| 88490 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سائل کاپانچ مرلےكا مکان وراثتی ہے،اس کا انتقال اور رجسٹری نہیں ہے۔اس مکان میں تین بھائی قیوم نواز،طاہراورمحمد قیصر رہتے ہیں۔ ایک بھائی محمد قیصر غیر شادی شدہ جو کہ تقریبا 20 سال سے لاپتہ ہے ،جس کی زندگی اور موت کا کوئی پتہ نہیں۔سائل کی چار بہنیں ہیں:
- دلشاد بی بی (والد کے انتقال کے بعد فوت ہو گئی۔)
- عائشہ بی بی (حیات ہیں)۔
- حمیدہ بی بی (والد کے انتقال سے پہلے فوت ہو گئی ۔)
- کنیز فاطمہ(والد کے انتقال کے بعد فوت ہو گئی ۔)
مکان کا وراثتی اور شرعی فتویٰ جاری کیا جائے، تاکہ وراثتی تقسیم شرعی طور پر کی جا سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لا پتہ بھائی محمد قیصر جس کی موت و حیات کا کوئی علم نہ ہو، جب تک اس کی موت کا یقینی طور پر علم نہ ہوجائے،یا طویل عرصہ گزرنے کے بعد عدالت اس کی موت کا فیصلہ کردے،یا اتنا طویل عرصہ وہ غائب رہے کہ اس کے ہم عمر لوگ انتقال کرجائیں جس کی مدت راجح قول کے مطابق نوے سال ہے۔تب تک اس کا حصہ ورثہ میں سے کسی معتمد اور امانت دار شخص کے پاس بطور امانت رکھوایا جائے،پھر جب مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک ذریعےسے اس کی موت کا فیصلہ کیا جائے گا تو اس وقت اس شخص کے جو ورثہ زندہ ہوں گے ،یہ حصہ ان میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
حمیدہ بی بی کا انتقال والد کی زندگی میں ہوا تھا ان کو وراثت میں حصہ نہیں ملے گا۔
اگرمرحوم محمد رمضان کے بوقت وفات یہی ورثہ زندہ تھے(تین بیٹے، تین بیٹیاں)ان کے علاوہ کوئی اور وارث زندہ نہیں تھا،تومرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اسے ورثہ میں تقسیم کیا جائےگا جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکان کو نو حصوں میں تقسیم کیا جائیگا جن میں سے ہربیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا۔
آسانی کے لیے درج ذیل نقشہ ملاحظہ فرمائیں؛
|
نمبر شمار |
ورثاء کی تفصیل |
عددی حصے |
فیصدی حصہ |
|
1 |
محمد قیصر |
2حصے |
22.22% |
|
2 |
طاہر |
2حصے |
22.22% |
|
3 |
قیوم نواز |
2حصے |
22.22% |
|
4 |
عائشہ |
1حصہ |
11.11% |
|
5 |
دلشاد بی بی |
1حصہ |
11.11% |
|
6 |
کنیز فاطمہ |
1حصہ |
11.11% |
حوالہ جات
قال الله تعالى: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ }[النساء:11]
وبعده يحكم بموته في حق ماله يوم علم ذلك) أي موت أقرانه (فتعتد) منه (عرسه للموت ويقسم ماله بين من يرثه الآن و) يحكم بموته (في) حق (مال غيره من حين فقده فيرد الموقوف له إلى من يرث مورثه عند موته) لما تقرر أن الاستصحاب وهو ظاهر الحال حجة دافعة لا مثبتة (ولو كان مع المفقود وارث يحجب به لم يعط) الوارث (شيئا، وإن انتقض حقه) به (أعطي أقل النصيبين) ويوقف الباقي (كالحمل) ومحله الفرائض، ولذا حذفه القدوري وغيره.( الدر المختار مع ردالمحتار: (4/ 298)
ولا يستحق ما أوصى له إذا مات الموصي بل يوقف قسطه إلى موت أقرانه في بلده على المذهب) لأنه الغالب".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: على المذهب)وقيل يقدر بتسعين سنة بتقديم التاء من حين ولادته واختاره في الكنز، وهو الأرفق هداية وعليه الفتوى ذخيرة، وقيل بمائة، وقيل بمائة وعشرين، واختار المتأخرون ستين سنة واختار ابن الهمام سبعين لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين» فكانت المنتهى غالبا. وذكر في شرح الوهبانية أنه حكاه في الينابيع عن بعضهم. قال في البحر: والعجب كيف يختارون خلاف ظاهر المذهب مع أنه واجب الاتباع على مقلد أبي حنيفة. وأجاب في النهر بأن التفحص عن موت الأقران غير ممكن أو فيه حرج، فعن هذا اختاروا تقديره بالسن. اهـ.
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
ھ1447ربیع الاول/6
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


