| 88430 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
2007 میں میرا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ ہوا اور شادی ہوگئی، شادی کے تقریباً تین سال بعد میرے شوہر نے میرے بھائی کو بے گناہ قتل کردیا،میں سوگ گزارنے کے بعد اپنے شوہر کے گھر چلی گئی اور تقریباً آٹھ نو ماہ تک اپنے شوہر کے گھر رہی ،اس عرصے میں پورے سسرال نے مجھے نہ وہ حیثیت دی جو ایک بہو کو دی جاتی ہے نہ ہی شوہر نے بیوی سمجھا،اس کےبعد 2011 عیسوی کو مجھے گھر سے نکال دیا گیا،مجھے سر کا سایہ نہ ہونے کی وجہ سے والد کے گھر جانا پڑا،نہ نان نفقہ بھیجا شوہرنے مجھے ،بلکہ پیغامات بھیجتاتھا کہ میں تمہاری زندگی اجیرن کر دوں گا،اس کے بعد میں نے خلع کی درخواست دائر کی ،دوران کیس سمن پہ سمن شوہر کو گئے، لیکن وہ عدالت حاضر نہیں ہوابالآخر 2016 عیسوی کو عدالت نے میرے حق میں خلع کی ڈگری جاری کردی،2016 سےلیکر2024 تک میرےبھائیوں نےمجھےاپنےپاس رکھا اور2024 عیسوی میں پھرمیرے بھائی نےمیرانکاح کروادیادوسری جگہ،اب مفتیانِ کرام شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ میں نےاب دوسرانکاح جو کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں؟
تنقیح:سائل نے فون کال پر وضاحت کی ہے کہ عدالت میں بھائی نے گواہی دی ہے اور عورت نے بیان حلفی جمع کروایا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ اگرمیاں بیوی کے درمیان باہم ایسی ناچاقیاں ہوں جن کی وجہ سے اکٹھے رہنا مشکل ہواور باہم اتفاق کی کوئی صورت نہ ہو ، یا ایک ساتھ رہنے میں اللہ جل شانہ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل ممکن نظر نہ آئےتواس بنیاد پر عورت طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے،لیکن طلاق یا خلع دینے کااختیار عورت کے پاس نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار مرد کا ہے کہ وہ طلاق یا خلع دے یا نہ دے۔
البتہ چند اسباب ایسے ہیں جیسے شوہر کا نامرد ہونا یا مجنون ہونا یا ضروری نان نفقہ نہ دینا یا شوہر کا ایسا گم ہوجانا کہ اس کی زندگی اور موت کا علم نہ ہوسکے یا شوہر کا بے جاظلم وستم اور مارپیٹ کرتے رہنا کہ اس کے ساتھ رہنا انتہائی مشکل ہوجائے وغیرہ، جن کے ثابت ہونے کے بعد شرعاً عدالت یا جج کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی رضا مندی کے بغیر اس کی غیر موجودگی میں اس کے قائم مقام ہوکر میاں بیوی کے درمیان تفریق کردے ،جسے فسخ نکاح کہا جاتا ہے،بشرطیکہ مذکورہ اسباب، شرعی طور پر ثابت ہوجائیں۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اور اپنے دعوی کو شرعی گواہوں یعنی دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی زبانی یا تحریری گواہی کے ذریعے عدالت میں ثابت کردے یا ایک گواہی کے ساتھ عورت سے حلفیہ بیان لیا گیا ہواور عدالت نے اس ثبوت کی بنیاد پرفریقین کے درمیان فسخِ نکاح (خلع کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ بھی فسخ کے حکم میں ہو گا) کا فیصلہ کیا ہوتو اس صورت میں عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً معتبر اور نافذ ہے اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا، اگرچہ شوہر اس پر راضی نہ ہو یا عدالت میں موجود نہ ہو۔
صورت مسؤولہ میں سبب تفریق یعنی نان نفقہ نہ دینا موجود ہےلہٰذادیگر الزامات کے ساتھ اس سبب کو اگر واقعتاً مذکورہ شرعی طریقے پر ثابت کیا گیا ہے،تو تب یہ عدالتی خلع شرعاً معتبر ہے،جس کی وجہ سے یہ دوسرا نکاح بھی جائز ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/ 441)
(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)…
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)
(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
حاشية ابن عابدين (3/ 498)
قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440):
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90):
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252) دار الحديث – القاهرة:
وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد........... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 414) دار الفكر-بيروت:
(قوله: ولو قضى على غائب إلخ) أي قضى من يرى جوازه كشافعي لإجماع الحنفية على أنه لا يقضى على غائب كما ذكره الصدر الشهيد في شرح أدب القضاء، كذا حققه في البحر. والحاصل: أنه لا خلاف عندنا في عدم جواز القضاء على الغائب. وإنما الخلاف في أنه لو قضى به من يرى جوازه هل ينفذ بدون تنفيذ أو لا بد من إمضاء قاض آخر.
منح الجليل شرح على مختصر سيد خليل (8/ 371) دار الفكر،بيروت:
ولما أفاد أن القاضي يحكم على الغائب وكانت الغيبة ثلاثة أقسام قريبة وبعيدة ومتوسطة ذكرها على هذا الترتيب فقال و الغائب القريب الغيبة كثلاثة أيام مع أمن الطريق كالحاضر في سماع الدعوى عليه والبينة ۔ ابن الماجشون العمل عندنا أن تسمع الدعوى والبينة حضر الخصم أو لم يحضرفإن كان له مدفع وإلا قضى عليه في كل شيء بعد الإرسال إليه وإعلامه بمن قام عليه دعواه وما ثبت عليه وتسمية الشهود.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
28.صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


