| 88464 | نماز کا بیان | اذان و اقامت کے مسائل |
سوال
ایک طبقہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھتے ہیں،جبک دیوبندی طبقہ اذان سے پہلے درود نہیں پڑھتے،قرآن پاک میں اللہ نے فرمایاہے: "اے مؤمنو!اللہ اور اس کے فرشتے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور تم بھی بھیجا کرو۔"تو پھر اذان سے پہلے درود پڑھنا کیوں ترجیح نہیں دی جاتی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر درود بھیجنا بہت با برکت اور اجر وثواب والا عمل ہے،تاہم اس بابرکت عمل کو اپنے وقت اور محل کے مطابق کرنے میں ثواب ہے، اذان سے پہلے درود شریف پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ تابعین، ائمہ دین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ، اذان کے ساتھ درود کا تعلق اور وقت اذان ختم ہونے کے بعد ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" جس نے اذان کے بعد درود پڑھ کر اذان کی دعا پڑھی اس کو میری شفاعت حاصل ہوگی ۔"
اس لیے ثواب کا کام یہ ہے کہ سنت کے مطابق درود شریف پڑھنے کا اہتمام کیا جائے۔
حوالہ جات
مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 145)
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : " إذا سمعتم المؤذن فقولوا :مثل ما يقول، ثم صلوا علي، فإنه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشرا ،ثم سلوا الله لي الوسيلة ،فإنها منزلة في الجنة، لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله، وأرجو أن أكون أنا هو، فمن سأل لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة . رواه مسلم۔
مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 31)
عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد "
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
02/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


