| 88465 | جنازے کےمسائل | شہید کے احکام |
سوال
کیا کوئی فرد بیمار ہوکر فوت ہو یا روڈ ایکسڈنٹ میں فوت ہوجائے تواسے شہید کہنا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حدیث میں آتا ہے جو شخص طاعون میں مرجائے یا ڈوب کر مرجائے یا جل کر مرجائے یا پیٹ کی بیماری سے مرجائے، یا ذات الجنب بیماری سے مرجائے، یا دب کر مرجائے، یا عورت دردِ زہ کی وجہ سے مرجائے، تو یہ سب شہید ہیں۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ احادیث مبارکہ میں جن بیماریوں کا صریح ذکر ہے یا ان سے ملتی جلتی تکلیف دہ بیماریوں سے مرنے والے کو شہید کہا جاسکتا ہے۔ ہر بیماری سے مرنے والے شخص کو شرعا شہید نہیں کہا جاسکتا ۔ ایکسیڈنٹ کی حادثاتی موت بھی شہادت کی موت ہے۔
واضح رہے کہ یہ شہادت آخرت کے اعتبار سے ہے، یعنی آخرت میں ایسا شخص اجر وثواب کے اعتبار سے شہیدوں میں شمار کیا جائے گا ، البتہ دنیا میں عام میت کی طرح اس کو غسل وکفن دیا جائے گا۔
حوالہ جات
وفی الطبرانی الکبیر(6/ 247):
"عن سلمان قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالزكاة ثلاث مرار، فقال: «ما تعدون
الشهيد فيكم؟» قالوا: الذي يقتل في سبيل الله، قال: «إن شهداء أمتي إذن لقليل، القتل في سبيل الله شهادة، والطاعون شهادة، والنفساء شهادة، والحرق شهادة، والغرق شهادة، والسلّ شهادة، والبطن شهادة".
وفی سنن أبی داود(5/ 27):
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله: المطعون شهيد، والغرِق شهيد، وصاحب ذات الجنب شهيد، والمبطون شهيد، وصاحب الحريق شهيد، والذي يموت تحت الهدم شهيد، والمرأة تموت بجُمع شهيد".
وفی التنقیح(4/ 27):
"وقوله: (والمبطون) قيل: المراد به من مات من إسهال، أو استسقاء وانتفاخ بطن، أو ممن يشتكي بطنه، أو من يموت بداء بطنه مطلقًا، أقول: وإنما كان بهذه المعاني من الشهداء لشدتها وكثرة أَلَمها."
الهندية(1/ 168):
"وكذلك لو انهزم المسلمون فوطئت دابة مسلم مسلما وصاحبها عليها أو سائق أو قائد غسل".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
02/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


