲؍۶۵)
وفي الجملۃ: وإن الخلفاء الراشدین وغیرہم اتفقوا علی أن الہبۃ لا تجوز إلا مقبوضۃ محوزۃ۔ (الفقہ الإسلامي وأدلتہ ۴؍۶۹۱)
قال الله تعالي:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء : 11]
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (10 / 31)
قال الطيبي رحمه الله تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها…
وفيه ایضا:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی (مشکاة شریف ص ۲۵۵)
روی الامام احمد فی مسندہ:
علی الید مااخذت حتی تودیہ،رواہ الامام [3] احمد فی مسندہ والائمۃ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ فی سننھم و الحاکم فی صحیحہ المستدرك عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
روى مسلم في صحيحه :
وفی رد المحتار:
الترکۃ في الاصطلاح ماترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال۔ ( کتاب الفرائض، کراچي ۶/۷۵۹، مکتبۃ زکریا دیوبند ۱۰/۴۹۳)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/02/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


