| 88502 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کے پاس مال کی ایک جنس ہو اور نصاب بھی پورا ہو تو سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور درمیان میں نصاب کا کم ہونا نقصان نہیں دےگا، بشرطیکہ سال کے دونوں اطراف میں نصاب پورا ہو، لیکن جب کئی اجناس مل کر نصاب بنا ہوا ہو مثلاً ایک تولہ سونا اور کچھ نقدی مل کر نصاب بنا اور اس پر پانچ چھ مہینے بھی گزر گئے ۔ اس کے بعد سال پورا ہونے سے پہلے ان دونوں میں سے ایک جنس مکمل طور پر ہلاک ہو کر ختم ہوگئی، مثلاً نقدی ختم ہوئی اور دوسری جنس یعنی ایک تولہ سونا رہ گیا ۔ تو کیا ایک جنس ختم ہونے کی وجہ سے دونوں اجناس سے بنا ہوا نصاب بالکلیہ ختم شمار کیا جائے گا اور گزرے ہوئے مہینے ختم شمار ہوں گے یعنی نصاب کی سابقہ تاریخ باطل ہو جائے گی یا نہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک جنس ختم ہونے کے بعد اس آدمی کے پاس وہ ختم شدہ جنس دوبارہ آجائے تو وہ درمیان والے مہینے حولان حول کا حصہ ہو ں گےیا نہیں؟یا از سرے نو نیا نصاب شمار ہو کر حولانِ حول کی نئی تاریخ تصور کی جائے گی ؟ حوالہ جات سمیت اس مسئلے کی پوری تحقیق کرکے جواب دیجیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے سال کے دوران کسی ایک جنس کا نصاب ختم ہونے کے حوالے سے اموالِ زکوة کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں:
پہلی قسم: پہلی قسم میں سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت شامل ہے، ان چیزوں میں زکوة کے وجوب کا تعلق ان کی ذات اور عین کے ساتھ نہیں، بلکہ ان کی مجموعی مالیت کے ساتھ ہوتا ہے، چنانچہ اگر ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو زکوة واجب ہو جاتی ہے، اگرچہ ان میں سے ہرجنس علیحدہ طور پر نصاب کی مقدار کو نہ پہنچے۔ اس لیے اس قسم کا حکم یہ ہے کہ ان چار اجناس میں سے اگر کوئی جنس سال کے دوران ختم ہو جائے تو اس کے ختم ہونے سے نصاب پر اثر نہیں پڑے گا، بشرطیکہ سال کے دوران بقیہ اجناس میں سے کم از کم کوئی ایک جنس باقی رہے، اگرچہ اس کی مقدار کم ہو۔ اس ایک جنس کے باقی رہنے سے یہ سمجھا جائے گا کہ نصاب کا کچھ حصہ مالیت کے اعتبار سے باقی ہے، اس لیے درمیان والے مہینے(جن میں صرف ایک جنس باقی تھی اور اس کی مقدار نصاب سے کم تھی) بھی حولانِ حول میں شمار کیے جائیں گے، لہذا اگر سال کے اول اور آخر میں اس کے ساتھ کوئی اور جنس مل گئی اور ان کی مجموعی مالیت نصاب کے برابر ہو گئی یا اسی جنس کی مقدار بڑھ کر نصاب کو پہنچ گئی تو زکوة کی ادائیگی واجب ہوگی اور سال کے دوران ختم ہونے والی جنس سےحولانِ حول ختم شمار نہیں ہو گا، کیونکہ وجوبِ زکوة کا اس کے عین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا، جیسا کہ تحفة الفقہاء، بدائع الصنائع اور البحرالرائق وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے۔
دوسری قسم: دوسری قسم کا تعلق جانوروں کے ساتھ ہے، ان میں وجوبِ زکوة کا تعلق مالیت کی بجائے ان کی ذات اور عین کے ساتھ ہوتا ہے، چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر پانچ اونٹوں کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے کم ہو تو بھی ان پر زکوة واجب ہو گی، کیونکہ اس میں مالیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، نیز اس قسم میں جب وجوبِ زکوة جانور کی ذات کے ساتھ متعلق ہے تو اس میں ہر جنس کا نصاب علیحدہ طور پر دیکھا جائے گا، دو یا زیادہ جنسوں کو آپس میں ملایا نہیں جائے گا،اسی طرح سال کے دوران کسی ایک جنس کا نصاب کم ہو جانے سے اس کے ساتھ دوسری جنس کے نصاب کو نہیں ملایا جائے گا، بلکہ اگر اسی جنس کی مقدار میں اضافہ ہو جائے اور وہ سال کے آخر میں نصاب کو پہنچ جائے تو زکوة واجب ہو گی، ورنہ اس جنس کی زکوة واجب نہیں ہو گی، کیونکہ زکوة کا تعلق اس جنس کی ذات اور عین کے ساتھ تھا، جب وہ جنس سال کے آخر میں نصاب کے برابر باقی نہ رہی تو زکوة ذمہ سے ساقط ہو گئی اور اب اس جنس میں نئی تاریخ کا اعتبار کیا جائے گا۔ لہذا اگر کسی کی ملکیت میں دو قسم کے جانور مثلا :اونٹ اور بکریاں ہوں تو ہر ایک جنس کے ساتھ وجوبِ زکوة کا علیحدہ حکم متعلق ہو گا،کسی ایک جنس کے ختم ہونے سے دوسری جنس پر اثر نہیں پڑے گا، مثلا اگربکریاں ختم یا نصاب سے کم ہو جائیں تو اونٹوں کے نصاب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اگر اونٹ ختم یا نصاب سے کم ہو جائیں تو بکریوں کا نصاب برقرار رہے گا۔
حوالہ جات
تحفة الفقهاء (1/ 273) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
ولو استبدل أموال التجارة كلها في الحول بجنس آخر لم ينقطع الحول وإن هلك الجنس الأول لأن الأول قائم من حيث المعنى وهو الماليةوكذلك الجواب في الدراهم والدنانير إذا باعها بجنسها أو بخلاف جنسها أعني الدراهم أو بالدنانير فإنه لا ينقطع حكم الحول لأن الحكم ثمة متعلق بالمعنى أيضا وعلى قول الشافعي ينقطع لأنهما جنسان مختلفان فعلى قول مذهبه لا تجب الزكاة في أموال الصيارفة لوجود الاستبدال في كل ساعة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 15) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
وأما الثاني وهو بيان ما يقطع حكم الحول وما لا يقطع فهلاك النصاب في خلال الحول يقطع حكم الحول حتى لو استفاد في ذلك الحول نصابا يستأنف له الحول.
