03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرنیچربناکرقسطوں پر فروخت کیا تو زکوة کیسے اد ا کی جائے گی؟
88468خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہم قسطوں پر فرنیچر بیچتے ہیں اور پھر قسطوں کی ادائیگی ہمیں دو سے تین سال میں ہوتی ہے، تو اس کی زکوٰۃ کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ برائے کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ادھافرنیچرفروخت سے حاصل ہونے والی قسطوں پر زکوة کے وجوب اورادائیگی کا وہی حکم ہے جو سابقہ جواب میں ذکرکیاگیاہے۔

حوالہ جات

وفی بدائع الصنائع( ۲؍۸۸ زکریا)

الزکاۃ وظیفہ الملک، والملک موجود، فتجب الزکاۃ فیہ إلا أنہ لا یخاطب بالأداء للحال لعجزہ عن الأداء لبعدہ عنہ، وهٰذا لا ینفي الوجوب کما في ابن السبیل.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 305)

 (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 266)

 (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة) وعن محمد لا زكاة، وهو الصحيح، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل (أو علم به قاض) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) وسنفصل الدين في زكاة المال.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

2/3/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب