03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 چلتے کاروبار میں بطور مضاربت سرمایہ انویسٹ کرنے کا حکم
88450مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

چلتے کاروبار کے ساتھ اگر کوئی مضاربہ ماڈل پر کام کرنے کے لئے کچھ انویسٹمنٹ دینا چاہتا ہے ،مگر پہلے سے کاروبار کی کل انویسٹمنٹ کا انداز نہ ہو تو نفع کی تقسیم کیسے کی جائے گی ؟ ( یہ انویسٹمنٹ ایک یادو پراڈکٹ میں نہیں بلکہ پورے کاروبار میں کرنا چاہتا ہے )۔

اور اگر پہلے کاروبار کی کل انویسٹمنٹ کا اندازہ لگانا ضروری ہے، تو وہ کس طرح سے لگایا جائے گا؟ چونکہ کاروبار کرنے والے نے چند ہزار سے کام شروع کیا تھا اور پھر وہ سارا منافع نکالنے کی بجائے کافی عرصہ Re-invest بھی کرتار ہا ،تو اس لئے یہ انداز ہ لگا نا اب ممکن نہیں۔

نیز چلتے کاروبار میں شراکت داری کے لئے دونوں کا حصہ نقدی کی صورت میں ہونا چاہئے، کیونکہ حضرات احناف کے ہاں شرکت بالعروض جائز نہیں۔ کسی صاحب کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا، اس نے چلتے کاروبار میں شرکت نقدی کے ساتھ کرلی اور کاروبار چلتے ایک عرصہ ہو گیا، اب وہ کیا کرے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چلتے کاروبار میں انویسٹمنٹ کی دو صورتیں جائز ہیں۔

ایک صورت یہ ہے کہ انویسٹر کے سرمایہ سے کاروبار والا جو پروڈکٹ یا مال خرید لے، وہ اس مال کو بالکل الگ رکھے اور اس کے نفع و نقصان کا حساب بھی الگ کرے۔ یہ صورت مضاربت کے طور پر جائز ہے۔ ایسے میں اس پروڈکٹ میں ہونے والا نقصان سارا کا سارا انویسٹر کا ہوگا اور نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوگا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ کاروبار کا مالک کسی انویسٹر کو اپنے پورے کاروبار میں اپنے ساتھ شریک کرے۔ یہ صورت بطورِ شرکت کے جائز ہے اور اس کے جواز کے لیے شرعاً ضروری ہے کہ جس وقت انویسٹر سرمایہ کاری کرے اس وقت پہلے سے جاری کاروبار کی قیمت لگا کر اس کا حجم معلوم کیا جائے، اور پھر انویسٹر کے سرمایہ سمیت اس پورے کاروبار کی جو قیمت بنے، اس میں مالک کے کاروبار اور انویسٹر دونوں کے سرمایوں کا تناسب طے کیا جائے تاکہ بعد میں نقصان بھی اسی طرح سے اور نفع بھی طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جا سکے۔

اس تمہید کی روشنی میں صورتِ مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں جب انویسٹر پورے کاروبار میں شریک ہونا چاہتا تھا تو اس کی رقم کاروبار میں لگاتے وقت پہلے سے جاری کاروبار کی قیمت لگانا شرعاً لازم تھا، جس کے لیے ماہرین کی رائے کے ساتھ محتاط تخمینی قیمت طے کرنا کافی تھا، ایک ایک چیز کا حساب کر کے کاروبار کی حقیقی قیمت معلوم کرنا ضروری نہیں تھا۔ لہٰذا اگر اس وقت اس طرح کاروبار کا تخمینہ مقرر نہیں کیا گیا تو شرکت کا یہ معاہدہ شرعاً فاسد ہوا ہے۔ لہٰذا اب اس کاروبار کا بٹوارہ فریقین کے بیان اور اندازے کی روشنی میں ہوگا۔ پس اگر فریقین کسی اندازے پر متفق ہو کر صلح کر لیتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ اس مسئلے کو کسی ایسی پنچائیت میں پیش کیا جائے جس میں کاروبار کے ماہرین بھی ہوں اور کوئی مستند مفتی بھی ہو، جو دونوں فریق سے اختیار لے کر ان کے بیانات اور قرائن کی روشنی میں منصفانہ تقسیم کر کے اس مسئلے کو حل کر دے۔

حوالہ جات

درر الحکام شرح غرر الاحكام: (318/2)

"( وهي) أي شركة العقد (ثلاثة) الأول ( شركة بالاموال و الثاني (شركة بالاعمال وتسمي) هذه الشركة اصطلاحا (شركة الصنائع) شركة (التقبل) وشركة (الابدان) وجه التسية ظاهر (الثالث (شركة الوجوه)۔

المعايير الشرعية (207):

" الأصل أن يكون رأس الشركة موجودات نقدية، يمكن بها تحديد مقدار رأس المال ، لتقرير نتيجة المشاركة من ربح أو خسارة ، ومع ذالك يجوز باتفاق الشركاء الأسهام بموجودات غير ) نقدية (عروض)، بعد تقويمها بالنقد لمعرفة مقدار حصة الشريك ".

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (53/5)

وشرطها أن يكون رأس المال من الأثمان وهو معلوم والربح بينهما شائعا ونصيب كل منهما معلوما وأن يكون معينا مسلما إليه فإن فقد شيء من هذه الأشياء فسدت.

(بدئع الصنائع: 6/95):

(وأما) القسم الذي للمضارب أن يعمله إذا قيل له: اعمل برأيك وإن لم ينص عليه، فالمضاربة والشركة والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره، وأن يشارك غيره في مال المضاربة شركة عنان، وأن يخلط مال المضاربة بمال نفسه، إذا قال له رب المال : اعمل برأيك، وليس له أن يعمل شيئا من ذلك، إذا لم يقل له ذلك ، أما المضاربة فلأن المضاربة مثل المضاربة.

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

01/ربیع الاول/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب