| 88467 | زکوة کابیان | صدقہ فطر کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم ملیشیا میں قسطوں کے حساب سے گھر بناتے ہیں۔ طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہمیں اپنی زمین دکھاتا ہے کہ اس پر گھر تعمیر کر دیں۔ ہم اپنی سرمایہ کاری سے مکمل گھر بنا کر اس شخص کے حوالے کر دیتے ہیں۔ وہ کچھ رقم نقد ادا کر دیتا ہے، جبکہ بقیہ رقم قسطوں میں ادا کرتا ہے، جو عام طور پر 8 سے 10 سال میں مکمل ہوتی ہے، اور کبھی کبھی تو اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ مثلاً ہم نے 70,000 (ستر ہزار) رنگٹ کی قیمت پر ایک گھر ایک بندے کے حوالے کیا اور اس نے 20,000 رنگٹ نقد دے دیے اور باقی رقم قسطوں کی صورت میں 500 رنگٹ ماہانہ دیتا ہے، تو اس طرح پوری رقم کی ادائیگی میں 8 سے 9 سال لگ جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
ان قسطوں میں ملنے والی رقم پر زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم کیا ہوگا؟ آیا ہر سال موصول شدہ قسطوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی ؟ یا پوری واجب الادا رقم پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟ اورادئیگی آیاہرسال موصول شدہ قسطوں پرہوگی یا جب تمام قسطیں موصول ہو جائیں، تب ایک ساتھ زکوٰۃ دی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گھر بنا کر ادھار فروخت سے حاصل ہونے والی تمام قسطوں پر زکوٰۃ واجب ہے، اور اس کی ادائیگی کے دو طریقے ہیں:
١۔ ایک یہ کہ قسطوں کی جس قدر رقم آپ کو مل چکی ہے اس رقم کی زکاۃ مقررہ دن میں دیگر اموالِ زکوۃ (مثلاً سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت وغیرہ جوبھی آپ کی ملک میں ہو) کے ساتھ ملاکرادا کردیں اور قسطوں کی باقی رقم جو بعد میں وصول ہو، اس کی زکاۃ وصول ہونے پر ادا کردیں۔
۲۔دوسری صورت یہ ہے کہ پوری رقم (جو وصول ہوچکی اور آپ کے پاس موجود ہو اور جو بعد میں ملے گی، یعنی قسطوں پر فروخت کردہ گھر کی مکمل قیمت )کی زکاۃ وصول ہونے سے پہلے ہی دے دیں۔ یہ بھی درست ہے۔
واضح رہے قسطوں کی مد میں ملنے والی مکمل رقم ملنے کے بعد اگر زکوۃ ادا کرنی ہے تو اس وقت گزشتہ سالوں کی زکوۃ (اگر گزشتہ سالوں میں زکوۃ فرض تھی اور زکوۃ ادا نہیں کی گئی) بھی ادا کرنی ہوگی۔
حوالہ جات
وفی الشامیة :
(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم. (كتاب الزكوة، باب زكوة المال، ج:2، ص:305، ط:ايج ايم سعيد)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