لقول النبي: - صلى الله عليه وسلم - «لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول» ، والهالك ما حال عليه الحول.
وكذا المستفاد بخلاف ما إذا هلك بعض النصاب ثم استفاد ما يكمل به؛ لأن ما بقي من النصاب ما حال عليه الحول فلم ينقطع حكم الحول.
ولو استبدل مال التجارة بمال التجارة وهي العروض قبل تمام الحول لا يبطل حكم الحول سواء استبدل بجنسها أو بخلاف جنسها بلا خلاف؛ لأن وجوب الزكاة في أموال التجارة يتعلق بمعنى المال وهو المالية والقيمة فكان الحول منعقدا على المعنى وأنه قائم لم يفت بالاستبدال.
وكذلك الدراهم والدنانير إذا باعها بجنسها أو بخلاف جنسها بأن باع الدراهم بالدراهم أو الدنانير بالدنانير أو الدنانير بالدراهم أو الدراهم بالدنانير وقال الشافعي: ينقطع حكم الحول فعلى قياس قوله: لا تجب الزكاة في مال الصيارفة لوجود الاستبدال منهم ساعة فساعة. وجه قوله أنهما عينان مختلفان حقيقة فلا تقوم إحداهما مقام الأخرى فينقطع الحول المنعقد على إحداهما كما إذا باع السائمة بالسائمة بجنسها أو بخلاف جنسها.
ولنا أن الوجوب في الدراهم أو الدنانير متعلق بالمعنى أيضا لا بالعين، والمعنى قائم بعد الاستبدال فلا يبطل حكم الحول كما في العروض بخلاف ما إذا استبدل السائمة بالسائمة؛ لأن الحكم هناك متعلق بالعين وقد تبدلت العين فبطل الحول المنعقد على الأول فيستأنف للثاني حولا.
ولو استبدل السائمة بالسائمة فإن استبدلها بخلاف جنسها بأن باع الإبل بالبقر أو البقر بالغنم ينقطع حكم الحول بالإجماع، وإن استبدلها بجنسها بأن باع الإبل بالإبل أو البقر بالبقر أو الغنم بالغنم، فكذلك في قول أصحابنا الثلاثة، وقال زفر: لا ينقطع وجه قوله أن الجنس واحد فكان المعنى متحدا فلا ينقطع الحول كما إذا باع الدراهم بالدراهم ولنا أن الوجوب في السوائم يتعلق بالعين لا بالمعنى ألا ترى أن من كان له خمس من الإبل عجاف هزال لا تساوي مائتي درهم تجب فيها الزكاة؟ فدل أن الوجوب فيها تعلق بالعين والعين قد اختلفت فيختلف له الحول.
وكذا لو باع السائمة بالدراهم أو بالدنانير أو بعروض ينوي بها التجارة أنه يبطل حكم الحول الأول بالاتفاق؛ لأن متعلق الوجوب في المالين قد اختلف إذ المتعلق في أحدهما العين، وفي الآخر المعنى.
المبسوط للسرخسي (2/ 172) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
(قال) وإذا كان النصاب كاملا في أول الحول وآخره فالزكاة واجبة، وإن انتقص فيما بين ذلك وقتا طويلا ما لم ينقطع أصله من يده ومال السائمة والتجارة فيه سواء عندنا..................... (ولنا) أن اشتراط كمال النصاب ليحصل به صفة الغنى للمالك، والغنى معتبر عند ابتداء الحول لينعقد الحول على المال وعند كماله لتجب الزكاة فأما فيما بين ذلك فليس بحال انعقاد الحول ولا بحال وجوب الزكاة فلا يشترط غنى المالك فيه إنما هو حال بقاء الحول المنعقد فلا بد من بقاء شيء من المحل لبقاء الحول، فإذا هلك كله لم يبق شيء من المحل صالحا لبقاء الحول، وكذلك إذا جعلها علوفة أو أعدها للاستعمال لم يبق شيء من المحل صالحا لبقاء الحول، فأما بعد هلاك البعض فبقي المحل صالحا لبقاء الحول.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 235) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
ولو استبدل مال التجارة بمال التجارة، وهي العروض قبل تمام الحول لا يبطل حكم الحول سواء استبدلها بجنسها أو بخلاف بجنسها بلا خلاف؛ لأن وجوب الزكاة في أموال التجارة يتعلق بمعنى المال، وهو المالية والقيمة فكان الحول منعقدا على المعنى، وأنه قائم لم يفت بالاستبدال وكذلك الدراهم والدنانير إذا باعها بجنسها أو بخلاف جنسها بأن باع الدراهم بالدراهم أو الدنانير بالدنانير أو الدراهم بالدنانير.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
6/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب |


