| 88501 | وقف کے مسائل | قبرستان کے مسائل |
سوال
ایک مسجد کے ایک طرف میں ایک پرانی قبر تھی، مسجد کی توسیع کی وجہ سے اب وہ قبر مسجد کی حدود میں آ کر ایک طرف کی صفوں کے بیچ میں آئی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس قبر کے اوپر ( کچھ فاصلے سے ) اگر پکی چھت اس غرض سے بنائی جائے کہ لوگ اس کے اوپر نماز پڑھ سکیں اور اس کے اوپر آنا جانا بھی کر سکیں۔سوال یہ کہ اس طرح کی قبر پر چھت بنا کر اس کے اوپر نماز اور آنے جانے کا شرعی حکم کیا ہوگا ؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ قبر کی جگہ قبرستان کے لیے باقاعدہ وقف نہیں ہے، بلکہ اپنی ذاتی زمین میں میت کو دفن کیا گیا، اس کے بعد قبر کے نزدیک جگہ مسجد کے لیے وقف کی گئی، اب مسجد کی توسیع کا وقت آیا تو یہ قبر مسجد کے صحن میں آ رہی ہے اور یہ قبر کافی پرانی ہے، ان کے کسی دادا وغیرہ کی قبر ہے۔
وضاحت:سائل نے بتایا کہ قبر کو بنے ہوئے ساٹھ ستر سال ہو چکے ہیں اور ابھی مسجد کا فرش بنایا نہیں، بلکہ فتوی کے مطابق بنائیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق چونکہ قبر کی جگہ قبرستان کے لیے باقاعدہ وقف نہیں ہے، بلکہ ذاتی مملوکہ جگہ پر قبر بنائی گئی ہے اورقبر کو بنے ہوئے ساٹھ ستر سال گزر چکے ہیں اور اتنے عرصہ میں عام طور پر قبر میں میت ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اگر مالک یہ جگہ مسجد میں شامل کرنے کی اجازت دےتو بہتر یہ ہے کہ قبر کو باقی رکھنے کی بجائے قبر کی جگہ کو برابر کر کے اس کو مسجد کے صحن میں شامل کرلیا جائے، فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر ذاتی جگہ پر میت کو دفن کیے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہو اور میت کے ختم ہونے کا غالب گمان ہو تو اس جگہ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے، لہذا ایسی صورت میں اس جگہ کو مالک کی اجازت سے نماز کے لیےمسجد کے صحن میں شامل کرنا بدرجہ اولی جائز ہو گا۔ باقی قبر کی جگہ کو برابر کرنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ مسجد کا صحن بھی برابر ہو جائے گا اور مستقبل میں اس قبر پر شرک وبدعت اور رسوم ورواج کا بھی اندیشہ بھی نہیں رہے گا۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 179) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 174) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
وأما المقبرة الداثرة إذا بُني فیها مسجد لیصلي فیها، فلم أر فیه بأسًا؛ لأن المقابر وقف، وکذا المسجد فمعناهما واحد".
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (1/ 246) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
6/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سفیر احمد ثاقب صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


