03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آفاقی کا طائف سے حج قران کرنا
88496حج کے احکام ومسائلحج قران اور تمتع کا بیان

سوال

میں حج کی تینوں اقسام کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں: حج اِفراد، قران اور تمتع۔ اِفراد میں احرام صرف حج کے لئے باندھا جاتا ہے، اور یہ طریقہ مقامی رہائشیوں کے لئے ہے۔ تمتع میں سب سے پہلے آدمی احرام باندھ کر عمرہ کرتا ہے۔ عمرہ مکمل کرنے کے بعد احرام کھول دیتا ہے۔ پھر ۸ ذوالحجہ کو دوبارہ احرام باندھ کر حج کرتا ہے۔ قران میں عمرہ اور حج دونوں ایک ہی احرام میں کیے جاتے ہیں، اور یہ سنت بھی ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے  کہ پاکستان سے عموماً حج کی پروازیں حج سے ۲۰ سے ۲۵ دن پہلے شروع ہوجاتی ہیں۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان سے کوئی شخص صرف عمرہ کی نیت کرے، سعودی عرب جائے، عمرہ ادا کرے اور پھر احرام کھول دے، باقی دن بغیر احرام کے گزارے. پھر وہ شخص ۶ یا ۷ ذوالحجہ کو زیارت کے لئے طائف چلا جائے اور وہاں سے حج قران کی نیت کرے، مکہ آئے، عمرہ کرے اور پھر ۸ ذوالحجہ کو بغیر احرام کھولے منیٰ روانہ ہو، حج ادا کرے اور ۱۰ ذوالحجہ کو رمی، قربانی اور حلق کے بعد احرام کھولے، تو کیا یہ طریقہ درست ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور حج قران سے متعلق صورت  درست نہیں، اگر کسی نے اس طرح ادا کیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔

حوالہ جات

المتمتع  الآ فاقي  اذا خرج الی المدینة المنورة لا یجوز لہ القِران وقت الرجوع. وکذا لو خرج إلی الآفاق لحاجة فقرن لا یکون قارناً عند أبي حنیفة، وعلیہ رفض أحدھما ولا یبطل تمتعہ؛ لأن الأصل عندہ أن الخروج في أشھر الحج إلی غیر أھلہ کالإقامة بمکة فکأنہ لم یخرج وقرن من مکة ،و اما عندھما  کالرجوع الی اھلہ،فاذا خرج بطل تمتعہ۔وفی  الھامش" الفتوی علی قول ابی حنیفة.( غنیۃ الناسک:343،344)

فمن كان من حاضري المسجد الحرام، فلا تمتع ولا قران، فإن فعل: لم يكن متمتعًا، وكان عليه دم للإساءة، لا دم قران ولا تمتع.( شرح مختصر الطحاوي للجصاص : 2/ 503)

 (والمكي ومن في حكمه يفرد فقط) ولو ‌قرن ‌أو ‌تمتع جاز وأساء، وعليه دم جبر.

(الدر مع الرد:2/ 539)

وإذا خرج المكي إلى الكوفة لحاجة فاعتمر فيها من عامه وحج لم يكن متمتعا، وإن قرن من الكوفة كان قارنا " اهـ ونقله في الجوهرة معللا موضحا فراجعها. وعلى هذا فقول المتون ولا تمتع ولا قران لمكي معناه نفي المشروعية والحل، ولا ينافي عدم التصور في أحدهما دون الآخر، والقرينة على هذا تصريحهم بعده ببطلان التمتع بالإلمام الصحيح فيما لو عاد المتمتع إلى بلده، وتصريحهم في باب إضافة الإحرام بأنه إذا قرن ولم يرفض شيئا منهما أجزأه، هذا ما ظهر لي فاغتنمه فإنك لا تجده في غير هذا الكتاب. (الدر مع الرد:2/ 539)

انس رشید ولد ہارون رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

6/ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب